سانگھڑ، ٹاؤن کمیٹی جھول کے شہری پینے کے صاف پانی سے محروم

48

سانگھڑ (نمائندہ جسارت) سانگھڑ کے نواحی علاقے ٹاؤن کمیٹی جھول کے شہری پینے کے صاف پانی سے محروم، شہری ڈرینج کا گندا پانی پینے پر مجبور۔ سانگھڑ کے نواحی علاقے جھول جس کے ہر ماہ کروڑوں روپے کے فنڈز کاغذات تک محدود شہری پینے کے صاف پانی کے بنیادی حق تک سے محروم، جس میں پینے کا صاف پانی اور ڈرینج سسٹم مکمل طور پر ناکارہ ہیں جس کی وجہ سے عوام آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کو ڈرینج کی سہولت اور ڈسپوزل نا چلانے کی وجہ سے شہری پریشان اور ڈرینج سسٹم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پانی فراہم کرنے والے واٹر کورس میں گندا پانی شامل کیا جا رہا ہے جس کی کوئی دیکھ بھال نہیں کررہا۔ گندا پانی واٹر کورس میں شامل ہورہا ہے، آس پاس کے گاؤں دیہات گٹر کا پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں میں پیٹ کی مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور بڑی تعداد میں معدے کے السر اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض بڑھ رہے ہیں مگر انتظامیہ گہری نیند سورہی ہے۔ علاقے کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے آس پاس کے علاقوں میں بڑی تعداد میں گیس اور تیل نکل رہا ہے مگر ہم کو یہاں پر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہوا ہے، کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں، کیا ہمارا حق نہیں صاف پانی پینے کو ملے۔ انسانوں کے ساتھ جانور بھی یہ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے جانوروں میں بھی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ سانگھڑ ڈپٹی کمشنر نثار احمد میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور پبلک ہیلتھ اینڈ ورکس اور وزیراعظم عمران سے مطالبہ ہے کہ جن لوگوں نے اس واٹر کورس میں گٹروں کا پانی چھوڑا ہوا ہے، ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ہم کو صاف پانی فراہم کیا جائے اور جھول ٹاؤن کمٹی کے فنڈز کی معلومات کی جائے جو ہر مہینے فنڈز میں کرپشن کی جارہی ہے۔ آج تک ایک روپے کا کام نہیں ہوا یہ پیسہ کہاں جارہا ہے اس کی نیب، ایف آئی اے سے تحقیقات کی جائے اور شہریوں کو ان کا حق دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ