شامِ غم، شہداء کوئٹہ کے نام: توانائی و تحفظ کی آواز 

54

عبدالمتین اخونزادہ

کوئٹہ جس کی شناخت کبھی امن، خوبصورتی، رواداری اور مہمان نوازی تھی۔ آج حملوں، خون و خوف، ظلم و بے دردی اور کچرے کے ڈھیر و مسائل سے پریشان حال لاکھوں شہری اس کی شناخت ہیں۔ کوئٹہ، کبھی لٹل پیرس یعنی خوبصورتی و امن کا استعارہ اور آج بدحالی، مہنگائی و پریشانی کی پہچان کیوں بنا؟؟۔ غم و درد کے پے در پے واقعات نے کوئٹہ کے باسیوں کو خوف زدہ کرکے اپنی حسین اور باوقار روایات سے دور کر دیا۔ قتل عام نے شہریوں کو اجتماعی مزاحمت اور بھرپور و توانا آواز سے محروم کر دیا ہے۔ بات کس سانحے سے شروع کی جائے اور کس بے دردی و ناروا عمل سے آغاز کیا جائے۔ قیام پاکستان کے وقت بلوچوں کے زور آور حکمران خان قلات کی محبت کا جواب 1948ء میں بمباری کے ذریعے دیا گیا۔ 70ء کے عشرے میں صوبہ بننے کے باوجود ہم ترقی و خوشحالی کی طرف پہلا قدم ہی نہ اُٹھا سکے نہ بنیادی منصوبہ و وژن طے ہوسکا اور نہ ہی ترقیاتی وژن اور عمل و کردار کے اسلحے سے لیس حکمران نصیب میں آئے۔ آمریت نے زیادہ سانحے و غم بلوچستان کو دیے۔ پرویز مشرف کے آمرانہ دور نے سب سے زیادہ نقصان، دکھ، درد اہل بلوچستان کو دیے نوجوانوں کو بے دردی سے اغواء کرکے قتل عام کیا گیا۔ مسنگ پرسن کی پوری اصطلاح اسی دور کی ایجاد ہے اور معزز قبائلی، مذہبی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ڈاکٹروں وٹھیکیداروں، تاجر پیشہ افراد کی تذلیل اور اغواء برائے تاوان جیسے نامعقول الفاظ بھی اس دور کے پیدا کردہ ہیں۔ تب اجتماعی قتل کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے۔
8 اگست 2016 کی صبح ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونے والے بلوچستان بار کے صدر ملک بلال انور کاسی اور بعد ازاں ایک گھنٹے ہی میں شہر کے وسط جناح روڈ پر واقع سنڈیمن اسپتال میں سیکڑوں وکلا کو نشانہ بنایا گیا اور 5 درجن وکلا موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ چند صحافی و شہری بھی کام آئے خوش قسمتی یا بدقسمی ڈاکٹرز موقع پر موجود نہیں تھے ورنہ اُن کی بھی ایک بڑی تعداد یوں ہی لقمہ اجل بنتی۔ اسی سانحے کا غم بھلائے نہیں بھلایا جاتا۔ اس لیے کہ نامور وکلا، ظلم و استیصال کے خلاف صف آراء اور صوبے کے پہچان تھے۔ اکتوبر 2016ء میں پولیس سینٹر کے نوجوانوں کا بے دریغ اجتماعی قتل درد ناک تھا مگر اُن کا غم نوجوانوں کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، کمزور و نہتے والدین اور خاندانوں تک ہی محدود رہا۔ ہزارہ قبیلے کا المناک اور وحشت ناک قتل عام، انسانیت سوز اور دل دہلانے والا ہوتا ہے مگر ہفتہ رفتہ کے بعد اس لیے سوسائٹی بھول جاتی ہے کہ وہ ایک قبیلے اور محدود علاقے کا غم ہوتا ہے ورنہ ہزاروں مائیں، بیٹیاں اور بیوہ ہونے والی خواتین، بے سراء ہونے والی بہن اور دکھ و درد کا سامنا کرنے والے باپ و خاندان کے اپنے پیارے و حسین نوجوانوں کا غم بھول جانا ناممکن ہی ہے۔
کوئٹہ میں قتل ہونے والے 26 علماء کرام، موذن و حفاظ کرام ہوں یا حجام و مزدور ہوں، یونیورسٹی کے پروفیسر ہوں یا سبی ٹرین میں سفر کرنے والا پنجاب، کشمیر و سندھ کے رہائشی یا چمن، قلعہ عبداللہ و پشین کے 22 افراد جن کا مستونگ میں سرشام بس سے اُتار کر قتل عام کیا گیا۔ حقمل رئیسانی اور اُن کے والد سراج رئیسانی سے اختلاف کے باوجود رئیسانی خاندان و قبیلہ اور ان کا پھول جیسا نازک بیٹا جمال رئیسانی کیسے اپنوں کا قتل بھول سکتا ہے۔ یہی حال 8 اگست کے معزز و پاک باز شہداء کا ہے۔ اصغر خان اچکزئی رکن اسمبلی منتخب ہونے اور ایوان اقتدار میں ہونے کے باوجود اپنے پھول جیسے بھائی عسکر خان ایڈوکیٹ کو کیسے بھول سکتے ہیں اور ڈاکٹر جہانزیب جمال الدینی اپنے خوبصورت و توانا بیٹے سنگت بلوچ ایڈوکیٹ کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ چاہے ان کی پارٹی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں۔ ضیاء الدین شہید ایڈوکیٹ کو ان کی 9 بہنیں، بوڑھے باپ اور ضعیف والدہ، اہلیہ و بچیاں کیسے بھول سکتی ہیں۔ تیمور شاہ کاکڑ ایڈوکیٹ کو ان کے بھائی امیر جان لالہ و ظاہر شاہ اور خاندان کیسے بھول پائیں گے۔ سینئر وکیل قاہر شاہ ہوں یا وکلا کے سینئر و جرأت مند لیڈر باز محمد کاکڑ ایڈوکیٹ، جو واقعتا اپنی صفات اور خصوصیات کی وجہ سے باز / شاہین ہی تھے کا غم بھلائے نہ بھلایا جاسکے گا۔ اگست کا مہینہ جہاں پاکستان کی آزادی و خود مختاروں کی یاد دلاتا ہے اسی 11 اگست کو قائداعظم کی ایسی تقریر کی یاد بھی دلاتا ہے جن کی دو تعبیریں ہمارے معاشرے میں کی جاتی ہیں ریاست قلات کے الحاق پاکستان کے حوالے سے تاریخی حقائق پر سنگین اعتراضات بھی اگست ہی کا حصہ بنتے ہیں۔ 26 اگست جو قیام پاکستان سے قبل 1941ء میں بننے والی منظم و موثر، مگر معاشرے میں پزیرائی نہ پانے والی جماعت اسلامی کا یوم تاسیس تھا۔ 2006ء میں نواب اکبر خان بگٹی کے المناک قتل کے بعد یہ دن اُن کے نام سے منسوب ہوا۔ شہید باز محمد کاکڑ ایڈوکیٹ کے خاندان اور دوستوں نے اس غم کو معاشرتی امن کی بحالی، کوئٹہ اور صوبے کے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے اسے قوت کے طور پر استعمال کیا ہے۔
2017ء میں سانحہ 8 اگست کے پہلی برسی کے موقع پر بھی بھرپور عزم و توانائی اور کمال دانش و حکمت سے باز محمد کاکڑ شہید کے بھائی ممتاز و متحرک سماجی شخصیت ڈاکٹر لعل خان کاکڑ نے SBKF اور UNREATH کے مشترکہ پلیٹ فارم سے 2اگست کو کوئٹہ میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا جس میں سابق چیئرمین سینیٹ وکلا، اہل دانش، ممتاز صحافی اور سماجی و قبائلی رہنماؤں نے یک آواز ہو کر سانحہ 8اگست پر قاضی فائز عیسیٰ کی کوئٹہ کمیشن رپورٹ پر من و عن عملدرآمد کی اپیل کی تھی اور سیاست و ریاست کے معاملات کو پٹڑی سے نہ اترنے اور توانا رکھنے کے لیے اداروں کے درمیان مکالمہ کا مطالبہ کیا تھا۔ آج بعض قومی قیادتوں کو رضاء ربانی کی مخلصانہ آواز دیر سے سمجھنے پر تاسف و افسوس ہی نظر آتا ہے اگر ناروا مداخلتوں کے باوجود تبدیلی عوام کے لیے نجات کا ذریعہ بنی تو بہتر ہوگا ورنہ سیاسی و معاشرتی اور معاشی و سماجی مشکلات و مسائل کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ ہمارے اوپر مسلط ہوکر رہے گی۔
25 جولائی کے انتخابات اور حکومت سازی کے جوڑ توڑ کے باعث مشکلات و حکمت سے فیصلہ کیا گیا کہ حکومتوں کی تشکیل کے عمل مکمل ہونے پر اچھے و پر سکون ماحول میں، تیاری کے ساتھ ایک جاندار و معنی خیز ’’قومی مکالمے کی تیاری شروع کی جائے تاکہ قومی قیادت اور منتخب حکومتوں کو، انسانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت شہداء کے مقدس و پاکیزہ خون سے وفاداری اور کوئٹہ کے مستقبل کے لیے سوچنے، سمھنے اور فیصلہ، عزم سے بھرپور اقدامات کی طرف متوجہ کیا جائے۔ یوں اس بڑے مکالمے کے باعث 8اگست 2018ء کی شام، ڈاکٹر لعل خان کاکڑ اور ان کی نوجوان و متحرک ٹیم نے شہید باز محمد کاکڑ فاؤنڈیشن SBKF کے تحت بولان میڈیکل کالج کے سبزہ زار پر شہداء کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ تعزیتی ریفرنس سے سرگرم سماجی رہنما اور SBKF کے چیئرمین، ڈاکٹر لعل خان کاکڑ، بی این پی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، اے این پی کے بزرگ رہنما صاحب جان کاکڑ، UNREATH کے چیف ایگزیکٹو عبدالمتین اخونزادہ، بلوچستان بار کے صدر شاہ محمد جتوئی ایڈوکیٹ، نصیب اللہ ایڈوکیٹ، نادر چھلگری ایڈوکیٹ، پرنسپل بولان میڈیکل کالج ڈاکٹر پروفیسر بشیر احمد لہڑی، مہمان خواتین رہنما، پروین چاچڑ، انیسہ سوائچی، اسلامی جمعیت طلبہ کے صوبائی صدر مرتضیٰ خان کاکڑ، انجمن تاجران کے صدر رحیم آغا، نرسنگ اسکول کے پرنسپل منظور رئیسانی، کوئٹہ آن لائن کے ہر دلعزیز ضیاء خان، بلوچستان آن لائن کے انجینئر وقاص خان مینگل، احد آغا ینگ ڈاکٹرز کے صدر ڈاکٹر حمل بگٹی، پختوا ایس او کے صدر ڈاکٹر وکیل خان شیرانی، بی ایس او مینگل کے صدر ڈاکر حئی، بی ایس اے ایس کے صدر ڈاکٹر ہارون، پشتون ایس ایف کے صدر ڈاکٹر زرک شاہ مندوخیل، اسلامی جمعیت طلبہ کے صوبائی سیکرٹری جنرل صابر صالح پانیزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور امن کی بحالی کو ترجیح قرار دیتے ہوئے انصاف کی اپیل کی۔
سیمینار میں نوجوان، با حوصلہ اور پر اُمید تھے۔ اگرچہ اُن کے ذہنوں میں تلخ سوالات اور پیچیدہ ایجنڈا ہے۔ حالات کے جبر نے ہمارے باوقار اور عزت مندنوجوانوں کو تلخی و پریشانی کی طرف دھکیلا ہے مگر وہ مایوس اور رنجیدہ نہیں ہوئے ہیں مگر بوڑھے قائدین زیر بار ہو کر مایوسی و افراتفری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیمینار تقریب کے اختتام پر سب نے امن کے لیے ہاتھ اُٹھا دعا کی۔ جب میں نے نوجوانوں اور خواتین کے عزم، صبر و عزیمت اور باحوصلہ جذبات کی داد و تحسین کے ساتھ شکستہ دلوں اور بوڑھوں کے لیے خصوصی دعاء اور رحمت و سکوں کے لیے بارگاہ الٰہی میں الفاظ ادا کیے تو بوڑھے زور سے آمین کہہ دیتے اور نوجوان خوب محظوظ ہوئے۔ یوں رات گئے یہ تقریب اختتام پزیر ہوئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ