مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کیخلاف مظاہرے،فائرنگ سے نوجوان شہید

51

سری نگر(اے پی پی)مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج کی جانب سے شروع کی گئی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں جبکہ حضرت بل کے علاقے میں فائرنگ سے ایک نوجوان شہید ہوگیا ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج نے اتوار کی دوپہر کے وقت ضلع شوپیاں کے علاقوں ٹکی پورہ اور رونی پورہ کو محاصرے میں لے کرگھر گھر تلاشی شروع کر دی۔ سرچ آپریشن کی خبر پھلتے ہی علاقے کے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبر دست احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس کے بعد مظاہرین اور قابض اہلکارو ں کے درمیان جھڑپیں شروع گئیں جن کا سلسلہ آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ دوسری جانب مقبوضہ وادی کے علاقے حضرت بل میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کر کے ایک نوجوان آصف نذیر ڈار کو شہید کردیا ۔اس سے قبل نامعلوم مسلح افراد ے سوپور کے علاقے بومئی میں ایک حریت کارکن حاکم الرحمان سلطانی کو بھی گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ حکیم الرحمان ڈیڑھ سال کی غیر قانونی نظربندی کے بعد حال ہی میں جیل سے رہا ہواتھا۔دریں اثنا ایک اور واقعے میں پلوامہ قصبے کے مورن چوک میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کرکے ایک خاتون کو زخمی کردیا۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر پلوامہ کے ڈسٹرکٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں سے اسے سرینگر اسپتال میں منتقل کیاگیا۔ ادھرسید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کی غیر قانونی نظر بندی سے حال ہی میں رہاہونے والے بومئی سوپور کے نوجوان حریت کارکن حاکم الرحمان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آزادی پسند سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے قتل کے المناک واقعات پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ انہوں نے بہیمانہ واقعے کی تحقیقات کے لیے 6 رُکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ حقائق کا پتا لگا کر اس حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی وضع کی جاسکے۔ حریت قیادت نے کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ صبروتحمل اور نظم وضبط کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں تاکہ ان اندوہناک سانحات کے پیچھے تحریک دشمنوں کے مذموم ارادوں اور ناپاک سازشوں کو بے نقاب اور ناکام بنایا جاسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ