گیس کی قیمتوں میں اضافہ موخر،یوریا کھاد درآمد کرنیکا فیصلہ

177
اسلام آباد: وزیرخزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: وزیرخزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد(نمائندہ جسارت/ خبر ایجنسیاں)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) نے کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ایک لاکھ میٹر ک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے اور فی بوری 960 روپے سبسڈی(زرِ تلافی) کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ موخر کردیا ہے۔ کمیٹی نے ایل پی جی گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں ہوشر با اضافے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے قیمتوں کو معمول پر لانے کے لیے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی سفارش کردی، اس حوالے سے وفاقی حکومت باقاعدہ نظام وضع کرے گی۔ پیر کے روز وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق غور کیا گیا اور کمیٹی نے فوری طور پر گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کے لیے گائیڈ لائنز طے کرلی ہیں تاہم گیس کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔ اجلاس میں کھاد فیکٹریوں کو 50 فیصد مقامی گیس اور 50 فیصد ایل این جی مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایل این جی کا 50 فیصد بل کھاد کمپنیاں ادا کریں گی جب کہ 50 فیصد حکومت ادا کرے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام کھاد فیکٹریاں پوری صلاحیت کے مطابق کھاد پیدا کریں گی جب کہ یوریا کھاد پوری کرنے کے لیے کھاد درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے مطابق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بتایا کہ سابق حکومت گیس سیکٹر میں 156 ارب روپے کا سالانہ خسارہ چھوڑ کرگئی، ہمیں ہر سال 156 ارب روپے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، شاہدخاقان عباسی بہتر بتاسکتے ہیں کہ گیس سیکٹر کی حالت تباہ کیوں ہے، پاکستان میں گیس کا شعبہ تباہ ہورہا ہے، ای سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جارہا، سبسڈی کے نظام پر بحث ہوگی اس کے بعد وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے غریب ترین آدمی متاثر نہ ہو، امیر ترین آدمی اپنا حصہ ڈالے تاکہ ہم خسارے کو کم کر سکیں، گیس چوری میں بھی پچھلے پانچ سالوں میں اضافہ ہوا، 40 فیصد لوگ پائپ لائن گیس اور 60 فیصد سلنڈر سے استفادہ کرتے ہیں۔سلنڈر کی قیمت میں گذشتہ چند ہفتوں میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے ،ای سی سی نے وفاقی حکومت کوکہا ہے کہ وہ صوبوں کو ہدایت کرے کہ ایل پی جی گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں ہوشر با اضافے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے قیمتوں کو معمول پر لائیں ، اس حوالے سے حکومت باقاعدہ نظام بھی وضع کرے گی ۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، ایسا نظام وضع کیا گیاہے کہ کھاد کے مقامی پلانٹس کو بھی گیس فراہم کی جائے، کسانوں کو سہولت کے لیے ایک بہت بڑی سبسڈی دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہاہے کہ کسانوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ یوریا کھاد کی ضرورت 5.833 ملین ٹن ہے،گزشتہ سال 5.862 ملین ٹن تھی، یوریاکھاد کی بوری کی قیمت 1615روپے ہے، کھاد امپورٹ کرنے پر 2575 روپے فی بوری پڑتی ہے، 960روپے کا فرق حکومت برداشت کریگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی پالیسی میں کسان اہم جزو ہیں اس لیے حکومت کسی بھی طور ایسا کوئی اقدام نہیں کرے گی جس سے کسانوں کا کوئی نقصان ہو۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ