سندھ یونیورسٹی کی 4 ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کرایا جارہا ہے، سیوا

28

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ملازمین کی تنظیم سیوا کی جانب سے مطالبات منوانے کے لیے سیوا کے رہنماؤں غلام نبی بھلائی، سرائی اسحاق، غلام مصطفی چانڈیو اور دیگر کی قیادت میں حیدر آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور بعد میں علامتی بھوک ہڑتال کی گئی۔ مظاہرین سندھ یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ یونیورسٹی کے غریب لوگوں کی یونیورسٹی ہے جسے تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی چار ہزار ایکڑ سے زائد زمین ہے جس پر قبضہ کرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی کے ملازمین کے لیے منظور کی گئی ہاؤسنگ اسکیم پر بھی کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے جبکہ کئی ملازمین 35 سال سے نوکری کرنے کے باوجود ایک ہی گریڈ میں ریٹائرڈ ہوچکے ہیں لیکن انہیں ترقیاں نہیں دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں سن کوٹہ بھی بحال نہیں کیا جارہا ہے اور بجٹ میں بڑھائی گئی تنخواہ کا ڈیفرنس بھی ادا نہیں کیا جارہا۔ اسی طرح سلیکشن بورڈ اور ڈی بی سی بھی نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے 43 سے زائد مسائل حل کیے جائیں۔ دوسری صورت میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ