کیا عارف علوی ، عمران خان کے ’’ممنون‘‘ کا کردار ادا کریں گے؟

143

 

 

صدر مملکت ممنون حسین 8 ستمبر کو اپنی پانچ سالہ آئینی صدارت کی مدت پوری کرکے صدارت کا عہدہ چھوڑ گئے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی صدارت کا یہ عظیم عہدہ سنبھالیں گے۔ گزشتہ دس سال سے مسلسل جاری جمہوریت کے طفیل عارف علوی 13 ویں صدر مملکت بن گئے ۔ اس طرح اس عہدے پر وہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان کے ’’ممنون‘‘ بھی رہیں گے۔ ممنون حسین نے 9ستمبر 2013 کو 12 ویں صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ جس طرح انہوں نے اس عہدے پر پانچ سال گزارے وہ بھی مثالی تاریخی ایام رہے۔
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مجموعی 8 سالہ دور کے بعد بقول پرویز مشرف ’’مکمل طور پر بحال ہونے والے جمہوری دور’’ کے پہلے منتخب صدر آصف علی زرداری زرداری نے 9ستمبر 2008 کو ملک کے 11 ویں صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ لیکن آئین میں تبدیلی اور صدر کے اختیارات کم کیے جانے کے باوجود وہ کسی ’’آمر‘‘ سے کم صدر نہیں تھے کیوں کہ ان کی مرضی کے بغیر منتخب وزیراعظم بھی کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے مکمل جمہوری دور میں صدر مملکت کی ’’آمریت‘‘ بھی دیکھی۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 58 (2) بی کے تحت صدر کو وزیراعظم اور اسمبلیاں برطرف کرنے کے اختیارات 1997 میں ختم ہونے کے بعد سے جمہوریت کو تو استحکام ملا مگر آصف زرداری کے صدر بننے سے ایسا تاثر ملا کہ جمہوریت ضرورت سے زیادہ مضبوط ہوگئی۔
بہرحال پیپلز پارٹی کے اس بدترین دور کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد 2013 میں عام انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی مکمل جمہوری حکومت کے دوسرے صدر ممنون حسین کے کردار نے واضح کردیا کہ 58 (2) بی کے ختم ہونے کے بعد صدر مملکت آئینی طور پر کس حد تک بے اختیار و بے بس ہوچکا ہے۔ ممنون حسین جب تک صدر مملکت رہے یہ ثابت کرتے رہے کہ وہ نواز شریف کی ممنونیت کی وجہ ہی سے مملکت کے صدر ہونے کے باوجود ایک مجرم کی عیادت کرنے کے لیے اسپتال چلے گئے تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ شاید صدر ممنون یہ سمجھ رہیں ہوں کہ بحیثیت صدر وہ ایک مجرم کی عیادت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ممنون حسین نواز شریف کے ’’ممنون‘‘ تو رہے لیکن انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ ’’معصوم‘‘ بھی بہت ہیں۔ 14 مئی 2017 کو کراچی کی ایک تقریب میں جس انداز سے انہوں نے کرپٹ عناصر کے انجام کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا وہ ان کی معصومیت اور صاف گوئی کا اظہار ہی تو تھا۔ یہ اور بات ہے یا اتفاق ہے کہ اس تقریر کے بعد نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر احتساب عدالت سے سزا پاکر اڈیالہ جیل پہنچ گئے جہاں وہ ابھی تک قید ہیں۔
صدر ممنون حسین کے پورے پانچ سالہ صدارتی دور میں ان کی اس تقریر کو جو اہمیت حاصل ہوئی اس کی بھی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ صدر اگر معصوم ہو اور اسے بولنے کی آزادی ہو تو وہ فی البدیہ کچھ بھی بول سکتا ہے۔ یہاں یاد دہانی کے لیے یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ 14 اگست 1947 میں ملک کے قیام کے بعد 1956 سے اکتوبر 1958 تک اسکندر مرزا پہلے صدر بنے اس سے قبل وہ گورنر جنرل تھے یہ عہدہ ختم کرنے کے بعد ہی وہ ملک کے پہلے صدر بنے لیکن 1958 میں جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لاء نافذ کرکے صدر کا بھی عہدہ سنبھال لیا تھا۔ 1958 سے 1988 تک صرف ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت رہی لیکن وہ بھی خود ساختہ سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن جانے کے باعث خود کو خالص جمہوری حکمران نہیں کہہ سکتے تھے۔ جبکہ ایوب خان، یحییٰ اور ضیاء الحق اقتدار پر قابض رہے۔ اس دوران 14 اگست 1973 سے 1978 تک چودھری فضل الٰہی نامی صدر بھی رہے۔ پھر ضیاء الحق کا مارشل لا آگیا۔
مگر اب ہم خالص ’’آن ریکارڈ‘‘ جمہوری دور میں جی رہے ہیں۔ یہ جمہوریت کا مسلسل تیسرا دور ہے۔ یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے نئے پاکستان میں اپنے منتخب کردہ صدر عارف علوی کو اس قدر آزادی تو دے ہی دیں گے کہ وہ اپنے دل کی بات کا اظہار ممنون حسین کی طرح جب چاہے اور جہاں چاہے کرسکیں ۔ ویسے تو عارف کے معنی ’’پہچاننے والا‘‘ بھی ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ عارف علوی صدر کی حیثیت سے عمران خان اور ان کے معاملات اور خواہشات کے علاوہ کسی اور کو بھی پہنچانتے ہے یا نہیں۔ عارف علوی نے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں یہ واضح کردیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے نہیں سب کے صدر ہیں اور اس اہم ذمے داری پر فعال کردار ادا کریں گے۔ دیکھنا یہی ہے کہ وہ اپنے ’’فعال کردار‘‘ کو کس طرح اور کیسے ادا کرتے ہیں اور 2023 تک کیا کچھ کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ