آلودگی و تجاوزات‘سینیٹ کمیٹی کا چیئرمین سی ڈی اے کیخلاف کارروائی کا انتباہ 

67

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی میں چیئرمین سی ڈی اے مئیر اسلام آباد دیگر اعلیٰ حکام کی عدم شرکت پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی کہ اگر آئندہ اجلاس میں شرکت نہ کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور تجاوزات میں سی ڈی اے کی غفلت اور ملی بھگت بھی شامل ہے قائمہ کمیٹی نے وفاقی دارلحکومت میں ہونے والی تمام تجاوزات کی تفصیلات طلب کرلیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس پیر کے روز سینیٹر ستارہ ایاز کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل پاکستان انوائرومنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے بتایا کہ اسلام آبادہائیکورٹ کے علاوہ کسی عمارت کے لیے ماحولیاتی این اوسی نہیں لیاگیا اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے کلائمیٹ چینج ملک امین اسلم نے کہا کہ سی ڈی اے اورسٹی گورنمنٹ میں اختیارات اور وسائل کیلیے رسا کشی چل رہی ہے 2 اداروں کی جنگ میں اسلام آباد گنداہو رہا ہے،کمیٹی کو بر یفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ملک میں 2 مرتبہ شجرکاری کی جاتی ہے ا س سال موسم برسات میں ملک کے لیے شجرکاری مہم کے سلسلے میں تمام صوبوں کی مشاورت سے 47 ملین پودے لگانے کا حدف مقرر کیا گیا ۔ اسلام آباد میں 58 ہزار پودے لگائے گئے اس موقع پر سیکرٹری وزارت کلائیمٹ چینج کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تو اس حوالے سے دلچسپی لے رہی ہے مگر صوبوں اور وفاق کے درمیان اس بنیادی مسئلے پر خلا موجود ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تمام صوبوں کو بلایا گیا ہے ان کی موجودگی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرلیں گے اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 اور ایف 11 میں گرین بلٹ کو ختم کرکے نئے پلازے تعمیر کرنے کے حوالے سے کمیٹی نے تفصیلات طلب کی جس پر سیکرٹر ی کلائمیٹ چینج نے بتایا کہ اسلام آباد کے اندر کوئی بھی نئی تعمیرات کا نقشہ پاس کرنا ہو تو اس کی اجازت سی ڈی اے دیتا ہے اس کے لیے ماحولیاتی این او سی نہیں لیا جاتا جس پر ممبران کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی اور شہرمیں ہونے والی تمام تجاوزات کی ذمے دار محکمہ سی ڈی اے ہے جب عمارت بن رہی ہوتی ہے تو کسی سے نہیں پوچھا جاتا بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ