ڈیم اور سیاست

219

 

 

نیا پاکستان تشکیل پاتے ہی وطن عزیز میں نئے معاملات شروع ہوگئے ہیں ۔ ان میں سرفہرست پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے معاملات ہیں ۔ اس معاملے پر عدالت عظمیٰ نے بھی ایکٹوازم کا مظاہرہ کیا ہے ۔ وسائل کے حصول کے لیے وزیر اعظم عمران نے خان نے سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے فی کس ایک ہزار ڈالر چندے کی اپیل بھی کردی ہے ۔ اب تو نئے ڈیموں کی تعمیر ایک سنجیدہ موضوع سے تبدیل ہو کرغیر سنجیدہ موضوع کی صورت اختیار کر گیا ہے ۔ سماجی میڈیا پر اس پر بے لاگ تبصرے اور پھبتیاں جاری ہیں ۔ چندے کی اپیل پر بہترین تبصرہ یہی تھا کہ ماہرین معاشیات پر مشتمل ٹیم نے بہترین مشورہ یہ دیا کہ وزیراعظم تقریر کریں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کردیں ۔
سماجی میڈیا پر اس کی مخالفت اور حمایت میں ہونے والی بحث سے قطع نظر اب تک کسی نے بھی اس موضوع کا میرٹ پر جائزہ نہیں لیا۔ یہ ڈیم کتنے ضروری ہیں ، کیوں ضروری ہیں اور اگر بننے چاہئیں تو ان کی ترتیب کیا ہونی چاہیے ۔جدید دور میں ان کی ہیئت میں کیا تبدیلی آچکی ہے ۔ ان کے لیے درکار وسائل کی ضرورت کس طرح پوری کی جاسکتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
ان اہم سوالات پر گفتگو سے قبل بنیادی بات ۔ ڈیم دو وجوہات کی بناء پر بنائے جاتے ہیں ۔ پانی کو ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ۔ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی لاگت میں سب سے سستی پڑتی ہے ۔ اس لیے ڈیم کے ساتھ ہی بجلی پیدا کرنے والے ٹربائن بھی لگادیے جاتے ہیں ۔ پانی کو ذخیرہ کرنے کے موضوع پر گفتگو سے قبل بجلی پر بات کرتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے والا جنریٹر جسے ٹربائن کہا جاتا ہے ، اسے کسی طرح گھمادیا جائے ۔ ٹربائن کے گھومتے ہی بجلی پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے ۔ اب اس ٹربائن کو گھمانے کے طریقے مختلف ہیں ۔ پانی سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹربائن کے بلیڈوں پر پانی دھار کی صورت میں گرایا جاتا ہے ۔ اس سے ٹربائن گھومنا شروع ہوجاتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جن علاقوں میںآبشار ہیں وہاں پر تو یہ پانی پہلے ہی دھار کی صورت میں نیچے گررہا ہوتا ہے ۔ ان پہاڑی علاقوں میں آبی چکیاں معمول کی بات ہیں جس میں علاقے کی گندم کی پسائی ہوتی ہے ۔ اب ان آبشاروں میں بجلی کے ٹربائن بھی لگانا شروع کردیے گئے ہیں ۔ میدانی علاقے جہاں پر ایسی صورت موجود نہیں ہوتی ہے وہاں پر ڈیم بنائے جاتے ہیں ۔ ان ڈیموں کے اخراج کی سمت میں پانی کو تنگ راستے سے چھوڑا جاتا ہے تاکہ تیز رفتار دھار کی صورت میں نکلے ، اسی سمت میں بجلی کے ٹربائن نصب ہوتے ہیں اور یوں بجلی کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے ۔ میدانی علاقوں میں جہاں پر ڈیم کی سہولت موجود نہ ہو جیسے کراچی وغیرہ تو ان علاقوں میں بجلی کے حصول کے لیے فرنیس آئل سے چلنے والے انجن نصب کیے جاتے ہیں جو ان ٹربائنوں کو گھماتے اور بجلی پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایٹمی بجلی گھر بھی بنائے جاتے ہیں ۔ ان ایٹمی بجلی گھروں میں یورینیم یا دیگر ایٹموں کو توڑا جاتا ہے اور ان ایٹموں سے پیدا ہونے والی حرارت سے بوائلر میں پانی ابالا جاتا ہے اور اس بھاپ کی مدد سے ٹربائن کے بلیڈ گھمائے جاتے ہیں جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ہیں وہ معروف طریقے ، جس سے پوری دنیا میں عمومی طور پر بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔
ان سب طریقوں میں کئی قباحتیں ہیں جس سے بجلی کی پیداوار پر فرق پڑتا ہے ۔ پہاڑی آبشار سردیوں میں منجمد ہوجاتے ہیں یا پانی کی آمد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس کی بناء پر سردیوں میں ان سے بجلی کی پیداوار منقطع ہو جاتی ہے ۔ ڈیموں میں بھی سردیوں میں پانی کی آمد کم ہوجاتی ہے ، اس لیے اخراج بھی کم ہوتا ہے ، اس لیے ڈیموں سے بجلی کی پیداوار بھی کئی ماہ تک متاثر رہتی ہے۔ فرنیس آئل مہنگا بہت پڑتا ہے اس لیے اس کی عیاشی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔ انتی مہنگی بجلی صنعتوں کے لیے سم قاتل ہے کیوں کہ لاگت میں اضافے کی بناء پر ان کی مصنوعات مقابلے پر نہیں رہتیں ۔ چین کی مصنوعات کی ارزانی کی ایک بڑی وجہ سستی یا مفت بجلی ہے ۔ چین میں کسی بھی نئے صنعتی یونٹ کے قیام کے ساتھ ہی اسے آئندہ پانچ برس تک مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ بعد میں بھی بجلی کے نرخ انتہائی کم ہوتے ہیں ۔ ایٹمی بجلی گھروں کے خطرات اپنی جگہ ہیں ۔ جاپان میں فوکوشیما بجلی گھر کا حادثہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ اس کے اثرات سے اب تک نمٹا نہیں جاسکا ہے ۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید طریقے ڈھونڈے گئے ہیں ۔ ان میں ونڈ ٹربائن بھی شامل ہے ۔ ونڈ ٹربائن اس کوریڈور میں لگایا جاتا ہے جہاں پر عموما ہوا چلتی رہتی ہے ۔ تاہم اس میں بھی یہ قباحت ہے کہ ایک تو یہ جگہ زیادہ گھیرتے ہیں اور اس میں پیدوار کم ہوتی ہے دوسرے ہوا بند ہونے یا ہوا کی رفتار کم ہونے کی صورت میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے ۔ بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کے لیے ایک اور طریقہ سولر پینل لگانے کا ہے ۔ اس میں قباحت جگہ کے ساتھ ساتھ بیٹریوں کے مہنگے اخراجات ہیں ۔ بجلی پیدا کرنے کے یہ وہ طریقے ہیں جو معروف ہیں مگر اس کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کے اور بھی جدید طریقے ہیں جو عمومی طور پر مشہور نہیں ہیں مگر ان سے چوبیس گھنٹے بجلی بھی حاصل ہوتی ہے اور تقریبا مفت بھی ۔ اس میں سے بہترین طریقہ چلتے پانی پر ٹربائن کی تنصیب ہے ۔ اس کے کئی طریقے ہیں جو یو ٹیوب پر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں ۔ لہروں پر ٹیوب ویل قسم کے پیڈل نصب کردیے جاتے ہیں اور ٹربائن گھومنا شروع ۔ ایک اور بہترین طریقہ سمندر سے بجلی پیدا کرنے کا ہے ۔ پاکستان میں سمندر میں لہریں زور دار اٹھتی ہیں جو قدرت کا انعام ہیں ۔ ان لہروں کے اوپر آنے اور نیچے جانے کے عمل سے پیڈل کنارے لگے ٹربائن کو گھماتا ہے اور یوں بلاتعطل تقریبا مفت میں بجلی چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ شمسی توانائی کو محدب عدسے کی مد سے شیشے کے برتن پر مرکوز کرکے بھی بھاپ حاصل کی جاتی ہے اور یوں ٹربائن گھومنا شروع ہوجاتا ہے ۔یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں ۔ سمندری لہروں سے اس طریقے سے سے ڈنمارک میں بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ یوٹیوب پر یہ سب دیکھا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں بھی یہ تجربہ کیا جاچکا ہے۔
بجلی پیدا کرنے کے ان جدید طریقوں سے لامحدود بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہ سب کے سب انتہائی کم لاگت بھی ہیں ۔ یہ اتنے کم لاگت ہیں کہ ڈیفنس اتھارٹی اور بحریہ ٹاؤن بھی ان کی تنصیب کرکے اپنے پروجیکٹوں کو انتہائی کم لاگت بجلی مہیا کرسکتے ہیں ۔ تو بجلی پیدا کرنے کے لیے اب ڈیم بنانا انتہائی احمقانہ کام سمجھا جاتا ہے ۔ اب ڈیم کے دوسرے استعمال یعنی پانی کو ذخیرہ کرنے کو دیکھتے ہیں ۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ