اسلام آباد،تجاوزات کیخلاف آپریشن ، شادی ہال، غیر قانونی عمارتیں مسمار

28

اسلام آباد(نمائندہ جسارت ) سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا ، کشمیر ہائی وے کے قریب قائم شادی ہال سمیت غیر قانونی عمارتیں گرا دی گئیں، پولیس نے آپریشن کے خلاف مزاحمت کرنے والے 20 افراد کو گرفتار کر لیا، ملک میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، تجاوزات کیخلاف کارروائی تبدیلی کا نشان ہے، سی ڈی اے، پولیس اور انتظامیہ میں قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کو پکڑا جائے گا، ایسا نظام لائیں گے کہ کسی کی جرأت نہ ہو سرکاری زمین پر قبضہ کرے،غلط لائسنس اور این او سی جاری کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اتوار کو سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کا تجاوزات کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا۔ کشمیر ہائی وے کے قریب غیر قانونی شادی ہال سمیت عمارتیں گرادی گئیں، ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی زیر نگرانی آپریشن میں وفاقی پولیس، ایلیٹ فورس اور رینجرز سمیت اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی موجود تھے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق اصل مالکان پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ملک میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، تجاوزات کیخلاف کارروائی تبدیلی کا نشان ہے، آپریشن دو روز سے جاری ہے جس میں بلاامتیاز کارروائی کی جارہی ہے، 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی 30 فیصد بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ سی ڈی اے، پولیس اور انتظامیہ میں قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کو پکڑا جائے گا، جن لوگوں نے غلط لائسنس اور این او سی جاری کیے ،ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ غیر قانونی اقدام اٹھانے والوں کیخلاف مقدمات درج اور گرفتاریاں ہوں گی، ایسا نظام لائیں گے کہ کسی کی جرأت نہ ہو سرکاری زمین پر قبضہ کرے۔وزیر مملکت نے کہا کہ تجاوزات قائم کرنے والے ایک مافیا ہیں جو مل کر کام کرتے ہیں، قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانے والے کسی بااثر کو رعایت نہیں دیں گے۔انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ ذاتی رنجش میں کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے، عام لوگوں اور ملازمین پر نہیں بلکہ اصل مالکان پر ہاتھ ڈالا جائے، اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں پر بھی نظر رکھی جائے۔ واضح رہے گزشتہ روز آپریشن میں بڑے بڑے شادی ہالز اور کارباری مرکز مسمار کر دیے گئے۔ مشہور انٹرنیشنل فوڈ چین سمیت کئی ہوٹلز بھی گرا دیے گئے۔ آپریشن کے دوران مزاحمت کرنے پر متعدد افراد گرفتار بھی کیے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ