اسلام آباد سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کرے گا،برطانوی میڈیا کا دعویٰ ،پاکستان اور چین کی تردید 

102

لندن/اسلام آباد/بیجنگ(نمائندہ جسارت/ خبر ایجنسیاں) پاکستان سی پیک معاہدے پرنظرثانی کرے گا اور نئے سرے سے شرائط طے کی جائیں گیجس میں قرض کی ادائیگی اور منصوبوں کی مدت بڑھاناشامل ہوگا ۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے اس حوالے سے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کردی ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی کونسل کو سی پیک منصوبوں کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ادائیگیوں کی تفصیلات معلوم ہو۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان معاشی عدم استحکام کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے چھٹکارا چاہتا ہے جب کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے چین اور سعودی عرب سے بات چیت کی جائے گی۔برطانوی اخبار کے مطابق پاکستانی مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ سی پیک معاہدوں میں پاکستانی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور چینی کمپنیاں ناجائز فائدہ اٹھارہی ہیں لہٰذا سی پیک منصوبوں کو ایک سال کے لیے روک دینا چاہیے۔ عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ
پچھلی حکومت نے سی پیک معاہدوں میں چین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کے خلاف فیصلے کیے جس کے بعد چینی کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی گئی جو کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے لیے بہتر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر نظر ثانی کا مقصد پاکستانی کمپنیوں کو خسارے سے محفوظ رکھنا ہے۔ دوسری جانب مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے فنانشل ٹائمز کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے مستقبل پر پاکستان اور چین کے درمیان اتفاق ہے، پاکستان سی پیک کو رول بیک نہیں کررہا، پاکستان نے چین کے وزیر خارجہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سی پیک قومی ترجیحی منصوبہ ہے۔ادھر پاکستان میں چین کے سفارتخانے نے بھی فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے اسے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے ۔ چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سی پیک پر پاکستان اور چین کا مؤقف یکساں ہے ،یہ باہمی طور پر مفید منصوبہ ہے اور دونوں ممالک پاکستان کی ضروریات اور ترقی کی خاطر سی پیک کی جلد تکمیل کے لیے پر عزم ہیں ، برطانوی رپورٹ گمراہ کن اور غلط طور پر منسوب معلومات پر مبنی ہے جو کہ واضح کرتی ہے کہ رپورٹ دینے والا سی پیک اور پاک چین روایتی شراکت داری کے حوالے سے مکمل طور پر لاعلم ہے ۔ علاوہ ازیں چین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت بننے والے تمام منصوبوں سے پاکستان کے عوام کو یکساں فائدہ پہنچے گا اورعام آدمی کواس کے واضح اورٹھوس فوائد حاصل ہوں گے، وانگ یی کے دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کی حکومت کے ساتھ جامع بات چیت، مختلف شعبوں میں جامع تعاون اورنئی صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعتوں سے ہمکنارکرنا تھا، سیاسی طورپردونوں ممالک باہمی سٹریٹجک اعتماد کو مزید گہراکریں گے۔ یہ بات چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ میں بتائی۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کوآگے بڑھانے میں دونوں ممالک نے کردار اداکیاہے اوراس کے فائدے واضح اورٹھوس ہیں، پاکستان اورچین دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا اظہارنہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی تعاون کے تمام شعبوں کا احاطہ بھی کرتا ہے ۔ترجمان نے کہاکہ دونوں ممالک نیصنعتی تعاون اورعوامی روزگارکے منصوبوں کو ترجیح دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مغربی علاقوں تک تعاون کو وسعت دی گئی تاکہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ