سی پیک ایسٹ انڈیا کمپنی ہے، حکومتی معاہدے کے ازسرنو جائزے کی حمایت کرتے ہیں ، سراج تیلی

78
بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم تیلی پریس کانفرنس کررہے ہیں
بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم تیلی پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) سراج قاسم تیلی نے کہا ہے کہ سی پیک ایسٹ انڈیا کمپنی والا کام کر رہا ہے اور ملک کی صنعت وتجارت کے لیے تباہ کن ہے ،انھوں نے کہا کہ عبدالرزاق داؤد نے اس کا از سر نو جائزہ لینے کی بات کرکے کراچی چیمبر کی بات کو آگے بڑھایا ہے۔ سی پیک کا جو کا م پاکستان میں ہو رہا ہے اس میں پاکستانیوں کو نوکری نہیں دی جا رہی ہے اس کے برعکس چین کی جیلوں سے قیدیوں کو نکا ل کر پاکستان میں بھیجا جا رہا ہے جس امن ومان کی صورتحا ل خراب ہو رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ کے سی سی آئی کے الیکشن برائے2018-19 میں بی ایم جی کے تمام 15 امیدوار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے اور اپوزیشن کو ضمانتیں ضبط ہونے کا سامنا کرنے پڑے گا کیونکہ تاجر و صنعتکاربرادری کی وا ضح اکثریت بی ایم جی کے ساتھ ہے۔ بزنس مین گروپ نے 1998 سے ’’عوامی خدمت ‘‘ کی پالیسی پر مؤثر انداز میں کام کرتے ہوئے کراچی چیمبر کو چلایاجس کی وجہ سے ماضی میں مالی مشکلات کے شکار کراچی چیمبر کو مالی طور پر ایک خود مختار، مستحکم اور مضبوط ادارہ بنا دیا گیا۔ یہ بات انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے موقع پر کہی۔اس موقع پر وائس چیئرمنز بی ایم جی و سابق صدور کے سی سی آئی طاہر خالق،زبیر موتی والا،ہارون فاروقی،انجم نثار، کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطاملک،سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق، نائب صدر ریحان حنیف، سابق صدر اے کیو خلیل اور بی ایم جی کے امیدواروں کے علاوہ منیجنگ کمیٹی کے اراکین، دیگر سابق صدور و بی ایم جی کے حامی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے یونائیٹڈ بزنس مین گروپ (یو بی جی) کے چیئرمین ایس ایم منیر نے پہلے بی ایم جی کی حمایت کی پھر اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے ہماے مخالفین جن کی سرپرستی اے کے ڈی اور مقصود اسماعیل کی جانب سے کی جارہی ہے ان کی حمایت کا اعلان کیا تاہم یہ اقدام بی ایم جی کی حق میں گیا کیونکہ ان کا بہروپ سب کے سامنے عیاں ہو گیا اور بی ایم جی کے اُمیدواروں کی حوصلہ افزائی اور کے سی سی آئی انتخابات میں مکمل حمایت کے لیے کئی دوسرے لوگ آگئے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بی ایم جی کی قیادت اور ان کے امیدواروں نے کبھی بھی کوئی یوٹرن نہیں لیا اور چاہے کیسے بھی حالات ہو جو کہا اسے پورا کیا۔ اس ضمن میں حال ہی میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت میں بزنس مین پینل (بی ایم پی) ایف پی سی سی آئی میں یو بی جی کے مدمقابل ہوتا ہے اور اس کی سرپرستی لاہور سے میاں انجم نثار کررہے ہیں اس پینل نے بی ایم جی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ یہ اعلان بی ایم پی کے کراچی میں مختلف نمائندے بشمول میاں زاہد حسین، زکریا عثمان،شوکت احمد، ناصر حیات مگوں اور دیگر20 اہم تاجروصنعتکاروں نے ہفتے کی رات ایک عشائیے میں کیا انہوں نے کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان، ناصر ترک، سلیم میمن اور الیکٹرونک مارکیٹ اور پیپر مارکیٹ کے دیگر قابل ذکر افرادکے علاوہ شہر بھر کی دیگر اہم مارکیٹوں کے نمائندوں کی جانب سے بی ایم جی کی حمایت کو سراہا۔تبدیلی کی اصطلاح عمران خان نے مسلم لیگ ن کی حکومت کی کرپشن کے خلاف متعارف کروائی۔اس اصطلاح کا کے سی سی آئی انتخابات جیتنے کی غرض سے غلط استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ چیمبر میں تو تمام کام شفاف طریقے سے کیا جارہا ہے۔ قومی سیاست میں ہارنے کے بعد یہ عناصر وہی الزامات کی سیاست کے حربے کے سی سی آئی کے انتخابات میں استعمال کررہے ہیں جنہیں کراچی کی پوری تاجر و صنعتکار برادری فوراً مسترد کردے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ