مدارس کا نظام چھیڑنا حکومت کیلیے وبال جان بن جائیگا،لیاقت بلوچ 

103

لاہور(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مدارس کے نظام کو تلپٹ کرنے کا اقدام حکومت کے لیے وبال جان بن جائے گا ،غیر طبقاتی اور یکساں نظام تعلیم کی پالیسی کے خد و خال واضح کیے جائیں صرف اعلانات سے فساد نہ پیدا کیا جائے، قادیانیوں کی سرپرستی حکومت کو مہنگی پڑے گی ۔ اسلامیان پاکستان اسلامی قوانین کی حفاظت کریں گے،انتخابات دھاندلی زدہ تھے ‘ حکومت ضد نہ کرے ‘ پارلیمانی کمیشن بنادے‘ 18ویں ترمیم کو بائی پاس کرکے وفاق صوبائی حقوق اور خود مختاری میں دخل اندازی نہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اجتماع ارکان اور متحدہ مجلس عمل کی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ 2018 ء کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے ۔ حکومت ضد نہ کرے اور پارلیمانی کمیشن بنادے ۔ تحقیقات ہو جائیں تمام حقائق منظر عام پر آجائیں گے ۔ نئی حکومتیں قائم ہو گئی ہیں لیکن ہر آنے والا دن حکمران جماعت کو بے نقاب کررہاہے کہ حکومت چلانے کی کوئی تیاری نہیں روزانہ کی بنیاد پر بہترین خبر دینے کے لیے اقدامات ہورہے ہیں ۔ بجلی گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیاہے، مہنگائی مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر ریٹ میں استحکام نہیں ۔ عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ18ویں آئینی ترمیم کو بائی پاس کر کے وفاق صوبائی حقوق اور خود مختاری میں دخل اندازی نہ کرے ۔ مدارس کے نظام کو تلپٹ کرنے کا اقدام حکومت کے لیے وبال جان بن جائے گا ۔ غیر طبقاتی اور یکساں نظام تعلیم کی پالیسی کے خد و خال واضح کیے جائیں صرف اعلانات سے فساد پیدا نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کی سرپرستی حکومت کو مہنگی پڑے گی ۔ اسلامیان پاکستان اسلامی قوانین کی حفاظت کریں گے ۔ انسانی اور اقلیتوں کے حقوق کے واویلے سے پاکستان کو لبرل اور سیکولر ملک نہیں بنایا جاسکتا ۔ آئین پاکستان ہر پاکستانی کے حقوق کی حفاظت کرتاہے۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ پاک چین دوستی ہرآزمائش میں سرخرو ہوئی ہے ۔ سی پیک پر بروقت عملدرآمد خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے ۔ امریکا بھارت اور اسرئیل کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ