یہ حیا اور حجاب کی صدی ہے

56

حجاب ہر مسلمان عورت کا فریضہ ہے، ہر دین کا ایک شعار ہوتا ہے اور اسلام کا شعار حیا ہے۔ حجاب مسلمان عورت کے لیے ایسا فریضہ ہے جو وہ احکام الٰہی کے تحت ادا کرتی ہے مگر اسے ایک بہت بڑا مسئلہ بنایا جارہا ہے، اسلام کے خلاف مغرب کا بڑھتا تعصب تیزی سے سامنے آرہا ہے۔ خواہ وہ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو مسلمانوں کے ساتھ نسلی اور مذہبی تعصب بڑھتا جارہا ہے۔ اسلامی تہذیب کا تو آغاز ہی شرم و حیا سے ہوا۔ جب سیدنا آدمؑ اور سیدہ حوا خود کو درختوں کے پتوں سے ڈھانپنے لگے دنیا بھر کے کروڑوں انسان نصف شریف اور پاک دامن عورتیں ہیں، حیا اسلامی معاشرے کی صرف پاکیزہ صفت ہی نہیں بلکہ ان کا شعار بھی ہے اور احکامات ستر و حجاب نہ صرف نسوانیت بلکہ انسانیت کی عزت کے ضامن ہیں۔ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو عورت کو تحفظ دیتا ہے، مغربی تہذیب کے بہت نقصانات انسانی دنیا نے بھگت لیے اس لیے اب یہ صرف حیا اور حجاب کی صدی ہے۔
عبیرہ خان، کراچی
ہمارا ملک
پاکستان قدرت کا انمول تحفہ ہے یہ ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے، ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں میں اس کے لیے محبت پیدا کریں، نفرتیں مٹائیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں سنوار کر ملک و قوم کا نام روشن کریں ایک امت بن کر دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹیں۔
اسما اشفاق
asmaashfaq001@gmail.com
اسلامی قوانین کا نفاذ مشکل
بنایا جارہا ہے
یہ خبر بے چینی کا سبب بنی رہی کہ ایک اہم عہدہ قادیانی کو دیا جا رہا تھا۔ بد قسمتی سے قیام پاکستان کے ساتھ کچھ نادیدہ قوتوں نے اس قسم کے حالات پیدا کردیے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ مشکل بنایا جارہا ہے۔ اس کی ایک مثال قادیانی کا کسی اہم عہدے پر تقرر کی کوشش تھی، اس ملک کو کس طرح یہ لوگ اسلامی اور شریعت کے مطابق چلنے دیں گے اور اس کی معیشت کو ایک اسلامی معیشت بننے دیں گے۔ اس ملک میں رہنے والے لوگ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک بار پھر ان سامراجی غلامی میں جکڑے جا ئیں گے جن سے آزادی کے لیے ہزاروں جانو ں کی قربانی دی۔ اور اب بھی اسی آس میں جی رہے ہیں۔ اگر ابھی ہم اس پر آواز نہ اٹھاتے تو ایسے ہی اقدامات دیکھنے کو ملتے۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے غیر اسلامی فیصلوں سے باز رہے۔
عظمیٰ عرفان
ذراعت کو درپیش مسائل
ہمارے ملک میں ہر طرح کی پیداوار ہوتی اور میرا نہیں خیال کہ دنیا میں کوئی بھی ملک ایسا ہو جو ہمارے ملک کی طرح ہر معاملے میں ذرخیز ہو مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری ذراعت کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ ایک فصل کاشت کرنا اور اس پر محنت کرنا اور اگر بندہ اپنی فصل پر خرچہ اور محنت کرے اور اُسے منافع تو دور کی بات فصل پر کیا خرچہ بھی واپس نہ ملے تو وہ کاشت کار تو قرضوں تلے ڈوب جائے گا۔ کاشت کار کے ساتھ ایک اور بڑی زیادتی یہ ہے کہُ اسے کوئی اور کام کرنے کا تجربہ بھی نہیں اگر اُسے کوئی اور کام کرنے کا تجربہ ہو تو وہ زمینداری چھوڑ کر کوئی اور کام کرنا شروع کر دے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی کپاس پوری دنیا میں پہلے نمبر پر تھی لیکن رفتہ رفتہ بہت نیچے آگئی ہے۔ اسی طرح ہمارے پاس بہت سی مثالیں موجود ہیں ہمارا کینو پوری دنیا میں مانا اور کھایا جاتا تھا لیکن ہماری ناانصافی کی وجہ سے آج اسے کوئی نہیں خرید رہا کیوں کہ ہم پیکنگ کرتے وقت اچھا کینو اوپر لگا دیتے ہیں اور جو کینو خراب ہوجائیں وہ ہم نیچے لگادیتے۔ اس طرح سے ہمیں نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ بندہ کس کس چیز کی مثال دے ہر چیز تو یہاں پر دھوکا ہے۔ دھوکے کے سوا یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ میری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملے کو سلجھانے کے لیے اقدامات کرے اور اپنا کسان اور اپنی معیشت بچائے ورنہ ہمارے پاس ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔
محمد اویس سکندر، چیچہ وطنی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ