عیسائیوں کی شادیوں کے رجسٹریشن کیس کا فیصلہ محفوظ 

68

اسلام آباد( آن لائن ) عدالت عظمیٰ نے عیسائی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے عیسائی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص مسلمانوں کی شادیوں کو رجسٹرڈ کرتا ہے وہی عیسائیوں کی شادیوں کوبھی رجسٹرڈ کرے ۔عیسائی برادری کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ یونین کونسل پیدائش، اموات اور شادیوں کی رجسٹریشن کی مجاز
اتھارٹی ہے یونین کونسلز عیسائیوں کی شادیوں کی رجسٹریشن سے انکاری ہیں، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ عیسائیوں کی شادی رجسٹریشن کے لیے کسی ایک فرد کو یونین کونسل میں مختص کیاجاسکتا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ پنجاب بتائیں کہ مسیحیوں کی شادیوں کی رجسٹریشن میں کیا رکاوٹ ہے ،پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ ابھی تک عیسائی برادری نے ضابطے کے مطابق اپلائی نہیں کیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے نظام کو آسان کیوں نہیں بنایا جاتا ؟ ایک سرکلر جاری کریں جو شخص مسلمانوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کرتا ہے وہی عیسائیوں کی شادیوں کی بھی رجسٹریشن کرے ،چیف جسٹس نے چیئرمین نادرا کو ہدایات دیں کہ جو بھی آپ کے پاس کسی بھی دستاویز کی ترمیم کے لیے آئے اسے ترمیم کرکے دیں عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کے مطابق عیسائیوں کو مسیحی لکھا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ