سینیٹ قائمہ کمیٹی ،چینی بنانے کیلیے زہریلا مادہ استعمال کرنے پر مشتاق احمد خان برہم 

161

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں تمام شوگر ملیں چینی بنانے میں زہریلا مادہ استعمال کررہی ہیں جس سے کینسر پھیل رہا ہے۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں اسپتالوں کا فضلہ درآمد کر کے اس سے بچوں کے کھلونے اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان تیار کیا جا رہا ہے۔ وزارت کے حکام نے کمیٹی سے اسپتالوں کے فضلے کی درآمد پر پابندی لگانے کی درخواست کر دی۔ گوادر میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو ٹھیک کرنے کی پیشکش کی مگر مسترد کر دی گئی۔ کمیٹی نے وزارت کو اگلے 10 سال کا لائحہ عمل، رکاوٹوں اور ضروریات کے حوالے سے جامع دستاویز بنانے کی ہدایت کر دی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمدخان نے حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈیڑھ سال سے فعال نہ ہونے پر وزارت کے حکام پر شدید
برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر پہلے کھڑے تھے آج بھی وہاں پر موجود ہیں۔ رکاوٹوں کے بغیر آپ کی رفتار چیونٹی سے بھی سست ہے۔ کمیٹی میں سینیٹر اعظم سواتی نے عجب کرپشن کی غضب کہانیاں سنا کر ارکان کو پریشان کیا۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ 18ویں ترمیم نے وفاق کو نقصان پہنچایا اس پر بات کرنا بھی گناہ بنا دیا گیا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ بات کر سکتے ہیں کمیٹی میں رضا ربانی موجود نہیں ہیں۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی مشتاق احمد خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حکام نے بریفنگ دینی تھی مگر وقت کی کمی کی وجہ سے ایجنڈا مکمل نہ ہو سکا اور صرف گزشتہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد پر ہی بات ہو ئی ۔ چیئرمین کمیٹی مشتاق احمد نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ نظرانداز کیا گیا ہے مگر اب اس کو مل کر آگے بڑھائیں گے۔ پی ٹی آئی حکومت سے لوگوں کی بہت زیادہ توقعات ہیں امید ہے حکومت عوامی توقعات اور اپنے منشور پر عمل کرے گی۔ حکومت ریاست مدینہ کی بات کرتی ہے مگر مدینے کی ریاست میں سپریم لا قرآن و سنت تھا اور غربت ختم ہو گئی تھی۔ جدید سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی، ریاست مدینہ میں کوئی مقروض نہیں تھا وہ پیٹ پر پتھر باندھ لیتے مگر قرض نہیں لیتے تھے ،جن قوموں نے جامعات اور انسانوں پر خرچ کیا وہ قومیں آگے بڑھ گئی ہیں۔ امید ہے حکومت میٹرو اور اورنج لائن کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی پر بھی خرچ کرے گی۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ بجٹ جی ڈی پی کا 2سے 3فیصد کیا جائے مگر یہ 0.0025 فیصد ہے جو کہ 10.8ارب روپے بنتا ہے اور اس بجٹ میں ترقیاتی، غیرترقیاتی اور تحقیقی شامل ہے۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد نصاب تعلیم سے مرکزیت ختم ہوگئی ہے۔ تعلیم وفاق کے پاس ہونی چاہئے تھی۔ 18ویں ترمیم پر بات کرنا بھی گناہ بنا دیا گیا ہے۔ صابر شاہ نے کہا کہ اسکولوں میں 100 سال پرانی کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں جس پر کمیٹی نے کثرت رائے سے سفارش کی کہ وزارت کا بجٹ جی ڈی پی کا 2 فیصد کیا جائے اور الگ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنائی جائے۔ وزارت نے پانی کے ذخیرہ اور پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کے حوالے سے متعارف کرائی جانے والی ٹیکنالوجی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا جس پر کمیٹی نے ٹیکنالوجی کے بارے میں ریڈیو، سرکاری ٹی وی اور میڈیا پر آگاہی پروگرام کرنے کی سفارش کی۔ اعظم سواتی نے کہا کہ انسپکٹرز پہلے 4 سے5 لاکھ رشوت لیتے تھے۔ آج کروڑوں میں لے رہے ہیں میں نے 11 شوگر ملوں کو کینسر پھیلانے پر بند کیا مگر انہوں نے 6 کروڑ والا وکیل کر کے حکم امتناع لے لیا۔ جس پر وزارت کے حکام نے بتایا کہ وہ کیس آج بھی چل رہا ہے اور انکشاف کیا کہ تمام شوگر ملیں چینی کا رنگ سفید کرنے کے لیے جو مادہ استعمال کرتی ہیں اس سے کینسر پھیل رہا ہے۔ وزارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت نے حلال فوڈ اتھارٹی ابھی تک فعال نہیں کی۔ اس کے چیئرمین کی تعیناتی کے حوالے سے مسائل ہیں جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال سے حلال فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے جہاں پر کھڑے تھے۔ آج بھی وہاں پر موجود ہیں۔ اس طرح اتھارٹی قائم نہیں ہو گی۔ اعظم سواتی نے کمیٹی کو این آئی او کے ایک افسرکی کہانی بھی سنائی جس نے 10 کروڑ کی کشتی 50 کروڑ میں حکومت کو فروخت کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ