حیدر آباد، عدالتی حکم پر محکمہ تعلیم کی لیکچرار کی تنخواہ بندی کردی

35

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بیسک ہیومن رائٹس کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر رصوان اختر نے حیدر آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حیدر آباد ضلع کے اکاؤنٹس آفیسر عدالت عظمیٰ اور ہائیکورٹ کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کی لیکچرار صائمہ راجپوت کی تنخواہ بند کردی، تنخواہ دینے کے نام پر شوت طلب کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدر آباد کے اکاؤنٹس آفیسر اے ڈی جتوئی بلوں پر دستخط کرنے کے عوض رشوت طلب کرتے ہیں، پنشن لینے والے ریٹائرڈ ملازمین کو ہر ماہ دھکے کھلوائے جاتے ہیں، جبکہ رشوت دینے والوں کا فوری طورپر کام کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آباد ضلع میں گنجائش سے زیادہ ڈھائی سو لیکچرار کی تنخواہیں جاری کی گئی ہیں لیکن لیکچرار صائمہ راجپوت کو 6 ماہ سے بجٹ نہ ہونے کا جواز بناکر ان کی تنخواہیں بند کردی گئی ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر کو برطرف کرکے تحقیقات کی جائے اور ملازمین کی بند تنخواہیں فوری طورپر کھولی جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ