مزدور تحریک کی تاریخ

238

 

تحریر
**
شوکت علی
چودھری

بین الااقوامی مزدور تحریک کو جانے بغیر نہ تو دنیا کی ترقی کی وجوحات سمجھ آتی ہیں اور نہ ہی ان حالات و واقعات سے آگاہی حاصل ہو پاتی ہے جن کی وجہ سے دنیا کے کچھ ممالک امیر تر ہوتے چلے گے اور کچھ ممالک کے عوام زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ پاکستان میں یورپ، روس، چین اور برصغیر پاک و ہند کی مزدور تحریک پر بہت لکھا اور پڑھا گیا لیکن امریکا کی مزدور تحریک کے بارے میں ہمارے پاس معلومات قدرے کم ہیں۔ جب تک اسپین کے رہنے والے کرسٹوفر کولمبس نے امریکا دریافت نہیں کیا تھا دنیا اس براعظم سے آگاہی نہیں رکھتی تھی لیکن جب سونے اور گرم مصالحہ جات کی تلاش میں نکلنے والے کولمبس نے امریکی سر زمین پر قدم رکھا تو دنیا بتدریج نہ صرف اس خطہ زمین سے آگاہ ہوئی بلکہ اس میں موجود بے پناہ وسائل کو حاصل کرنے کے لیے پورے یورپ سے اس براعظم کی طرف دوڑی چلی آئی۔بقول کولمبس۔۔۔ جب ہم ساحل پر اترے تو وہاں کے باشندے بھاگ کر ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں کھانے کی اشیاء پانی اور تحائف پیش کیے۔ وہ بہت خوشی سے اپنے پاس ہر چیزکا سودا کرنے کو تیار تھے۔ مضبوط جسم اور دلکش نقش و نگار کے مالک یہ باشندے جن کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھے اور نہ ہی ان کے پاس لوہا تھا وہ بہت فرماں بردار قسم کے لوگ تھے ہم نے ان سب کو اپنا غلام بنا لیا۔ امریکا کی تاریخ کی ابتداء کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ یہ بات سب کی سمجھ میں آسکے کہ آج کی سپر پاور امریکا
کے ابتدائی حالات کیا تھے۔1492ء سے شروع ہونے والے اس سفر نے ایک لمبا اور خون آشام فاصلہ طے کیا جس میں اس خطے کے معصوم اور نہتے مقامی لوگوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ اپنی زرخیز زمین، اپنی معدنیات، سونا اپنے سمندر اپنے دریا اپنی تہذیب اپنی ثقافت اور اپنی پہچان سب کچھ کھو دیا۔ یورپ سے آکر امریکا کو آباد کرنے والوں نے ہر سختی اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس براعظم کی آبادکاری کے لیے افریقی غلاموں کو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں نہ صرف امریکا میں آباد کیا بلکہ یورپ تک میں ان کی باقاعدہ فروخت ہوئی۔1492ء سے 1790ء تک آہستہ آہستہ شہری آبادیوں میں اضافہ ہونے لگا۔1790ء تک دس لاکھ سے بھی کم افراد شہروں میں آباد تھے۔ 1840ء تک ان کی تعداد 10کروڑ تک پہنچ گئی ، صرف نیو یارک شہر کی آبادی 10لاکھ افراد تک پہنچ گئی تھی۔ امریکا سے ملنے والا کوئلہ، لوہا، کپاس، گنا، سونا، تیل، لکڑی اور دیگر معدنیات نے امریکی صنعتی ترقی کی رفتار کو بہت تیزکر دیا تھا۔ریلوے کا جال پورے امریکا میں پھیلنے کی وجہ سے صنعت کے پھیلاؤ میں بہت اضافہ ہوا۔صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ مزدور طبقہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوا۔یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا میں نہ کوئی لیبر قوانین تھے اور نہ ہی مزدوروں کی فلاح و بہبود کا کوئی تصور۔1820ء میں ورکنگ مینز ایڈووکیٹ نامی اخبار کے پرنٹر جارج ہنری ایونس نے مزدوروں کا منشور آزادی تحریر کیا۔اسی زمانے میں وہاں ٹریڈ یونینز منظم ہونا شروع ہوئیں اس وقت کی امریکی عدالتوں نے ان کو کاروبار میں رکاوٹیں ڈالنے کی سازش قرار دیتے ہوے ان کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ نیو یارک کے ایک جج نے درزیوں کی ایک یونین سازی کی کوشش کو سازش قرار دیتے ہوئے ان کو جرمانہ بھی کیا۔ عدالتوں کے اس رویے کے خلاف مزدوروں نے نیو یارک میں 30 ہزار مزدوروں کا کنونشن منعقد کر کے ملک کی سیاسی جماعتوں کے خلاف اعلان بغاوت کرتے ہوئے ایکویل رائٹس کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔4 جولائی 1820ء کو فلاڈیلفیا کے فیکٹری کارکنوں نے امریکا اسکاٹ لینڈ سے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی خاتون رہنما فرانس راہٹ جس کا تعلق یوٹوپین سوشلسٹوں سے تھا کو خطاب کے لیے بلوایا ۔ اس نے اپنے خطاب میں کہاکہ کیا امریکا میں یہ سب تبدیلیاں اس لیے لائی گئی تھیں کہ آپ کے ملک کی صنعت بیٹے اور بیٹیوں کو بھوک و افلاس اور بیماریوں کے حوالے کر دے۔ اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی ٹیکنالوجی انسانی
محنت کی قدرومنزلت کی قیمت کم کر رہی ہے۔ ریاستیں انسانوں کو غلام اور چائلڈ لیبر کے ذہنوں اور جسموں کو اپاہج بنا رہی ہیں۔1837ء میں نیو یارک شہر کے مزدوروں نے بھوک اور غربت کے ہاتھوں تنگ آکر آٹے کے اسٹور تک لوٹ لیے تھے۔1935ء میں فلاڈلفیا میں 50 مختلف صنعتی شعبوں میں ٹریڈ یونینز قاہم ہوئیں اور اس دورمیں وہاں کام کے اوقات کار 10 گھنٹے کروانے کے لیے زبردست ہڑتالیں ہوئیں۔ 1840ء میں پورے امریکا میں کھڈی بانوں نے اپنے معاوضوں میں اضافہ کے لیے ہڑتالیں کیں۔ 1857ء میں نیو جرسی کے شہر نیویارک میں ہزاروں افراد نے جلوس نکالے جو ملازمتوں کے لیے مطالبات کر رہے تھے ان کا نعرہ تھا’’ہمیں کام چاہیے‘‘۔ امریکا میں خواتین ورکرز کی پہلی منظم ہڑتال 1825ء میں ہوئی تھی۔1835ء میں ٹیکسٹائل میں کام کرنے والی خواتین ورکرز نے فیکٹری گرلز ایسوسی ایشن قائم کی۔اور فیکٹریوں کے غیر صحت مند ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ہڑتالیں کیں۔ 1850ء تک امریکا میں 60 لاکھ محنت کش تھے۔ جن میں 5 لاکھ خواتین تھیں ان میں 3 لاکھ گھریلو خواتین۔25 ہزار استانیاں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین میں سے ایک لاکھ اکیاسی ہزار خواتین میں سے آدھی خواتین کا تعلق ٹیکسٹائل ورکرز سے تھا۔1800ء تک امریکا میں تاجروں اور زرعی فارموں کے مالکوں کے ہاتھوں افریقا کے تقریباً5 کروڑ باشندے غلامی اور موت کی بھینٹ چڑھے تھے۔یکم جنوری 1863ء کو ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں غلاموں کی آزادی کا اعلان کیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ