ناانصافی اور ناقص حکمرانی نے معاشرہ کھوکھلا کردیا،چیف جسٹس

75
اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان قائداعظم کے تصورات سے ہٹ چکا ہے۔ ناقص حکمرانی اور ناانصافی نے معاشرے کو کھوکھلا کردیا ہے ، موجودہ صورتحال کو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا کر بدلا جاسکتا ہے۔عدالت عظمیٰ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان قائداعظم کے ویژن سے ہٹ چکا ہے، بری حکمرانی اور ناانصافی معاشرے میں سرایت کرگئی ہے، بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے عدالت نے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، ڈیمز کی تعمیر کے لیے حکومت کو ہدایات دینا اہم ترین فیصلہ تھا۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ عدالتی سال میں 19 ہزار مقدمات نمٹائے گئے، یہ شرح گزشتہ 5 سال میں سب سے
زیادہ ہے، غیر سنجیدہ مقدمے بازی عدالت کے بوجھ میں بے حد اضافہ کرتی ہے، زیر التوا مقدمات نمٹانے میں التواء اور تاخیری حربے بھی رکاوٹ ہیں اور فراہمی انصاف کے لیے زہر قاتل ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ، شفافیت اور احتساب کے عمل سے قائد کے ویژن پر ملک کو دوبارہ لایا جاسکتا ہے ہم نے آئین کے محافظ کے طور پر مختلف امور جن میں بنیادی انسانی حقوق پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے ، سرکاری افسران و ججز کی دوہری شہریت ، میڈیا ورکرز کوتنخواہوں کی عدم فراہمی ، ہزارہ کمیونٹی کے قتل ، کٹاس راج مندر کے پانی کی بغیرادائیگی استعمال ، میڈیکل اینڈڈینٹل اور لا کالجز کی اصلاحات اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلانے سے متعلق اپنے فرائض نبھاتے ہوئے عملی اقدامات کی کوشش کی ۔ اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انصاف کی فراہمی کیلئے عدالتی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے لاہور ، پشاور ، کوئٹہ رجسٹری میں ججز کی حاضری تسلی بخش نہیں عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے عوام کے مسائل حل نہ ہونے پر عدلیہ پر تنقید ہوتی ہے، ملک بھر میں 41ہزار سے زائد مقدمات التواء کاشکار ہیں۔ اٹارنی جنرل انور منصورنے اپنے خطاب میں حوالہ دیے بغیر گزشتہ برسوں کے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر تنقید کی ان کاکہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی سب سے پہلے ہے جس کے لیے عدالتی نظام کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہوچکی ماضی میں عدالتوں کے چند مشہور فیصلوں نے ملک بھر کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا۔ اعلیٰ عدالتوں کے مختلف فیصلوں سے ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے عدلیہ کو اپنے اس حلف پر قائم رہنا چاہیے کہ اسکی آزادی کیخلاف کی جانے والی کس قانون سازی کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ