بھرم

42

عرشمہ طارق

گزشتہ سے پیوستہ

پڑوسن کو بھی سیدھی سادھی سلیقے والی بہو چاہیے تھی سو فوراً راضی ہو گئیں ۔ اور حنا کو اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا ۔ کچھ دن بعد ثنا کے امتحان شروع ہو گئے اور وہ ان میں مصروف ہو گئی ۔ اس کے بعد کچھ دن تھکن اتاری اور جاب کی تلاش کے لیے اخبارات میں اشتہار دیکھنے شروع کر دیے ۔ احسان صاحب اس کی نوکری کے حق میں نہیں تھے ۔ لیکن گھر کے حالات کی وجہ سے زیادہ زور زبر دستی نہیں کر سکے ۔ ویسے بھی ثنا کونسا ان کی بات مان لیتی ۔ ’’اُف کتنی خواری اٹھائی ہے تب کہیں جا کر ایک جگہ بات بنی ہے ‘‘ ۔ ثنا اپنی دوست اِرم کو فون پر تفصیل بتا رہی تھی ۔ ’’ کس نوعیت کی جانب ہے ‘‘۔ اِرم نے پوچھا ۔ ’’ تمہیں تو کوئی تجربہ بھی نہیں ہے ‘‘۔’’ ہاں یار ایک پرائیویٹ فرم ہے ۔ وہاں عارضی طور پر سیکریٹری کی جاب ملی ہے ۔ کیونکہ پرانی سیکریٹری ذاتی وجوہات کی بنا پر چھٹیوں پر گئی ہے ۔اگر میرا کام پسند آیا تو مستقل طور پر بھی رکھ سکتے ہیں ‘‘۔اِرم کے پوچھنے پر ثنا نے بتایا ۔ ’’ ذرا احتیاط کرنا بڑا بے تکلفی والا ماحول ہوتا ہے ان جگہوں کا ۔ مجھے پاپا کے ساتھ ان کے دوست کے آفس میں ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے تو مجھے کچھ اندازہ ہے ۔ میں تمہارے مزاج اورنا تجربہ کاری سے واقف ہوں اس لیے سمجھا رہی ہوں ۔ ‘‘ ارم نے سہیلی ہونے کا فرض نبھایا ۔’’ ہاں ہاں بھئی خیال رکھوں گی ‘‘۔ ثنا۔ اِرم کی نصیحتوں سے بیزار ہونے لگی اور خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا ۔ ابھی اسے آفس کے لیے کپڑوں کا بھی انتخاب کرنا تھا ۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ پہلی تنخواہ ملتے ہی اچھے اچھے کپڑے، بیگ اور سینڈل خریدے گی ۔ ایک دفعہ بھی اسے اپنے گھر کے حالات کا خیال نہیں آیا ۔ آفس جانے سے پہلے امی ۔ ابا کی نصیحتیں ثنا کے ساتھ تھیں کہ دوپٹہ ٹھیک طرح اوڑھنا ، کسی سے فالتو باتیں نہیں کرنا ، اپنے کام سے کام رکھنا وغیرہ وغیرہ جنہیں اس نے بہت ڈھٹائی سے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا ۔ اسے خوشی تھی کہ گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے اور گھر کے کاموں سے اسے چھٹکارا مل گیا ۔ کچھ ہی دنوں میں وہ آفس کے ماحول میں گھل مل گئی ۔ اور اپنے کام کو بہتر طریقے سے انجام دینے لگی ۔ امجد صاحب(باس) بھی اس سے کافی مطمئن تھے ۔ اکثر امجد صاحب کا بیٹا مراد بھی آفس آ جاتا تھا ۔ وہ بہت لیے دیے رہنے والا ، اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا ۔ جس دن وہ آتا اس کا ایک دوست جواد بھی اکثر آفس میں نظر آتا ۔ وہ کافی بے تکلف اور بے باک تھا ۔ آفس میں بھی سب سے ہی اس کی ہیلوہائے ہوتی تھی ۔ ثنا اپنے کام میں مگن تھی کہ سیٹی کی آواز پر اس نے سر اُٹھا کر نا گواری سے دیکھا اور جواد کے ہیلو کے جواب میں سلام کر کے پھر کام کی طرف متوجہ ہو گئی ۔ جواد کو غصہ تو آیا لیکن پھر کچھ سوچ کر نظر انداز کر دیا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ کافی ہینڈ سم تھا ۔ اور اوپر سے دولت کی ریل پیل نے اسے کافی بے باک بنا دیا تھا ۔ کچھ ہی دنوں میں اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ثنا کا تعلق مڈل کلاس سے ہے ۔ اکثرثنا کی ٹیبل پر آ کرا س سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا ۔ اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ۔ اب ثنا کو اس سے نا گواری یا بیزاری محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ غیر ارادی طور پر وہ اس کا انتظار کرنے لگی ۔ ثنا کو حیرت ہوتی کہ باس کا بیٹا تو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا بس کام کی بات اور بھیج دیا وہ سوچتی مراد اور جواد کے مزاجوں میں کتنا فرق ہے پھر بھی ان کی دوستی قائم ہے ۔ دونوں کالج کے دنوں سے ساتھ تھے پھر ان کے والد آپس میں بزنس پارٹنر بھی تھے ۔ ہیلوکی مخصوص آواز پر ثنا کو حیرت ہوئی کہ آج تو مراد صاحب بھی نہیں آئے تو یہ کیسے آ گیا ۔ ’’ آج آپ یہاں کیسے؟‘‘ ثنا کے سوال پراس نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا جس سے وہ بڑ گئی ۔ ’’ آپ سے باتیں کرنے کا دل چاہ رہا تھا اس لیے آنا پڑا‘‘۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ثنا نے بے یقینی سے اسے دیکھا ۔ ’’ مس ثنا اگر آپ برا نہ مانیں تو آج ہم لنچ ساتھ کریں‘‘۔ جواد نے اسے نرم پڑتا دیکھ کر آفر کی ۔ ثنا کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے ۔ جواد نے خود ہی جواب دیا کہ ’’ چلیں چائے یا کافی پی لیتے ہیں۔ آج میں بھی جلدی میں ہوں ۔ لنچ پھر کسی دن کر لیں گے ‘‘۔ جواد کے اصرار پر وہ راضی ہو گئی لیکن اس شرط پر کہ وہ زیادہ ٹائم نہیں دے سکتی ۔ جواد نے فوراً حامی بھر لی ۔ اب اکثر ایسا ہی ہوتا کہ کسی بھی دن جواد آتا اس کے ساتھ کچھ وقت گزارتا اور چلا جاتا ۔ جواد کافی ہوشیار تھا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ثنا امیر بننے کے خواب دیکھتی ہے ۔ اور اس نے ثنا کی کمزوری کابھر پور فائدہ اٹھایا ۔ وہ کسی نہ کسی بہانے اسے تحائف دیتا رہتا شروع میں تو اسے جھجھک ہوتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے یہ سب اچھا لگنے لگا ۔ اور وہ جواد کی احسان مند رہتی کہ اسے اس کا کتنا خیال ہے ۔’’ مس ثنا میں دیکھ رہا ہوں آج کل آپ کام پر زیادہ دھیان نہیں دے رہی ہیں۔ آپ عارضی طور پر یہاں کام کر رہی ہیں ۔ بہتر ہو گا کہ فضولیات سے بچیں اور کام پر توجہ دیں ۔ ‘‘ مراد کا اشارہ ثنا اور جواد کی دوستی کی طرف تھا ۔ ثنا دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی ۔ ’’ کیا بات ہے آج موڈ خراب لگ رہا ہے ۔ ‘‘ جواد نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ ’’ یہ آپ کا دوست اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے ۔ ‘‘ وہ روہانسی ہو رہی تھی ۔ ’’ اچھا اب سمجھا یقیناً مراد نے کچھ کہا ہو گا ۔ وہ شروع ہی سے بور ہے ۔ لائف انجوائے کرنا نہیں جانتا ۔ خیر چھوڑو تم اپنا موڈ ٹھیک کرو آج تمہارے لیے ایک سر پرائز گفٹ ہے ‘‘ ۔ جواد نے موقع سے فائدہ اٹھایا ۔ثنا نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا ۔’’ ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔ یقین نہیں آ رہا تو میرے ساتھ چل کر دیکھ لو ‘‘۔’’ کیا مطلب کہیں جانا ہے کیا؟‘‘ ثنا کے سوال پر جواد نے بظاہر لا پرواہی ظار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر نہیں جانا تو چھوڑو رہنے دو‘‘۔ ثنا جلدی سے بولی ۔ ’’ نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں بس دیر ہوتی ہے تو امی ۔ ابا فکر کرتے ہیں‘‘۔ جواد نے کہا ۔’’ زیادہ دیر نہیں لگے گی واپسی میں تمہیں تمہارے گھر کے قریب چھوڑ دوں گا ۔ ‘‘ آفس ٹائم کے بعد دونوں کو ساتھ جاتا دیکھ کر مراد نے عجیب سی نظروں سے ثنا کو دیکھا ۔ جسے اس نے نظر انداز کر دیا اور آگے بڑھ گئی ۔ نہ جانے کیوں مراد کی چھٹی حس کچھ کہہ رہی تھی ۔
’’ میںنے اپنے دوست کو تمہارے بارے میں بتایا ہے اور گفٹ اسی کے پاس ہے وہیں چلتے ہیں۔‘‘جواد نے راستے میں اسے بتایا ۔ ثنا نے کہا ۔’’ اس کے گھر والے کیا کہیں گے ۔ اچھا نہیں لگتا اس طرح کسی کے گھر جانا ۔ ‘‘ ارے اپر کلاس کے لوگ ان باتوں کو معیوب نہیں سمجھتے ۔ کچھ نہیں ہوگا ۔ ‘‘ جواد نے اسے تسلی دی اور گاڑی ایک گھر کے آگے روک دی ۔ اور اسے چلنے کے لیے کہا ۔ ثنا کچھ گھبراہٹ سی محسوس کر رہی تھی اسے یہ سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا ۔ اس کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے جواد نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑاا ور آگے بڑھ گیا ۔
( جاری ہے )
دروازہ جواد نے کھولا تو ثنا حیران ہوئی کہ جواد کا دوست کہاں ہے؟ اس سے پہلے کہ ہ کچھ کہتی وہ اسے پکڑ کر اندر لے گیا ۔ ثنا کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ لیکن اس وقت تک دیرہو چکی تھی ۔ اور جواد کی اصلیت اس پر ظاہر ہو چکی تھی ۔ اس نے سچے دل سے گڑگڑا کر اللہ کو یاد کیا ۔ا ور مدد مانگی ۔ جواد کے غلط ارادے کو بھانپ کر ثنا نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ اسے جانے دے ۔ ’’ کیسا لگا سر پرائز گفٹ ‘‘ جواد نے اس کے قریب ہو کر خباثت سے قہقہہ لگایا ۔ ثناپھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اس سے پہلے کہ جواد کو کچھ کرنے کا موقع ملتا ۔ دروازے پر کوئی بھاری چیز مارنے کے ساتھ ساتھ مراد کی غصے میں بھری آواز سنائی دی ۔ وہ جواد کو دروازہ کھولنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔جس پر جواد بوکھلا کر دوسری طرف سے فرار ہو گیا ۔ اور ثنا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا ۔ مراد کو سامنے دیکھ کر ثنا کا سر ندامت سے جھک گیا ۔ مراد نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی اور باہر آنے کا کہہ کر نکل گیا ۔ ثنا شرمندگی کے احساس سے دبی جا رہی تھی ۔ مراد کے پوچھنے پر اس نے گھر کا پتا بتایا سارے راستے وہ روتی رہی ۔ گھر سے کچھ فاصلے پر گاڑی روک کر مراد غصے سے بولا ’’ تم جیسی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جو ماں باپ کی عزت دائو پر لگا دیتی ہیں بے حیا ، بے شرم لڑکی ‘‘ یہ کہہ کر اس نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔ وہ بوجھل قدموں سے گھر کی طرف بڑھی ۔ شام گہری ہو چکی تھی ۔ ابھی گھر سے کچھ فاصلے پرتھی کہ دو موٹر سائیکل سوار تیزی سے آئے اور اس کا پرس چھیننے کی کوشش کی اس چھینا جھپٹی میں اس کا دوپٹہ زمین پر گر گیا ۔ وہ لڑکے ہنستے ہوئے تیزی سے نکلتے چلے گئے ۔ ثنا حواس باختہ ہو کر چیخنے چلانے لگی ۔ کچھ لوگ اِرد گرد جمع ہو گئے ۔ انھی میں احسان صاحب کے ا یک دوست بھی تھے ۔انہوں نے ثنا کو دوپٹہ اوڑھایا اور تسلی دیتے ہوئے اس کے ساتھ گھر تک آئے ۔ ثنا کو اس حالت میں روتا دیکھ کر اس کے گھر والے پریشان ہو گئے ۔ ’’ بچی اس اچانک واردات سے گھبرا گئی ہے اور کوئی بات نہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان لڑکوں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔‘‘ احسان صاحب کے دوست نے انہیں حوصلہ دیا ۔ اللہ نے اس کا کتنا بھرم رکھا تھا وہ جتنا بھی شکر ادا کرتی کم تھا ۔ سب اس کی حالت اور کیفیت کو اس واردات سے منسوب کر رہے تھے جبکہ حقیقت میں وجہ کچھ اور تھی جو صرف وہی جانتی تھی ۔ ان دونوں واقعات نے ثنا کی دنیا ہی بدل ڈالی ۔ اس نے صدقِ دل سے توبہ کی ۔ اپنے والدین سے معافی مانگی ۔ اپنے رویے سے اس نے ان سب کا بہت دل دُکھایا تھا ۔ اب وہ تلافی کرنا چاہتی تھی ۔ اپنے ماں باپ کا سہارا بننا چاہتی تھی ۔ جاب چھوڑ کر ایک اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا ۔ حنا کی شادی ہو چکی تھی اس لیے گھر کے کاموں میں امی کا ہاتھ بٹاتی ۔امی کو تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ثنا ہے ۔ وہ دل ہی دل میں اللہ کا بار بار شکر ادا کرتیں ۔ ثنا عبایا پہن کر ، چہرہ ڈھک کر گھر سے باہر نکلتی کیونکہ اسے پردے کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا ۔ وہ نماز ۔ قرآن کی تلاوت اور پردے سے جتنا گھبراتی تھی اب انہی سب میں اسے سکون ملتا تھا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ