حکومت پنجاب صوبہ بھر میں 90 لاکھ پودے لگائیگی ، حبیب الرحمٰن

65

لاہور (آئی این پی) چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ حبیب الرحمن گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب صوبہ بھر میں 3 ارب روپے کی لاگت سے مجموعی طور پر نہ صرف 90 لاکھ پودے لگائے گی بلکہ شجر کاری مہم کے تحت محکمہ جنگلات کے تمام منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-19ء میں بھی شامل کیا جائے گا۔ پیر کو حکومت پنجاب کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اور محکمہ جنگلات کے باہمی اشتراک سے قومی شجر کاری مہم کے تحت پودے لگانے کی مہم کی خصوصی تقریب محکمہ پی اینڈ ڈی کمپلیکس میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پنجاب حبیب الرحمن گیلانی نے اپنے دستِ مبارک سے محکمہ پی اینڈ ڈی کے پارک میں ’’گلِ مہر‘‘ (گولڈ مہر) کا سرسبز خوبصورت پودا لگا کر ’’ٹری پلانٹیشن ڈرائیو‘‘ کا افتتاح کیا۔ تقریب میں ممبران پی اینڈ ڈی بورڈ ڈاکٹر عابد بودلہ، آغا وقار جاوید، صداقت حسین، خالد سلطان، ایڈیشنل سیکرٹری پی اینڈ ڈی ڈاکٹر شاہد عادل، ڈاکٹر محمد اشرف چیف ایگریکلچر پی اینڈ ڈی، مینیجنگ ڈائریکٹر انویسٹمنٹ کلائمیٹ ریفارم یونٹ ملیحہ بنگش، چیف کنزرویٹر فارسٹ ڈیپارٹمنٹ عبدالباسط، ڈپٹی سیکرٹری (پلاننگ) طارق نسیم، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر لاہور محمد سلیم، پبلسٹی انچارج فارسٹ ڈیپارٹمنٹ محمد شریف ، محکمہ پی اینڈ ڈی اور جنگلات کے دیگر افسران و ملازمین اور میڈیا کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ شجرکاری مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ حبیب الرحمن گیلانی نے کہا کہ حکومت پنجاب صوبہ بھر میں 3 ارب روپے کی لاگت سے مجموعی طور پر نہ صرف 90 لاکھ پودے لگائے گی بلکہ شجر کاری مہم کے تحت محکمہ جنگلات کے تمام منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-19ء میں بھی شامل کیا جائے گا۔ مزید برآں شجر کاری مہم میں مزید تیزی لانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام کے تحت پرائیویٹ سیکٹر کو بھی مذکورہ مہم میں شامل کیا جائے گا۔ صوبے کے شہروں میں کھلے میدانوں پر بھی پودے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پاکستان کے لیے سرسبز و شاداب پاکستان اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ زیادہ سے زیادہ پودے لگانا قومی ضرورت ہے بلکہ اس کی مدد سے سیلاب، ماحولیاتی آلودگی کاتحفظ اور ماحول کو خوشگوار بنانے میں مدد ملے گی۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی نے کہا کہ سجاوٹ والے پودوں کی مدد سے شجر کاری مہم کی ضرورت کو پورا نہیں کیا جا سکتا ۔صرف سر سبز سایہ دار اور بڑے درخت ہی مکمل آکسیجن کی دستیابی اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ