غداری کیس،حکومت بتائے پرویز مشرف کو واپس لاسکتی ہے ،یا نہیں عدالت 

61

اسلام آباد (آن لائن) خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بتائے پرویز مشرف کو لاسکتی ہے یا نہیں۔ پیر کے روز اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے جج جسٹس یاور علی اور جسٹس نذر اکبر نے سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس یاور علی نے ریمارکس دیے کہ آخری مرتبہ سنگین غداری کیس ملتوی کررہے ہیں، کیس کو ادھر یا اْدھر منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ وزارت داخلہ کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پرویز مشرف کوواپس لانے کے لیے انٹر پول سے کیا گیا رابطہ بار آور ثابت نہیں ہوسکا جس پر یہ ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس یاور علی نے کہا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کے لیے انٹر پول واحد ذریعہ ہے اور اس حوالے سے وزارت داخلہ اگلی سماعت پر بتائے۔ جسٹس یاور علی نے دوران ریمارکس کہا کہ مقدمے کا فیصلہ بہر صورت کرنا ہے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اگر بیان اسکائپ کے ذریعے ریکارڈ نہ کیا جاسکا اور اگر ملزم نہیں آیا تب بھی عدالت استغاثہ کو سن کر فیصلہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے مشرف کی عدم حاضری میں کیسے بیان ریکارڈ کیا جاسکتا ہے اگر بیان ریکارڈ نہیں کیاجاسکتا تو کارروائی کیسے آگے بڑھائی جاسکتی ہے ۔جسٹس یاور علی نے اس موقع پرپوچھا کہ وفاقی حکومت نے انٹر پول سے رابطے کے علاوہ پرویز مشرف کو واپس لانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ؟، جس پر وزارت داخلہ کے نمائندے نے بتایا کہ صرف انٹرپول سے ہی رابطہ کیا گیاہے جس نے معاملے کو سیاسی کہہ کر تعاون کرنے سے معذرت کرلی۔ عدالت نے اس موقع پر حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک تحریری طور پر لکھ دیں گے ملزم کو واپس لانے کا انٹر پول کے علاوہ کوئی طریقہ ہیں، عدالت نے کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کردی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ