سانحہ بلدیہ فیکٹری کے 6 سال مکمل‘لواحقین کوتاحال انصاف نہ مل سکا

96

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 6 سال بیت گئے،انسانیت سوز واقعے میں جاں بحق ہونے والے 250 سے زائد افراد کو تاحال انصاف نہ مل سکا، متاثرین کی آنکھیں آج بھی کسی مسیحا کو تلاش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔11 ستمبر 2012ء کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع ٹیکسٹائل فیکٹری میں لگنے
والی آگ نے 250 سے زائد محنت کشوں کو راکھ میں بدل ڈالا۔واقعے کی تحقیقات ہوئی تو بڑا انکشاف سامنے آیا،آگ لگی نہیں لگائی گئی تھی، وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا 20کروڑ روپے کا بھتا تھا،تحقیقات آگے بڑھیں تو سیاست سے وابستہ بڑے بڑے افراد کے نام سامنے آئے،کئی گرفتاریاں ہوئیں، جے آئی ٹی بھی بنی لیکن نہ کسی کی ماں کے آنسو رک سکے، نہ ہی جوان بیٹوں کی میت کو کندھا دینے والے باپ کا بوجھ ہلکا ہوا،سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو 6 سال گزر جانے کے بعد آج بھی جاں بحق افراد کے لواحقین کا غم تازہ ہے اور وہ آج بھی انصاف کے متلاشی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.