اچھے صنعتی تعلقات سے صنعتوں کو فروغ ملے گا، شیخ امتیاز علی

84

NILAT۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن ٹریننگ کے زیر اہتمام تین روزہ پروگرام 4 ستمبر سے 6 ستمبر تک نیلاٹ میں منعقد ہوا۔ پروگرام میں صنعتی اداروں میں رویوں، شکایات، مسائل کے حل، صنعتی تنازعات او رلیبر قوانین پر محترمہ تنویر عشرت، محمد جعفر خان، سید سہیل احمد، شفیق غوری، یوسف درباری اور سید حاکم علی شاہ بخاری نے لیکچر دیے۔ پروگرام کے تیسرے دن EBM کے سینئر منیجر یوسف درباری نے کہا کہ صنعتوں کے فروغ میں بعض موقعوں پر آجر اور اجیر کے درمیان تعلقات میں مشکلات آجاتی ہیں۔ تنازعات کو دور کرنے کے لیے دونوں فریق مفاہمت کا رویہ اختیار کریں۔ جہاں تک مزدور کی ملازمت کا تحفظ ہے تو اچھے، محنتی اور ماہر کاریگر کو کوئی بھی ادارہ نہیں نکالتا۔ ایک اچھا مزدور فیکٹری کا سرمایہ ہوتا ہے۔ آجر اگر مزدوروں کو حقوق دے گا تو کارخانہ ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے فروغ سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوتا ہے۔ *سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر شفیق غوری نے کہا کہ لیبر قوانین تو بنے ہوئے ہیں لیکن لیبر قوانین پر عمل درآمد کروانے والا محکمہ محنت قوانین پر عمل کروانے میں ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے شاپ اسٹیورڈ، ورکرز مینجمنٹ کونسل اور مینجمنٹ کمیٹی پر تفصیل سے لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کا مقصد مزدور حقوق کا تحفظ ہے۔ *نیلاٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل سید حاکم علی شاہ بخاری نے شکایات کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی کو حق یا انصاف نہیں ملتا تو شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ شکایات مختلف نوعیت کی ہوسکتی ہیں۔ شکایات کے اسباب کو دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز کو مساوی اجرت یا بہتر سلوک نہ کرنے سے بھی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ کام کا اچھا ماحول فراہم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ مزدور جب ذمہ داریاں پوری کریں گے تو
حقوق بھی ملیں گے۔ خوش اخلاقی سے شکایات دور ہوسکتی ہیں۔ * NILAT کے ڈائریکٹر جنرل شیخ امتیاز علی نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں اختلافات ہونا فطری بات ہے۔ اختلاف کو نظر انداز نہ کریں، ذاتی انا کا مسئلہ نہ بنائیں، عہدے کے لحاظ سے بڑا ہونے کے خول میں بند نہ ہوجائیں۔ ماتحت سے اختلاف ہونے پر آپے سے باہر نہ ہوں، بعض وقت ماتحت سینئر کو آئینہ دکھاتا جس میں سب بات کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ورنہ زیادہ تر تو سینئر کو سب اچھاکی رپورٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی بہت مشکل کام ہے، لمحوں میں فیصلہ کرکے عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر سینئر نے ماتحت کی شکایت غور سے سن لی تو آدھی شکایت تو فوراً ہی دور ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رویوں کو تبدیل کرکے اچھے صنعتی تعلقات بنائے جاسکتے ہیں۔ بہتر صنعتی تعلقات سے کارخانے ترقی کرتے ہیں۔
کارخانوں کی ترقی میں مالک اور مزدور دونوں کا فائدہ ہے۔ * آخری سیشن کا آغاز نیلاٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نور الہدیٰ نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ پروگرام کے اختتام پر KPT کے پرویز اختر اور فارما سیوٹیکل کی سائرہ سعید نے ٹریننگ کے حوالے سے اپنے تاثرات بتائے۔ اس موقع پر شرکاء میں شیخ امتیاز علی نے سرٹیفکیٹ پیش کیے۔ * پروگرام میں قاضی سراج نے جسارت کے صفحہ محنت شرکاء میں تقسیم کیے۔
نیلاٹ پروگرام میں کون کون شریک ہوا
نیلاٹ کے تربیتی پروگرام میں PCSIR کے سینئر سائنٹیفک آفیسر محمد فرحان، KPT کے اسسٹنٹ میکنیکل انجینئر سید ضیغم عباس زیدی، PCSIR کے اسسٹنٹ سید رضوان علی اور ٹیکنیکل اسسٹنٹ سید سلمان لئیق، KPT کے ٹریفک آفیسر پرویز اختر، سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر سید شکیل احمد، محمد شفیق شیخ اور محمد صابر کمبوہ، ہائی لونگ آئل سروسز کے کوآرڈینیٹر فیاض الدین، طالبہ میمونہ قریشی اور عروج شمیم، پرنسپل بلڈرز کے سیفٹی آفیسر مختار احمد، فارما سیوٹیکل کی پروڈکشن منیجر سید نور الصفیہ، کارساز کی ایچ آر ایگزیکٹو سائرہ سعید، PCSIR کے سینئر سائنٹیفک آفیسر سید زین العباد اور سینئر انجینئر اعجاز علی پنہور، Busicom کے منیجر رضوان حامد سعید، مسعود انجینئرنگ کے اکاؤنٹس ایگزیکٹو سہیل قریشی اور سینئر اسٹور آفیسر خضر الرحمان، KPT کے اسسٹنٹ PRO محمد ندیم اور ٹریفک آفیسر سید اظہر سلطان، ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے ہیڈ ماسٹر اختر حسین شیخ، علی گڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی لیکچرار مہرین عمر، طالب علم محمد مزمل مہر، وقار علی، احسان عارف، عثمان علی، حافظ جہانگیر ظفر عالم اور شعیب محمد نے شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ