بغیر پرمٹ کے کسی کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈی سی سکھر

35

سکھر (نمائندہ جسارت) ڈپٹی کمشنر سکھر غلام مرتضیٰ شیخ نے محرم الحرام کے دوران محکمہ داخلہ حکومت سندھ کی جانب سے نافذ کردہ ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے یکم سے 10 محرم الحرام تک ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی بغیر پرمٹ کے جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی، پرمٹ رکھنے والے جلوسوں اور مجلسوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے آفس کے کانفرس روم میں محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے علمائے کرام، انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں رینجرز کے ونگ کمانڈر محمد سلیم اور ایس ایس پی سکھر اسد رضا سمیت تمام متعلقہ محکموں و اداروں کے افسران اور علمائے کرام نے شرکت کی۔ ڈی سی سکھر کا کہنا تھا کہ سکھر شہر کی 74میں سے 9امام بارگاہوں کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں پر سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردی ضابطہ اخلاق کے پمفلٹس شائع کروا کے متعلقہ لوگوں میں تقسیم کیے جائیں گے، جبکہ ضابطہ اخلاق اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی اور اس سلسلے میں مانیٹرنگ کے عمل کو بھی سخت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یکم سے 10 محرم الحرام تک دفعہ 144 نافذ ہوگا اور بغیر اجازت پانچ یا اس سے زائد لوگوں کے جمع ہونے اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی جبکہ 8 سے 10 محرم تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی کی گئی ہے۔ ڈی سی سکھر غلام مرتضیٰ شیخ نے کہا کہ ممکنہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تمام متعلقہ لوگ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشکوک لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں، پارکنگ کے لیے جگہ کا بندوبست مجالس اور جلوسوں سے دور کیا جائے۔ انہوں نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد، امن و اخوت کی فضا کو فروغ دیں اور آپس میں ہم آہنگی پیدا کریں تاکہ ملک دشمن عناصر اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ ڈی سی سکھر نے میونسپل اور ٹی ایم ایز سمیت بلدیات کے افسران کو ہدایت کی کہ جلوسوں کے روٹس پر مرمتی کام کو یقینی بنایا جائے۔ ڈرینج و لائٹنگ کا نظام بہتر کرنے کے ساتھ روٹس پر پڑے ہوئے تعمیراتی میٹریل کو فوری طور پر اٹھوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی آفس میں کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، جہاں پر سیپکو، صحت، میونسپل اور دیگر متعقلہ اداروں کا عملہ شکایات کے ازالے کے لیے موجود رہے گا، جبکہ تعلقہ سطح کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جائے گی۔ ڈی سی سکھر غلام مرتضیٰ شیخ نے اس موقع پر ڈی ایچ او سکھر کو ہدایت کی کہ محرم کے جلوسوں کے ساتھ ایمبولنسز، اسپتالوں میں ڈاکٹر، طبی عملے اور ادویات کی موجودگی 24 گھنٹے فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ لنگر اور سبیلوں کے معیار کی دیکھ بھال کے لیے بھی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، جس کے لیے کانٹیجنسی پلان بنا کر انہیں دو روز میں رپورٹ دی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ