قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

57

 

پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناًاللہ سْننے والا اور جاننے والا ہے ۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے ۔ (اِن کافروں سے کہہ دو) ‘‘اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا اب باز آ جاؤ تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی اللہ مومنوں کے ساتھ ہے‘‘۔اے ایمان لانے والو، اللہ اور اْس کے رسْول کی اطاعت کرو اور حکم سْننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو ۔ (سورۃ الانفال:17تا20)

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہؐ سے دریافت کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ صحت کی حالت میں جب کہ تمہیں مال کی خواہش، دولت مندی کی آرزو اور تنگ دستی کا ڈر ہو، اس وقت صدقہ دو اور صدقہ میں تاخیر نہ کرو کہ جب حلق میں دم آجائے تو کہو فلاں کو یہ دینا اور فلاں کو اتنا دینا کیوں کہ اس وقت تو وہ مال وارثوں کا ہو ہی چکا ہے۔ (بخاری) ۔۔۔سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ اَعْوذْ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ (ترجمہ) ’’میں پناہ میں آتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے‘‘۔160(مسلم)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ