’’دیر کا انصاف‘‘

47

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس میں عدل و انصاف کا نظام بخوبی رائج نہ ہو۔ قانون کی سرپرستی کے بغیر کوئی ریاست زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا عدالتی نظام بہت سی پے چیدگیوں اور خامیوں کا شکار ہے۔ روز مرہ کے چھوٹے تنازعات پر مبنی کیس اتنا طول پکڑتے ہیں کہ دہائیوں کا انتظار خود انصاف کا قاتل بن جاتا ہے سیدنا عمرؓ کا فرمان ہے کہ ’’انصاف وہ ہے جو جلد اور ہوتا ہوا نظر آئے‘‘ فوری اور سستے انصاف کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم متبادل نظام لے کر آئیں۔
برطانیہ نے جب ہندوستان پر اپنا سکہ رائج کیا تو یہاں کے سخت اور پیچیدہ جرگہ اور پنچایتی نظام کو alternative dispute resolution کے نام سے حکومتی دائرے کار میں لے آئے۔ اسی طرح عدالتوں نے arbitrator act کے تحت arbitrators مقرر کیے جو خاندانی تنازعات کو عدالتی کاروائی میں پڑے بغیر حل کرتے اور ان کا فیصلہ حتمی اور قانونی سرپرستی کا حامل ہوتا۔ ثالثی کونسل کا ایک قانونی وجود قائم کیا گیا جو یونین کونسل سطح کے مسائل اور تنازعات حل کرتا تھا۔ آج بھی اے ڈی آرز قائم ہیں لیکن درحقیقت ان کے فیصلوں کو نا تو قانونی حیثیت حاصل ہے نا ان پر عمل درآمد کے لیے ریاستی سر پرستی میسر ہے اور نا ہی عوام کا اعتماد ان پر قائم ہے۔ دور حاضر میں بہت سے متنازع اور انسانیت سوز فیصلے سامنے آتے ہیں جن میں غیرت کے نام پر قتل اور قصاص ونی کرنا سر فہرست ہیں۔ گزشتہ چند سال میں ہم نے دیکھا کہ جرگوں نے خواتین پر ووٹ ڈالنے اور عملی سیاست میں حصہ نہ لینے جیسے قابل مذمت فیصلے کیے جو آئین اور قانون کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ان وجوہ کا سد باب کرنے کے لیے جو عوام کے اعتماد کے لیے زہر قاتل ہیں عملی اقدامات اٹھائے۔ alternate dispute resolution کو قانونی اور آئینی سرپرستی میں لانے کے لیے آئین میں ترمیم اور قانون سازی کرے۔ جرگوں اور پنچائتوں کے لیے نیا نظام مرتب کرے اور نئے قانونی نقطے وضع کرے تاکہ فوری اور سستے انصاف کے لیے اے ڈی آرز میں موجود خامیوں کو ختم کیا جا سکے ان کی حدود و قیود وضع کی جا ئیں۔ راقم الحروف کی رائے کے مطابق جرگوں اور پنچائیت کی رکنیت کے لیے قابلیت مقرر کی جائے اور اس کے لیے شارٹ کورسز وغیرہ رکھے جائیں جن میں قانون اور شریعت سے آگاہی دی جائے۔ اسی طرح ایک ایک نشست وکیل اور قانونی ماہر کے لیے مختص کی جائے اور ایک خصوصی نشست امام مسجد یا شریعت سے آگاہی رکھنے والے کے لیے مختص کی جائے تاکہ جرگے کو قانونی شرعی اور ریاستی اعتماد اور نمائندگی حاصل ہو اور اس کے فیصلے عوام کے لیے مؤثر ثابت ہوں۔
ملک خداداد کے معرض وجود میں آنے سے اب تک ہم نے دیکھا کہ اے ڈی آرز ہمیشہ وڈیرے چودھریوں اور قبائل سرداروں کے زیر اثر رہے ان کے فیصلہ ساز وہی لوگ رہے جو قانون اور شرعیت سے نابلد اور غرور وطاقت کے نشے میں بدمست رہے لیکن اگر مؤثر تبدیلیوں کے ذریعے ریاست انہیں اپنے ریاستی فوائد کے لیے استعمال کرے تو ہی عدل و انصاف کے لیے کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ کچھ عجب نہیں کہ وہ غریب جو وکلا گردی کا شکار ہے کیس کی بھاری فیسیں دینے سے قاصر ہے عدالتوں کے لمبے چکر کاٹنے سے پریشان ہے عدالتی آزمائش سے گزرے بغیر سکون سے سستا اور فوری انصاف حاصل کر سکے۔
نوجوان فضلا اور قانون کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی امید کا پہلو یہ ہو گا کہ ان کوان کی رضا کارانہ نشست دی جائے جس کے ذریعے وہ نصابی اور پیشہ وارانہ تربیت حاصل کر سکیں گے اور قاضی وکیل یامفتی بننے کے ساتھ عملی قابلیت سے ہمکنار ہو سکیں گے بلا شبہ نوجوان ہمارا کل ہیں اور کل آج سے بہتر یو گا ان شاء اللہ
جبر کا موسم کب بدلے گا
جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا
حفصہ علی اکبر، اسلام آباد

Print Friendly, PDF & Email
حصہ