صدر نیشنل بینک تقررکیس، حکومت کو 24ستمبر تک جواب داخل کرانے کی مہلت

49

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر نیشنل بینک کے تقرر کے معاملے پر اٹارنی جنرل اور وزارت خزانہ کو جواب داخل کرانے کے لیے 24ستمبر تک کی مہلت دے دی ہے ، عدالت نے حکم دیا ہے کہ تحریری جواب داخل نہ کرانے کے معاملے پر سیکرٹری خزانہ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر سوالات کے جواب دیں۔جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کی جانب سے فیض رسول جیلانی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت
سے استدعا کی کہ سعید احمد خان ایک باقاعدہ کنٹریکٹ کے تحت نیشنل بینک کے صدر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے ،دوران ملازمت انہوں نے قانون و ضوابط کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ کبھی ان کے خلاف کوئی چارج فریم ہوا اور نہ ہی کبھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا،ان کو سنے بغیر کسی قسم کی کارروائی اور معطلی کو غیر قانونی قرار دیا جائے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدرسعید احمد خان کے خلاف سیکرٹری خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔دوران سماعت نیشنل بینک کے ایک نمائندے کی جانب سے کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا ۔بعدازاں عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ وزارت خزانہ ایک ہفتے کے اندر اندر عدالت میں تفصیلی جواب داخل کرائے اور صدر نیشنل بینک کومعطل کیے جانے کی وجوہات بیان کرے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جو اب داخل نہ کرانے کی صورت میں سیکرٹری خزانہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر عدالت کو آگاہ کریں۔بعدازاں کیس کی سماعت24 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ