اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی سزاؤں پر حکومت پاکستان اور میڈیا کی خاموشی افسوس ناک ہے،سراج الحق 

221

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مصر کی نام نہاد عدالت کی طرف سے مصر میں اخوان المسلمون کے رہنماؤں اور کارکنوں کو سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا اور حکومت پاکستان کی طرف سے خاموشی پر حیرت کا ا ظہار کیاہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ پہلے مرسی کی منتخب حکومت کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر تختہ الٹا گیا اس کے بعد اخوان المسلمون کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہزاروں کی تعداد میں جیل میں ڈالا گیا ۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ رابعہ میدان میں انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے پر احتجاج کیوں کیا انہوں نے کہاکہ مصر کی نام نہاد عدالت نے گزشتہ روز 75 افراد کو سزائے موت اور 74 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ اس فیصلے کواقوا م متحدہ اور ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انصاف کے منافی اور انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت پاکستان کی اس عدالتی قتل عام کے خلاف خاموشی پر حیرت کا اظہار کیاہے اور کہاہے کہ پاکستانی حکومت کا فرض بنتاہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ۔ مصری حکومت اس مقدمے میں مزید 739 افراد کو سزائیں سنانا چاہتی ہے ۔ پاکستانی میڈیا بھی اس پر خاموش ہے جودنیا میں ہونے والے معمولی واقعات کو نمایاں طور پر پیش کرتاہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت مصر سے مطالبہ کرے کہ وہ اس پر نظر ثانی کرے اور منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو فوری رہا کرے۔ مصر عالم اسلام کا ایک اہم ملک ہے لیکن وہاں بے گناہوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اس پالیسی کے تباہ کن اثرات پورے ملک اور پوری قوم پر مرتب ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پر سخت احتجاج کریں اور مصری حکومت کو اس ظلم سے باز رکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں ۔سراج الحق نے کہاکہ عالمی انسانی حقوق کی علمبردار اور دعویدار تنظیمیں پرندوں اور جانوروں کے حقوق کے بارے میں تو شور مچاتی ہیں لیکن یہ عجیب بات ہے کہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو ظلم روا رکھا جارہاہے ، اس پر ان کی زبانیں کنگ ہو جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ، فلسطین ، میانمر اور کئی دیگر ممالک میں مسلمانوں پر وحشیانہ ظلم و ستم ہورہاہے لیکن کہیں سے بھی اس پر احتجاج اور مظلوموں کے حق میں کلمہ خیر ادا نہیں ہوتا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ