حجاب مسلمان عورت کا فخرووقار

167

سارہ احسان

عالمی یوم حجاب پرہربا حجاب عورت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ حجاب اسلام کا عطا کردہ معیار عزت و عظمت ہے۔ حجاب ہمارا حق ہے یہ کوئی پاپندی یاجبرکی علامت نہیں بلکہ حکم خداوندی ہے اور حجاب کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ہمارا فخرہمارا وقار ہے۔دوسری یہ بات کہ ہم سب حجاب مخالف پروپیگنڈہ ،با حجاب خواتین کے ساتھ مذہبی امتیازی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف سب مل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کر وا ئیں تا کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے حجاب پر عائد پاپندی کا قانون ختم کر وایا جا سکے ۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں جہاں بھی خواتین حجاب لینے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور انکو یہ یقین دلا ئیں کہ وہ اکیلی نہیں ہے ہم ان کے ساتھ ہے۔
مغربی ممالک میں عورت کو حجاب لینے پر پاپندی لگانا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرہ مسلم سماج میں بڑھتی ہوئی دینی بیداری اور شعور کو دیکھ کر خوف زدہ ہے جسکی وجہ سے مسلم معاشرے میں حجاب کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مغربی ذرائع ابلاغ کا فی خوف زدہ نظرآرہے ہیں۔ یہ خوف 11ستمبر کے حملوں کے بعد دوگنا ہوگیاہے۔سب سے پہلے فرانس میں حجاب پر پاپندی عائد کی گئی پھر ہالینڈ، جرمنی، ڈنمارک ، اٹلی اور بیلجیم میں بھی حجاب پر پاپندی عائد کی جا چکی ہے۔ حجاب کے خلاف کہیں پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو رہی ہے تو کہیں جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ باحجاب طالبات پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ہوائی اڈوں پر بے توقیر کیا جا رہا ہے اور بازاروں میں توہین آمیز سلوک کیا جا رہا ہے۔ مغرب کے منافقانہ طرز عمل کے باوجود لوگ تیزی سے اسلامی تعلیمات کی طرف راغب ہو رہے ہے اور نو مسلموں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے مریم جمیلہ، ایوان رڈلے سمیت درجنوں نام ہے جنہوں نے مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی معاشرتی اقدار سے بغاوت کی اور اسلام کے دامن آغوش میں پناہ لی اور حجاب لیا۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالے مغربی تہذیب کی یلغار میں بہت سے ممالک نے حجاب پر پاپندی عائد کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے آئندہ بھی انھیں ناکامی کا ہی سامناکرنا پڑے گا۔ان کے ہاں معاشی و معاشرتی سرگرمی اور ترقی کا کوئی کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک عورت حجاب سے باہر نہ آجائے۔ اسے مسلم عورت پر جبر،ظلم اور قید کی علامت قرار دیاجا تاہے لیکن دوسری طرف مغرب اس سے یوں خوف زدہ ہے جیسے یہ کوئی بم ہو جو انھیں تباہ کر دے گا۔انھوں نے دنیا میں کہنے کو معاشی ترقی تو حاصل کر لی لیکن پورے عالم انسانیت کی اقتدار کو تباہ و برباد کر دیا ہے ان معاشروں کے اندر خاندانی استحکام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ مرد کی سربراہی ختم ہوئی، عورت آزاد ہوئی، گھر سے باہر نکلی، پردے کی حدودقیود توڑ یں، ہوس ناک نگاہوں کا شکار ہوئی، جنسی بے راہ روی حد سے بڑھی اور اب عالم یہ ہے کہ ہر تیسری شادی کا انجام طلاق پر ہو رہاہے۔بے سہارا بچے ڈیپریشن کا شکار ہو رہے ہیں اور بچوں میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ عورت جب شوہر کی قوامیت کا سائبان چھوڑ کر اور بے حجاب ہو کر باہر نکلی تو خود مغربی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ہر چوتھی عورت بوائے فرینڈ اور شوہر سے پٹتی ہے۔مغربی ممالک نے اپنے معاشرے کی اقتدار کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور اب وہ ہماری قو م کا بھی یہی حال کرنا چاہتے ہیں۔ آج بھی عورت کے تقدس کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے ۔ کبھی اس کو اشتہارات کی زینت بنایا جاتا ہے، کبھی اسکی خوبصورتی کو تجارتی مقاصد یا محفل میں کمرشل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اب سڑکوں اور جلسوں میں عورتوں کا بھنگڑا کلچر کی بھی ابتدا کر دی گئی ہے ۔ہم عموماً اپنی قیمتی اشیاء کو ہمیشہ دوسروں سے چھپا کر پردے میں رکھتے ہیں تاکہ اسے بیرونی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکیں اور اسکی قدروقیمت میں کوئی کمی نہ آئے۔ اسی طرح عورت بھی ایک بہت قیمتی چیز ہے اسکو سیپ میں بند قیمتی موتی سے تشبیہ دی جاتی ہے پھر کیسے کوئی عورت اپنے آپ کو بے پردہ کر کے سرعام نکلتی ہے اور اپنی اہمیت اور قدرو قیمت کو خود کم کرواتی ہے۔ ایک با حجاب عورت کے شوہر کو معلوم ہے اسکی بیوی کا سارا حسن صرف اسی کے لیے ہیں تو اس شوہر کے دل میں اپنی بیوی کے لیے کتنی محبت اور عزت و احترام ہو گا جس کی وجہ سے ان کا خاندانی نظام مستحکم ہو گا۔
یہ دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے گزشتہ کئی سالوں سے ا س سال بھی دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یوم حجاب کو پورے جوش و خروش سے منانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد حجاب کا استعمال عام کرنا نہیں بلکہ اس کی اہمیت اور افادیت کو بھی اجاگر کر نا ہے۔ ہرگزرتے سال کے ساتھ ساتھ یہ دن منانے والوں کی تعداد میں کئی گنااضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب کہ بے شمار ایسی خواتین جو باقاعدہ حجاب نہیں کرتی اس دن کی مناسبت سے آئندہ مستقبل میں با حجاب رہنے کا عہد بھی کر رہی ہیں۔ شاید اسی لیے دنیا بھر کی خواتین میں حجاب کی مقبولیت بھی تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ میڈیا پر بھی حجاب کے دن کی مناسبت سے خصوصی پروگرامات، ٹاک شوز اور خاص طور پرمارنگ شوز دکھائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں حال ہی امریکہ کے P E W ریسرچ سینٹر نے ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطا بق تیونس، مصر، ترکی، عراق، لبنان،پاکستان اور سعود ی عرب میں محض 4 فیصد خواتین ایسی ہیں جو حجاب کو پسند نہیں کرتیں ۔ 12 فیصد حجاب نہیں لیتی لیکن پسند ضرور کرتی ہیں جب کہ ایک بڑی تعداد سکاف لینے والیوں کو پسند کرتی ہے بلکہ خود لیتی بھی ہے۔حال ہی میں پاکستانی شوبزسے وابستہ کچھ لڑکیوں نے واپس دین کی طرف رغبت اختیار کی ہے اور حجاب پہننا شروع کر دیا ہے جس میں سارہ چوہدری کا نام سرفہرست ہے پھرعروج ناصر اور ستائش خان یہ بہت مثبت قدم ہے اور باقی لڑکیوں کے لیے مشعل راہ بھی ہے۔ شعبہ صحافت سے وابستہ عصمہ شہرازی، فریحہ ادریس اور مہربخاری سرڈھاپ کر ٹاک شوز کرتی ہیں جس سے ان کی شخصیت مزیدپرکشش نظر آتی ہے۔ نئے وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بھی ایک باپردہ خاتون ہے جو کہ صحیح معانوں میں ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون اول ہونے کی نمائندگی کر رہی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کا مشائدہ ہے کہ حجاب ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اس لیے وہ اسے پسند نہیں کرتے اور یہ بھی کہ عموماً باحجاب لڑکیاں و خواتین کو کم پڑھی لکھی بلکہ جاہل تصور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہ ان کے اندر صلاحتیں کم ہوتی ہے اور وہ ماڈرن دور میں موجودہ درپیش چیلنجزو مسائل کا ڈٹ کے مقابلہ نہیں کر سکتی ہے کیونکہ وہ احساس کمتری کا شکار ہوتی ہے اور ان کے اندر خود اعتمادی کا فقدان بھی ہوتا ہے۔انکو اچھی ملازموں کے لائق نہیں سمجھا جاتاکیونکہ وہ اس ماحول میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے رشتے اچھے اور پڑھے لکھے خاندان سے نہیں آسکتے، نہ ہی آج کے دور کے لڑکے ا نکو اپنا شریک سفر بنانا چاہتے ہے ۔حالانکہ پاکستان میں حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ، تقربا اسی فیصد لوگ با حجاب عورت کو پسند کرتے ہے ا نہی سے شادی کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں انکو عزت و احترام دیتے ہے اوران پر گندی نگائیں نہیں ڈالتے۔
اگر میں اپنی بات کروں تو حقیقتاً حجاب میری زندگی کی ترقی و کا میابی میں کبھی بھی روکاوٹ نہیں بنابلکہ یہ مجھے ایک ایسے تحفظ کا احساس دیتا ہے جس سے میرے اندر حوصلہ اور خود اعتمادی آتی ہے، جو عزت و احترام ملتا ہے اس سے دل میں بہت خوشی اور سکون ملتا ہے،زندگی میں آگے بڑھنے اور مزید کامیابی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے بزنس ایڈمینیسٹریشن میں ڈگری حاصل کی جس کی وجہ سے مجھے دوران تعلیم مختلف ملٹی نیشنل کمپنیزکے دفاتر میں اپنے پروجٹکس کے لیے جانا پڑتا تھا، میں جہاں جہاں بھی گئی مجھے بہت عزت اور پذیرائی ملی، وجہ میری ڈگری بھی تھی لیکن اصل وجہ میرا حجاب تھا۔اسلام آباد کی ایک مشہورکنٹرکشن کمپنی میں اپنے فائنل پروجیکٹ کے لیے بار بار جانا پڑھتا تھا، وہاں پہ ماڈرن اور اعلی تعلیم یافتہ اسٹاف تھا۔ان سے ڈسکشن کے دوران انھوں نے مجھ سے میرے حجاب کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ میں نے یونیورسٹی میں داخل ہوتے وقت حجاب لینا شروع کیا مجھے معلوم تھا کہ اب میں عملی زندگی میں داخل ہو رہی ہوں، طرح طرح کے لوگوں سے سامنا ہوگاتو یہ حجاب ہی میری حفاظت کرے گااور مجھے عزت و احترام دیگا۔وہاں پہ موجود ایک سر نے کہا اوپر سے تعریف تو ہم ایک ماڈرن سوچ رکھنے والی اورماڈرن فیشن کالباس زیرتن کیے ہوئے کی کرتے ہے مگر سچ میں ہمیں ایک پڑھی لکھی با حجاب لڑکی کو اپنی شریک حیات بنانا زیادہ پسند کرے گئے ۔چار سال پہلے میں نے ملکی سطح پر منقعد مقابلہ مضبون نویسی میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اسکی تقسیم اسنادو گفٹ کی پر وقار تقریب پاکستان سائنس فاؤنڈیشن میں منقعد ہوئی تھی۔ اس تقریب میں خواتین و مرد اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے اور جب میں اپنی فیملی کے ہمراہ ہال میں داخل ہوئی اور مجھے باحجاب پایا تو فوراً آگے بڑھ کر سب کو الگ الگ بٹھا دیااور مجھے بھی بیٹھنے کو کہا۔ ان کا یہ طرز عمل، عزت و احترام دینا مجھے اپنے انعام لینے سے زیادہ خوشی دی۔ میں ایک پرا ئیوٹ یونیورسٹی میں جاب کرتی ہوں وہاں پر بھی مجھے حجاب کی وجہ سے کوئی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ ہر کوئی مجھے بہت عزت و احترام دیتا ہے جسکی وجہ میری جاب اسٹیٹس سے زیادہ میرا حجاب اور رویہ ہے۔اس خوشی کا تصور میں بیان نہیں کر سکتی جب آفس میں مجھے میرے کولیگز مجھے سسٹر اور سر بیٹی کہہ کرپکارتے ہیں۔
حجاب عورت کی زینت ہے یہ شیطان اور اس کے ساتھیوں سے حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے۔ یہ حجاب ہی ہے جو عورت کو معاشرے میں باعزت مقام بخشتا ہے حتی کہ ایک نامحرم بھی بہن اور باجی کے الفاظ استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حجاب عورت کی عزت وناموس کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے یہ عورت کے لیے زرہ ہی ہے جو شیطانوں کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے اﷲکی طرف سے عورت کو ملی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ