ویژن کی بات کرنے والوں کے پاس خوابوں کے سوا کچھ نہیں،مولانا فضل الرحمن

198

جمیعت علما اسلام( ف )کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ویژن کی بات کرنے والوں کے پاس خوابیدہ خوابوں کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔

 اسلام آباد میں جمیعت علمائے اسلام کی رکنیت سازی کی تقریب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جمعیت علما ءاسلام پاکستان کی ایک مسلمہ سیاسی جماعت ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کوایک بڑی سیاسی قوت کے طورپرتسلیم کیا جارہا ہے اورکسی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ یاملک کے داخلی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے نہیں بلکہ ان کوناراض کرکے ہم نے یہ پروازکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے اگرمسلسل کوئی طاقت رکاوٹ بنی رہی ہے تووہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہے ،ہم ملک کے نظام پران کے سپرمیسی سے اختلاف رکھتے ہیں اورہمارے ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ آئین کے دائرہ کارکے اندررہتے ہوئے تمام فرائض سرانجام دیئے جائیں،اس طریقے سے تمام ادارے اپنے آئینی ذمہ داروں سے بھی خوش اسلوبی کے ساتھ عہدہ برآں ہوسکیں گے اورعوام اوران کے درمیان احترام اوراعتمادکارشتہ بھی برقراررہے گا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی اضطراب کاشکارہے،سترسال کے بعدچین کے ساتھ ہماری گہری اورمیٹھی دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوئی، نئی حکومت آنے کے بعداس اعتمادکوپھردھچکہ لگاہے،سی پیک منصوبہ جوپاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے آج وہ عدم اعتمادکاشکارہوتاچلاجارہاہے،جن کے پاس کوئی وژن نہیں ہےوہ ساری زندگی قوم کونئے وژن ،نئے وژن کی باتیں کرتے رہے لیکن نئے وژن کی جگہ پرسوائے خوابیدہ خوابوں کے ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے،اس لئے ہم سفارتی محاذپرپاکستان کے مستقبل کوتاریک دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اورمشرق کی لڑائیوں میں پاکستان ایک بارپھراس کی آماجگاہ بنتا چلا جارہا ہے،اور ہمارے پاس کوئی ٹھوس پالیسی اورٹھوس نظریہ موجود نہیں ہے،عوام نے دیکھا کہ قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوگیا ہے اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اس کی پشت پرہے، ہمارے ملک کانظام جن لوگوں کے ہاتھ میں گیاہے،وہ پاکستان میں اس کے ازسرنوکردارکے لئے انہیں سپورٹ کررہے ہیں اورملکی معیشت کوازسرنواس طرح تربیت دیاجارہاہے کہ اس کواس بین الاقوامی معیشت کے تابع کردیاجائے جو بین الاقوامی معیشت اس وقت یہودی لابی کے کنٹرول میں ہے۔

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ حکمران اپنے آپ کوایکسپوزکرتے چلے جارہے ہیں،مہنگائی چندہی دنوں میں اسمان کوچھونے لگی ،تین گناقیمتیں بڑھ گئیں،غریب آدمی کے استعمال کےاشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے،ملک کے لئے مشکلات پیداہورہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں دینی مدارس باقاعدہ ،منظورشدہ رجسٹرڈنیٹ ورک ہے،تمام مکاتب فکرکے مدارس اسی ایک نیٹ ورک کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن یک طرفہ طورپرحکومت نے پورے ملک کے مدارس کی رجسٹریشن کومنسوخ کردیاہے اورپھرتعلیمی اداروں کامعاملہ نیکٹاکے حوالے کردیاگیاہے۔

انہوں نے کہا کہ نیکٹاتودہشت گردی کوکاؤنٹرکرنے کاایک ادارہ ہے،حکمران نے دینی تعلیمی ادارے اس کے حوالے کئے،ہم اس کوتسلیم نہیں کریں گے،نئے فارم جوچھپے ہیں ہم ان فارموں کوسربازارپھاڑیں گے ،اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے،ہم اس پرمکمل مزاحمت کے لئے تیارہیں،حکومت بتائے کتنی تیارہے۔

انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع قربانی کی کھالیں اکھٹی کرنے والے مدارس کے خلاف مقدمےدرج کیے گئےاور عدالتوں سے انہیں سزائیں دی جا رہی ہیں ،کیاہم ریاست مدینہ کی طرف بڑھ رہے ہیں،یاریاست مدینہ کے تصورکوختم کرنے کی طرف جارہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ