سندھ حکومت نے کے ایم سی بجٹ کے غلط استعمال کا نوٹس لے لیا،ترقیاتی منصوبوں کیلیے 82 کروڑ جاری

66

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ نے سالانہ ترقیاتی بجٹ کی پہلی قسط کی مد میں 82 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کردیے جبکہ بجٹ کے غلط استعمال کا بھی نوٹس لے لیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے کے ایم سی کو منتقل کی گئی یہ رقم تنخواہ کے سوا ہر قسم کے بجٹ کی ادائیگیوں پر پابندی لگانے سے 2 روز قبل جاری کی ہے۔ جس کے نتیجے میں کراچی کے جاری ترقیاتی منصوبے التواکا شکار نہیں ہوسکیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن کمشنر نے میئر کو سفارش کی ہے کہ ترقیاتی بجٹ کے اخراجات دستاویزات کے مطابق کیے جائیں اور جس محکمے کے لیے جو رقم مختص کی گئی ہے اس کے مطابق ہی ڈپارٹمنٹ کو فراہم کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمان کی طرف سے یہ خصوصی سفارش بجٹ کے غلط استعمال پر کی گئی ہےمیٹروپولیٹن کمشنر کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ ترقیاتی بجٹ کا 85 فیصد محکمہ ٹیکنیکل سروسز کے حوالے کیا جارہا تھا جو خلاف ضابطہ تھا۔ تاہم اب ایم سی کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکموں کو ان کا بجٹ فراہم کیا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت ہر سال مختص کیے گئے بجٹ کے مطابق فنڈز فراہم کرتی ہے اس لیے میئر وسیم اختر کا یہ مؤقف درست نہیں ہے کہ کے ایم سی کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے بلکہ سچ بات یہ ہے کہ فنڈز کا استعمال قواعد کے تحت نہیں کیا جارہا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت سند ھ نے ترقیاتی بجٹ کو غیر اصولی طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے چند روز جسارت میں شائع ہونے والی خبر کا بھی نوٹس لیا ہے۔اس حوالے سے میٹروپولیٹن کمشنر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ