ڈاکٹر جہاں آراء لطفی

200

ربیعہ الرائ

فروخ جب مدینے آیا وہ ایک بہادر نوجوان تھا۔ عمر یہی کوئی تیس بتیس کی ہوگی، اس نے اپنی رہائش کے لیے ایک گھر خریدنے کا ارادہ کیا اور اپنے لیے زندگی کا ساتھی تلاش کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا کہ ایک پرسکون زندگی بسر کرسکے اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نے سب سے پہلے شہر کے مرکز میں ایک گھر خریدا اور پھر اس کے بعد ایک ہم عمر، ذہین عقلمند اور دیندار لڑکی کا انتخاب کرکے اس سے شادی کی اور اپنا گھر بسالیا۔ اب فروخ اپنی بیوی کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے لگا۔ ایک دن فروخ نے مسجد میں خطیب صاحب کو تقریر کرتے سنا۔ وہ لوگوں کو اسلامی فوج کی بہادری اور فتح و نصرت کے بارے میں آگاہ کررہے تھے، ان کا مقصد لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی طرف راغب کرنا تھا۔ وہ خاص طور سے نوجوانوں کو اسلامی فوج میں شمولیت کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ فروخ گھر لوٹا تو فوج میں شامل ہونے کا پختہ ارادہ کرچکا تھا، اس نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکل رہا ہے، اس کی بیوی نے پوچھا کہ ’’آپ مجھے اور اس جان کو جو میرے رحم میں پرورش پارہی ہے کس کے حوالے کرکے جارہے ہیں‘‘۔ اس پر فروخ نے جواب دیا کہ ’’میں تمہیں اور اپنے ہونے والے بچے کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑ کر جارہا ہوں‘‘۔ ساتھ ساتھ میں تم دونوں کے لیے تیس ہزار دینار جو مجھے ایک جنگ میں مال غنیمت کے طور پر ملے تھے چھوڑے جارہا ہوں، تم اس سے کوئی کام کرلینا اور اپنے اور اپنے بچے کے اوپر خرچ کرلینا، یہاں تک کہ میں صحیح سلامت واپس لوٹ آئوں گا، یا پھر شہادت کا درجہ پالوں گا‘‘۔ پھر فروخ نے اپنی بیوی کو الوداع کہا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔
فروخ کے جانے کے چند ماہ بعد اس کی بیوی کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی۔ بڑا ہی خوبصورت اور پیارا بچہ تھا۔ اُس بچے کو پا کر اُسے اس قدر خوشی اور اطمینان حاصل ہوا کہ وہ تقریباً اپنے شوہر کو بھول گئی۔ اس نے بچے کا نام ربیعہ رکھا۔ ابھی ربیعہ چھوٹا سا ہی تھا کہ اس عقلمندی، دانائی اور ذہانت کے آثار اس میں دکھائی دینے لگے۔ اس کی ماں اُسے بہترین استادوں کے پاس لے گئی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس کی تعلیم و تربیت احسن طریقے سے کریں۔ انہوں نے ربیعہ کو اپنی شاگردی میں لے لیا۔ ابھی ربیعہ کو ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس نے لکھنے پڑھنے میں مہارت حاصل کرلی۔ اس نے سب سے پہلے قرآن مجید حفظ کرلیا وہ بڑی خوبصورت تلاوت کیا کرتا تھا جس قدر ہوسکا احادیث نبویہ بھی اس نے یاد کرلیں۔ ساتھ ہی عرب شعراء کا کلام اور ادیبوں کے شہ پاروں کا ایک بڑا حصہ بھی ذہن نشین کرلیا اور وہ تمام علوم سیکھ لیے جن کو سیکھنے کی تمنا اور شوق اس میں پیدا ہوگیا تھا۔
اس کی ماں اپنے شوہر کو بے حد یاد کیا کرتی اور اس کی آمد کی منتظر رہا کرتی۔ اُسے یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ آئے گا۔ لیکن اس کی غیر موجودگی طویل سے طویل تر ہوتی چلی جارہی تھی۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ اُسے فروخ کے بارے میں متضاد خبریں سنائی دینے لگیں۔ بعض لوگوں نے اطلاع دی کہ وہ دشمنوں کی قید میں ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ قید میں نہیں بلکہ اللہ کے راستے میں مسلسل جہاد کررہا ہے۔ ایک گروہ مجاہدین کا ایسا بھی تھا جس نے میدان جنگ میں حصہ لیا تھا اور اب وہ واپس آچکے تھے اس گروہ کے لوگوں نے بتایا کہ فروخ میدان جنگ میں شہید ہوچکا ہے۔ یہ خبر ربیعہ کی ماں کو سب سے آخر میں ملی وہ اس خبر کو سن کر بے حد افسردہ ہوگئی۔ ربیعہ بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اب جبکہ وہ قرآن حفظ کرچکا ہے مختلف دینی علوم میں مہارت حاصل کرچکا ہے تو تم اس کے لیے کوئی پیشہ چن لو اور کوئی کام کاج شروع کروادو وہ جواب دیتی کہ ’’میں نے اللہ سے دُعا کی ہے کہ وہ اسے اپنے کسی کام پر لگادے جس میں اُسے دین و دنیا دونوں میسر آجائیں۔ ربیعہ نے اپنے لیے کام چن لیا تھا۔ اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ درس و تدریس میں اپنی زندگی گزارے گا جتنی اللہ نے توفیق دی وہ اپنی زندگی اس کے کاموں میں گزار دے گا۔ یہ طے کرکے ربیعہ مسجد نبوی کی علمی مجالس میں شریک ہونے لگا۔ جہاں اس نے انسؒ بن مالک، سعیدؒ بن المسیب، مکحولؒ شامی، اور سلمہؒ بن دینار سے اکتساب علم کیا۔ وہ رات دن حصول علم میں منھمک رہا کرتا اور بے حد محنت مشقت کیا کرتا۔ اس بارے میں جب کوئی اس سے دریافت کرتا کہ وہ محنت مشقت کیوں کرتا ہے؟ تو ربیعہ بڑا پیارا جواب دیتا کہ ’’ہم نے اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ علم آپ کو اپنا کچھ حصہ جب تک نہیں دیتا جب تک کہ آپ اُسے اپنا آپ مکمل طور پر حوالے نہیں کردیتے۔ یوں وہ علم کے بلند مقام پر جا پہنچا اور پھر لوگوں میں ربیعہ کے چرچے ہونے لگے اور وہ لوگوں میں مقبول ہوتا رہا۔ جلد ہی اس کی شہرت مدینے سے باہر نکل کر دیگر عرب سرزمینوں پر جا پہنچی۔
ایک رات ایک شہسوار مدینے میں داخل ہوا۔ یہ شہسوار اپنی عمر کے 70 ویں برس میں تھا۔ وہ گھوڑے پر سوار اپنے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا اسے کچھ پتا نہ تھا کہ اس کا گھر موجود ہے بھی یا نہیں۔ وہ بہت عرصے تک اپنے شہر سے دور رہا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ نہ معلوم اس کی بیوی کس حال میں ہوگی جو اس کے جسم میں پرورش پارہا تھا نہ جانے بیٹی تھی یا بیٹا؟ نہ جانے زندہ ہے بھی یا نہیں… اور وہ مال جو وہ چھوڑ کر گیا تھا کیا بنا ہوگا اس کا؟ کسی نے اس شہسوار کو نہیں پہچانا، کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، وہ ایکدم اپنے گھر کے دروازے پر جا پہنچا، اسے گھر کا دروازہ کھلا دکھائی دیا، وہ اندر داخل ہوگیا، جب گھر کے مالک نے اس سوار کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو اس نے اپنی تلوار سونت لی اور گھر کے اندر آکر اس پر برس پڑا۔ کون ہو تم؟ کیا چاہتے ہو؟ کیا میرے گھر کو لوٹنا چاہتے ہو یا میرے گھر والوں پر حملہ کرنا چاہتے ہو؟ پھر وہ دونوں ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے، اسی شور شرابے کو سن کر محلے پڑوس کے لوگ ان کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ اور اس اجنبی شخص کا گھیرائو کرلیا، وہ اس پر قابو پانے کے لیے اپنے پڑوسی کی مدد کررہے تھے۔ گھر کا مالک کہہ رہا تھا میں تمہیں کوتوال شہر کے حوالے کروں گا۔ اے اللہ کے دشمن! اس پر اجنبی شخص نے جواب دیا ’’میں اللہ کا دشمن نہیں ہوں! میں نے کوئی جرم نہیں کیا! یہ میرا گھر ہے، میں اپنے گھر میں آیا ہوں۔ میں نے دروازہ کھلا دیکھا تو اندر آگیا۔ پھر وہ لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ’’اے لوگو! سُنو، یہ میرا گھر ہے، میں نے اسے اپنے مال سے خریدا تھا، یاد کرو میں فروخ ہوں فروخ… گھر کے مالک کی والدہ یعنی ربیعہ کی ماں اس وقت سوئی ہوئی تھی اس نے جو یہ شور سنا تو اٹھ گئی۔ اور جونہی کھڑکی سے جھونکا تو اس کی نظر فروخ پر پڑی وہ اُسے فوراً پہچان گئی۔ ایکدم چلا کر بولی… اسے چھوڑ دو۔ ربیعہ اسے چھوڑ دو۔ یہ تمہارا باپ ہے۔ یہ الفاظ ربیعہ اور فروخ دونوں نے سنے تو ایکدم ٹھٹھک کے رہ گئے۔ پھر دونوں فرط مسرت سے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
کچھ لمحوں بعد فروخ اپنی بیوی کے پاس بیٹھا تھا اور دونوں ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کررہے تھے، اپنی اپنی داستان سنا رہے تھے اچانک فروخ نے کہا ’’اے ام ربیعہ یومیہ چار ہزار دینار ہیں جو مجھے مال غنیمت کے طور پر ملے اس نے دینار نکال کر اُم ربیعہ کی طرف بڑھائے پھر سوال کیا کہ وہ مال کیا ہوا جو میں تمہارے پاس چھوڑ گیا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی باغ یا دکان خرید لوں اس مال سے۔
ام ربیعہ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’مال تو میں نے وہاں لگادیا جہاں اسے لگنا چاہیے تھا… صبر کریں میں وہ مال آپ کو لوٹا دوں گی۔ ’’ٹھیک ہے‘‘ فروخ نے جواب دیا۔ پھر وہ نماز کے لیے وضو کرنے لگا، ربیعہ کہاں ہے اس نے گھر والوں سے پوچھا تو گھر والوں نے بتایا کہ وہ اذان کے ہوتے ہی مسجد چلا جاتا ہے۔ جب فروخ مسجد پہنچا تو معلوم ہوا جماعت تو ہوچکی ہے۔ فروخ نے نماز ادا کی پھر اس نے دیکھا کہ وہاں مسجد میں علم کا ایک بہت بڑا حلقہ بنا ہوا ہے۔ اتنا بڑا کہ اس سے پہلے اس نے بھی نہیں دیکھا تھا۔ کوئی شیخ تھے جن کے گرد لوگ گھیرا ڈالے بیٹھے تھے اور غور سے درس سن رہے تھے۔ فروخ نے بہت کوشش کی کہ وہ شیخ کو دیکھ لے مگر وہ دیکھ نہ پایا۔ کیوں کہ وہ شیخ بہت دور بیٹھے تھے۔ فروخ وہیں مسجد میں ایک طرف بیٹھ گیا۔ جونہی درس ختم ہوا فروخ نے اپنے برابر بیٹھے ایک آدمی سے پوچھا یہ کون صاحب ہیں جو درس دے رہے تھے۔ اس نے حیرت سے پوچھا ’’کیا تم مدینے کے رہنے والے نہیں؟ مدینے کا کون سا ایسا شخص ہے جو ان کو نہ جانتا ہو۔ فروخ نے کہا میں مدینے سے تیس برس دور رہا ہوں اور بیچ میں ایک دفعہ بھی مدینے نہیں آیا ہوں۔ کل ہی یہاں پہنچا ہوں مجھے اسی لیے کوئی معلومات نہیں۔ اس شخص نے کہا بیٹھو میں تمہیں بتاتا ہوں۔ پھر کہنے لگا ’’یہ وہ شیخ ہیں جنہیں تم نے ابھی سنا جو تابعین کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کم عمر ہونے کے باوجود مدینے کے محدث وفقیھ ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ان کے حلقے میں مالک بن انس، ابوحنیفہ العثمان، یحییٰ بن سعید، سفیان ثوری، امام اوزاعی اور اللیث بن سعد کے علاوہ بڑے بڑے اکابر علماء شریک تھے لیکن اس کے باوجود وہ بڑے منکر المزاج، شریف النفس اور سادہ آدمی ہیں۔
فروخ نے بے چینی سے کہا ’’لیکن جناب ان کا نام تو بتائیے! نام آپ نے اب تک نہیں بتایا۔ وہ کہنے لگا ’’ان کا نام تو ربیعہ ہے لیکن لوگوں نے ان کا نام ربیعہ الرائی رکھ دیا ہے۔ وہ اس لیے کہ اگر انہیں کسی معاملے میں قرآن و احادیث رسولؐ سے کوئی دلیل نہیں ملتی تو یہ اس معاملے میں اجتھاد کرتے ہیں، قیاس کرتے ہیں، اور جو کچھ وہ اجتھاد یا قیاس کے ذریعے اخذ کرتے ہیں تو کوئی اس رائے کو ماننے سے انکار نہیں کرتا اور خوشی سے تسلیم کرلیتا ہے۔ یعنی ان کی رائے اتنی پختہ ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی دلیل نہیں ہوتی، اس لیے ان کا نام ربیعہ الرائی ہوگیا ہے۔ فروخ نے پوچھا کہ ’’یہ بتائو کہ اس کے والد کا کیا نام ہے؟۔ ’’فروخ‘‘ اس آدمی نے جواب دیا، پھر کہنے لگا سنا ہے کہ وہ کل ہی مدینے پہنچا ہے اس پر فروخ کی آنکھوں سے بڑے بڑے آنسو ٹپکنے لگے۔
فروخ گھر واپس آیا تو اپنی بیوی سے کہا ’’میں دیکھ کے آرہا ہوں کہ ہمارا بیٹا علم و مرتبے کے ایسے مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں اس سے پہلے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ اس کی بیوی نے فوراً پوچھا ’’اچھا یہ بتائو دونوں میں سے کون تمہیں پیارا ہے؟ وہ تیس ہزار دینار یا وہ علم و مرتبہ جس پر تمہارا بیٹا فائز ہے‘‘۔
’’خدا کی قسم مجھے سب سے زیادہ محبوب اور دنیا کے مال و متاع سے بڑھ کر میرے بیٹے کا مقام و مرتبہ ہے‘‘۔ فروخ نے خوشی و مسرت سے جواب دیا۔
’’تو پھر میری جانب سے ربیعہ کی جانب سے اور سارے مسلمانوں کی جانب سے یہی دعا ہے کہ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے اے فروخ‘‘

Print Friendly, PDF & Email
حصہ