مجلس عمل کا قادیانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کیخلاف آل پارٹیز بلانے کا اعلان 

268
اسلام آباد: متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس کررہے ہیں‘ دیگر جماعتوں کے رہنما بھی موجود ہیں
اسلام آباد: متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس کررہے ہیں‘ دیگر جماعتوں کے رہنما بھی موجود ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے پاکستان میں قادیانی نیٹ ورک کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کر دیا۔ کانفرنس میں دینی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔ متحدہ مجلس عمل نے وزیراعظم کی طرف سے قائم کردہ اقتصادی مشاورتی کونسل پر مکمل طور پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے اور خدشہ ظاہرکیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بین الاقوامی ایجنڈے پر عملدرآمد کر رہی ہے جس کی وجہ سے قادیانی نیٹ ورک کو متحرک ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ ایم ایم اے نے حکومت کی طرف سے مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے کو نیکٹا کے حوالے کرنے کے فیصلے کو بھی یکسر مسترد کر دیا اور واضح کیا ہے کہ مدارس کی آزادی و خودمختاری میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پہلے منتخب حکومتیں تھیں جو عوامی مطالبات پر اصلاح احوال کر لیا کرتی تھیں۔ جعلی حکومت سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔لیاقت بلوچ، مولانا اویس نورانی سمیت متحدہ مجلس عمل کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، ملک کو پے در پے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حکومت کی کوئی سمت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی مشاورتی کونسل میں قادیانی عاطف کو شامل کیا گیا اور عوامی ردعمل پر اسے فارغ کر دیا گیا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ عاطف کو نکالے جانے پر کونسل کے2 مزید لوگوں نے بھی الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کونسل کس ذہنیت کے حامل لوگوں کی تھی جو یکجا ہو کر پاکستان کی معیشت کو مغربی معیشت کے تابع کرنا اور پاکستان میں سودی نظام کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کے پیچھے یہودی لابی ہے وہی اس سودی معیشت کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اسی معیشت کو پاکستان میں مسلط کرنے کے لیے مشاورتی کونسل میں متنازع لوگوں کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اقتصادی مشاورتی کونسل پر مکمل طور پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ موجودہ حکومت کی معیشت کے حوالے سے ترجیحات بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کے برعکس ہیں اور وہ پاکستان کو نئی نظریاتی جہد دینا چاہتی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل پاکستان کی اسلامی حیثیت کا مکمل تحفظ کرے گی۔ بین الاقوامی ایجنڈے کو پاکستان میں مسلط کرنا کہاں سے ریاست مدینہ کا نظام ہے، یہ منہ اور ریاست مدینہ کا نظام۔ موجودہ حکومت نے سی پیک پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے، جس سے پاک چین اقتصادی دوستی پر حرف آ سکتا ہے۔ سی پیک میں تعطل پیدا کرنے یا اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کو غلامی کے نئے دور کی طرف لے جانا چاہتی ہے جس کی بھرپور مذمت کی جائے۔ نئی حکومت نے جو سبز باغ اور نوید سنائی تھی وہ سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ غریبوں پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ کر قوم کو کرب میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کر کے اس معاملے کو نیکٹا کے حوالے کر دیا ہے۔ حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی دینی مدارس کے بارے میں کیا سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس، نصاب، جدید عصری علوم کے حوالے سے پہلے سے ہی انتظام کر چکے ہیں اور ایسا حکومتوں سے مذاکرات کے نتیجے میں ہوا۔ دینی مدارس کی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے۔ حکومتی عزائم کو مسترد کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل، تحفظ ختم نبوت، قادیانی فتنہ اور مدارس کے بارے میں حکومتی عزائم سے متعلق کل جماعتی کانفرنس طلب کرے گی۔ جس میں دینی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔ موجودہ حکومت کشمیر کی مسلمہ پالیسی سے انحراف کر رہی ہے۔ اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اور بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا کر بھارت کے عزائم کو جواز دیا جا رہا ہے۔ کشمیر پالیسی کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس حوالے سے قوم کو متحد کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق طے شدہ ایوارڈز پر عملدرآمد کیا جائے اور منصوبوں میں کسی صورت رد و بدل نہ کیا جائے۔ ایم ایم اے کے صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان غلط کہتے ہیں بلکہ ان کے دور میں پرائی جنگ کا آغاز ہونے والا ہے اور وہ نمائندہ بن کر اس جنگ کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ حکومت کو خارجہ پالیسی کا ادراک نہیں ہے۔ سفارتکاری پر بچگانہ سوچ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت میں خارجہ پالیسی بنانے اور چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے پر بھی متعلقہ جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈیم تعمیر کرو چندہ مہم کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ ملک چندوں سے نہیں چلائے جاتے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ