کراچی چیمبر میں تبدیلی لائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے،یوسف یعقوب پرنس

90

یوسف یعقوب پرنس ایک نوجوان تاجر رہنما ہیں، وہ سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سابق وائس چیئرمین اور پاکستان بیڈ وئر ایسو سی ایشن کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ آل پاکستان وویونگ مل ایسوسی ایشن کے سینئر صدر کے عہدے پر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں، کاروباری لحاظ سے کپڑے کی ایکسپورٹ سے وابستہ ہیں، انہوں نے بزنس پولیٹکس میں ایسے وقت قدم رکھا جب کراچی میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب تھی،پورے شہر میں بھتا مافیا کاراج تھا ،اغوا برائے تاوان ، لوٹ مار، اسٹریٹ کرائم اور قتل غارت گری سے کاروباری افراد بری طرح متاثر تھے، شہر کا کوئی حصہ بھتا خوروں سے محفوظ نہیں تھا،کراچی کے تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے کاروبار کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوچکا تھا۔یوسف یعقوب پرنس15 ستمبرکوکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ہونے والے انتخابات میںمنیجنگ کمیٹی کے عہدے پر پیٹریاٹ بزنس مین گروپ کے امیدوار ہیں۔ گزشتہ دنوں جسارت نے ان سے خصوصی گفتگو کی ۔ اس موقع پر یوسف یعقوب پرنس نے بتا یا کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم فریئر ہال کے پاس موجود ایک نجی سیکنڈری اسکول سے حاصل کی اور وہیںسے 1992ء میں میٹرک پاس کیا ،اس کے بعد گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنا مکس کراچی سے1996ء میں گریجویشن کیا اور اس کے بعد اپنے والد کے ساتھ کپڑے کے کاروبار سے وابستہ ہوگئے ،اس زمانے میں کپڑا مارکیٹ میں ہمارا آفس تھا، 2004 ء میں ہم نے سائٹ ایریا میں فیکٹری لگائی اور وہیں سے ہمارا انڈسٹری کا سفر شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ، جس میں کپڑے کی تیاری اور ایکسپورٹ شامل ہے۔ یوسف یعقوب پرنس نے کہا کہ 2007ء میں ملکی معاشی حالات انتہائی خراب تھے،ٹیکسٹا ئل سیکٹر انتہائی بحرانی حالات سے دوچار تھا ، کپڑے بنانے والی لومز اسکریپ میں کلو کے حساب میں فروخت ہو رہی تھیں دنیا بھر میں بحرانی صورتحال تھی، یونان اور آئر لینڈ جیسے ممالک بحران میںآگئے تھے، امریکا جیسے ملک کے 20 کے قریب بینک دیوالیہ ہوگئے تھے ،پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ اس حد تک کریش ہوئی کہ اسے لاک کردیا گیا، ان حالات میں پاکستان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تھی،اس کے بعد کراچی سمیت ملکی صنعت وتجارت شدید بحران سے دوچار ہو چکی تھی، اس وقت ہم نے اپنے شعبے کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے آل پاکستان لومز ایسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی جس میں تمام دوستوں نے مل کر کام کیا اور وقت کے ساتھ کام کرتے چلے گئے اور حکومتی حلقوں کو اس کے حل کے لیے باور کراتے رہے اور مسائل بتاتے رہے ،اس کے کچھ عرصے بعد ہم نے اپنی ایسوسی ایشن کو پاکستان وویونگ مل ایسو سی ایشن کے نام سے رجسٹرڈ کرایا جو آج پورے پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2012.2013ء میں مجھے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میں کام کرنے کا موقع ملا اور اس وقت مجھے سائٹ ایسوسی ایشن کی منیجنگ کمیٹی میں شامل کیا گیا، اس زمانے میں ہمارے سائٹ کے صدر ارشد وہرا تھے جو اس وقت کراچی کے ڈپٹی میئر ہیں، مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جب دوسرے سال نئے صدر کی باری آئی تو انہوں نے سائٹ ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف زبیر موتی والا کو کہا کہ میں نے یوسف یعقوب کے ساتھ کام کیا ہے، اس نوجوان میں صلاحتیں موجود ہیں، یہ ڈیلیور کر سکتا ہے تو اس وقت زبیر موتی والا نے مجھے وائس چیئرمین کے لیے نامزد کیا اور اس طرح میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کا وائس چیئرمین بن گیا، اس وقت میرے چیئرمین یونس بشیر تھے ،وہ میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں، ان کے ساتھ بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔
یوسف یعقوب پرنس نے کہا کہ جب میں سائٹ ایسوسی ایشن کا وائس چیئرمین بنا تو اس دور میں ہر طرف لوٹ مار ، بھتا خوری ، اسٹریٹ کرائم سمیت ہر قسم کے جرائم اپنے عروج پر تھے، لوگ اپنی فیکٹریاں فروخت کررہے تھے، کوئی بھی سائٹ آنے کے لیے تیار نہیں تھا ، شام 5 بجے کے بعد کوئی گھر سے فیکٹری آنے کو تیار نہیں ہوتا تھا، کوئی غیر ملکی خریدار پاکستان میں آنے کے لیے تیار نہیں تھا، لوگ میٹنگ کرنے دبئی جاتے تھے ،وہ بہت سنگین حالات تھے، ایسے حالات میں ہم یونس بشیر کے ساتھ بیٹھے اور ایک سوچ کے ساتھ کام کیا اور ہم نے سائٹ میں 300 کے قریب غیر قانونی پتھارے اور تجاوزات جو سالوں سے قائم تھے انہیں ختم کرایا کیونکہ وہاں پر منشیات، جوئے اور دیگر غیر قانونی کاروبار ہوتے تھے، اس کے علاوہ مشکوک افراد بیٹھتے تھے اور صنعتکاروں کے اغوا کے واقعات ہوتے تھے ،اس کام میں پولیس نے ہماری بہت مدد کی، اس کے بعد ہم نے رینجرز کے ساتھ رابط کیا، اس وقت سندھ رینجرز کے ڈی جی رضوان اختر صاحب تھے، انہوں نے ہمیں رینجرز کے گارڈ فراہم کیے اور ہم نے اس علاقے میںجرائم اس حد تک کم کردیا کہ وہاں جرائم کا تناسب آسمان سے زمین تک آگیا جس کی وجہ سے امن اومان کی صورتحال بہتر ہوئی اور فیکٹری مالکان رات دیر تک اپنی فیکٹریوں میں بیٹھنے لگے ،اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ساڑے27 کروڑ روپے دیے جس سے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
انہوں نے کہا کہ سائٹ کا شمار پاکستان کے سب سے پرانے صنعتی علاقےمیں ہوتا ہے جس کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے خود رکھی ہے اس کے علاوہ یہ کراچی کا سب سے بڑا صنعتی ایریا ہے، ایک وقت تھا جب سائٹ سے پاکستان کی 35 فیصد ایکسپورٹ ہوتی تھی اور اتنا ہی ریونیو حکومت کو حاصل ہوتا تھا یہاں پر پاکستان کی بڑی کمپنیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے یہاں امن ومان کی صورتحال بہتر ہونا ضروری ہے۔ یوسف یعقوب پرنس نے کہا کہ ہم نے امن وامان کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے سخت دنوں میں کام کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں عزت ملی اور آج بھی ہمارادور سنہری حروف سے لکھاجاتا ہے، لوگ آج بھی ہمیں سراہتے ہیں۔یوسف یعقوب پرنس نے کہا کہ پاکستان بیڈ ویئر ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں سال2011.2013ء تک بحیثیت چیف ایگز یکٹو2 سال کام کیا ،کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مینیجنگ کمیٹی میں سائٹ ایسوسی ایشن کی مخصوص نشست پر2015-16ء ایک سال کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال2008-09ء میں مجھے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( ایف پی سی سی آئی) کی طرف سے ایکسپورٹ ایوارڈ دیا گیا اور2009-10ء میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی) کی جانب سے مجھے بیسٹ ایکسپورٹ ایوارڈ دیا گیا۔یوسف یعقوب پرنس نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور اس کے حل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال اچھی نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ ہے کہ ہمارہ تجارتی خسارہ اور قرضے بہت زیادہ ہیں ،گزشتہ سالوں میں جو قرضے لیے گئے ہیں انہیں ہم درست طریقے سے صنعتی علاقوں میں صنعتوں کے فروغ اور زراعت کو بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کر سکے ہیں، اس وجہ سے ہماری ایکسورٹ میں اضافہ نہیں ہو سکا ہے ،اس بحران کو حل کرنے کے لیے حکومت کو کچھ شارٹ ٹرم اور کچھ لانگ ٹرم پالیسیاں بنانی پڑ یں گی، شارٹ ٹرم پالیسیوں میں ہمیں اوور سیز پاکستانیوں کو دعوت دینی چاہیے کہ وہ ملک میںز یادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں اور اوورسیز سے آنے والا پیسہ غیر قانونی طریقے سے آنے کے بجائے بینکوں کے ذریعے لایا جائے، اس کے علاوہ صنعتوں کو اس طرح مراعات دی جائیں کہ پیداوار بڑھ سکے، اس کے لیے بجلی ، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی کے نرخوں میں کمی کرکے اسے اس سطح پر لایا جائےجو ہمارے پڑوسی ممالک میں ہے اور جن ممالک سے ہمارا ایکسپورٹ میں مقابلہ ہے ان ممالک کے برابر ہو ،اس سے ہم ایکسپورٹ بڑھا سکتے ہیں ،ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا تو ہمارے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور ملک کے اندر روزگار کے ذرائع بڑھیں گے اور ہماری معاشی صورتحال بہتر ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں یوسف یعقوب پرنس نے کہا کہ اس وقت ہماری ایکسپورٹ 22 بلین ڈالر ہے اگر حکومت ایسی پالیسیاں لائے جو تاجر فرینڈلی ہوں، لوگ خوشی سے سرمایہ کاری کریں تو اس بات میں کوئی شک نہیں ہم چند سالوں میں 40 ارب ڈالر تک ایکسپورٹ کو لے کر جاسکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں اس بات کے مواقعے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نئی حکومت آئی ہے اگر وہ تاجر برادری کو آن بورڈ لے تو 40 ارب ڈالر کوئی بڑا ٹارگٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ایس ایم ایز سیکٹر کو مراعات دی جاتی ہیں کیونکہ معیشت میں ایس ایم ایز کا حصہ سب سے زیادہ ہے ،معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کراچی چیمبر آف کامرس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے چھوٹے تاجر وںکو الگ کرکے رکھ دیا گیا ہے ، کراچی چیمبر کو جو ڈیلیور کرنا چاہیے وہ نہیں کرتا ہے ،کراچی چیمبرآف کامرس کا صدر پورے کراچی کے تاجروں کا صدر ہوتا ہے وہ کسی ایک گروپ کا صدر نہیں ہوتا ہے اسے کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے ، ہم کہتے ہیں کراچی چیمبر میں ہر اس شخص کو موقع ملنا چاہیے جو قابلیت رکھتا ہو اور تاجروں کی خدمت کرنا چاہتا ہو ، انتخابات کا ہونا کسی بھی ادارے میں جمہوری طریقہ ہے اس بار ہم پیٹریاٹ کی طرف سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، ہم صرف یہ بات کہتے ہیں کہ کوئی بھی صدارتی امیداور ہو اس میںقابلیت اور صلاحیت بھی ہونا ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کے کہنے اور کسی کے اشاروں پر کام کرتا ہو، ایسا نہ ہو کہ کوئی تاجر یا صنعتکار کسی مسئلے کے حل کے لیے آئے تو اس میں پسند اور ناپسند کو شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کنزیومز کنٹری نہیں ، ہماری آبادی 22 کروڑ کے قریب ہے ہم اپنے ملک کو صنعت اور زراعت سے ہی آگے بڑھا سکتے ہیں، ہمارے ملک میں تمام نعمتیں موجود ہیں ،چاروں موسم ہیں ،ہماری زرعی پیدوار بہت اچھی ہے اور دنیا بھر میں اسے پسند کیا جاتاہے ان تمام چیزوںکے لیے کراچی چیمبر کا یہ کام ہے کہ وہاں ایسے ریسرچ اور ڈیو لپمنٹ کے ادارے قائم کیے جائیں جن سے ہم ویلیو ایڈڈ کرکے اپنی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں ،ادارے ریسرچ کرکے لوگوں ،تاجروں اور صنعتکاروں کو بتائیںکہ آپ یہ کام کریں اس سے آپ کو فائدہ حاصل ہوگا ،حکومت نے جس طرح سمیڈا (اسمال میڈیم انٹر پرائز ڈیو لپمنٹ اٹھارٹی )قائم کیا ہے لیکن وہ حکومت کا ادارہ اس لیول کا نہیں ہے جو عالمی معیار کے مطابق ہونا چاہیے یہ کام کراچی چیمبر کو کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس کے انتخابات میں تاجروں نے ہمیں منتخب کیا تو سب سے پہلے ایسا ہی ایک ادارہ بنائیں گے جس کے ذریعے کراچی کے تاجروں ، صنعتکاروں ، اور ایکسپورٹرز کو یہ آگاہی فراہم کریں گے کہ انہیںآنے والے وقت میں اپنے کاروبار میں کیا تبدیلی کرنی چاہیے یا کن چیزوں سے زیاد ہ منافع حاصل کرسکتے ہیں اور کاروبار میں دنیا بھر میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نئے صنعتکاروں کایہ مسئلہ بھی ہے کہ صنعتی علاقوں میں زمینیں بہت مہنگی ہو گئیں ،ایسے لوگوں نے بھی صنعتی علاقوں میں زمینیں خرید لی ہیں جن کا صنعت سے کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ وہ زمینوں کا کام کرتے ہیں ،صنعتی علاقوں میںہزاروں ایکڑ زمینیں خالی بھی پڑی ہیں اور وہاں کوئی صنعت نہیں لگ رہی ہے اس لیے حکومت سندھ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں جس نے گزشتہ 10 سے 15 سالوں سے صنعتیں نہیں لگائیں ان کو پابند کیا جائے ، یا وہ لوگ وہاں پر صنعتیں لگائیں یا زمینیں فروخت کر دیں،اس سے صنعتی علاقوں میں زمینوں کے نرخ کم ہوجائیں گے جس سے اصل لوگ زیادہ صنعتیں لگائیں گے اورملک میں ان شااللہ ترقی ضرور ہوگی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ