مزدور کی خوشحالی کے بغیر جمہوریت کا تصور دھوکا ہے ؟

63

 

تحریر
**
آصف
خٹک

جس معاشرے میں عام آدمی کو انصاف تک رسائی اور معیشت کا پہیہ چلانے ولے محنت کشوں کو انجمن سازی کا غیر مشروط حق اور معاشی آزادی حاصل نہ ہو دولت کی منصفانہ تقسیم اور ملکی قوانین پر بلا امتیاز عملدرآمد نہ ہو ۔ایسے ملکوں میں جمہوری ادارے کبھی مستحکم نہیں ہوتے ۔ کیونکہ اگر کئی منزلہ عالیشان بلڈنگ کی بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو ایسی بلڈنگ پائیدار اورمضبوط نہیں ہوسکتی ۔ اس طرح جمہوری طرز حکومت کی بنیاد انصاف انسانی برابری بنیادی حقوق اور پیشہ وارانہ آزادی پر استوار ہوتی ہے۔ نیم غلامانہ زندگی گزارنے والے بے زبان اور تمام حقوق سے محروم مزدوروں سے ملکی معیشت کو مستحکم کرانے کا تصور فرسودہ اور غلامانہ دور حکمرانی کا تصور ہے جس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔لیکن ہمارے ملک کا ہر حکمران بنیادی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے مخصوص لوگوں کے مفادات کو ہمیشہ ملکی مفاد سمجھ کر حکمرانی کرتا ہے ۔
برطانوی دور حکومت کا ٹریڈ یونین ایکٹ آزادی کے بعد آج تک بہتر قانون سمجھا جاتا ہے ایسا کیوں ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کے ثمرات صرف طاقتور اور دولت مند لوگوں کو ملے ہیں جبکہ مزدور طبقے کو قانونی ذرائع سے آزادی کے بعد عملاً نیم غلام بنادیا گیا۔ ان سے غیر مشروط انجمن سازی کا حق چھین لیا گیا۔ ملک کے آئین میں انجمن سازی کا حق ہونے کے باوجود عملاً یہ حق مزدوروں کو حاصل نہیں ۔پرائیویٹ کارخانوں میں ملازمین کو تقرر نامہ تک نہیں ملتا۔اکثر اوقات جب رات کی شفٹ سے مزدور گھر جاتے ہیں تو راستے میں کھڑے پولیس اہلکار ایسے مزدوروں سے شناخت طلب کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کہاں سے آرہے ہو تو وہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ کسی کارخانے کا ملازم ہے۔ اس طرح اکثر اوقات پولیس والے آوارہ گردی میں ایسے مزدوروں کو تھانے لیجاکر بند کردیتے ہیں اور صبح ان کے گھر والے تھانے والوں کی خدمت کرکے بمشکل رہائی دلوادیتے ہیں۔ انڈسٹری کنٹریکٹ سسٹم پر چل رہی ہے او رکنٹریکٹ کی وجہ سے کارخانے کا اصل مالک مزدوروں کے قانونی حقوق کا ذمہ دار نہیں بنتا بلکہ کارخانے کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کے الگ الگ ٹھیکیدار ہوتے ہیں اگر ایسے معاملات پر اعلیٰ عدلیہ نے قانون کے مطابق مزدوروں کے حق میں کبھی فیصلے بھی دیے ہیں تو ان پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ کوئلے کے انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کو لیبر جمعداروں یا جوڑی سروں کا ملازم بتاکرنیم غلاموں کی طرح کام کرایا جاتا ہے اور غیر انسانی ماحول میں کام کرنے والے غیور محنت کش زیادہ تر علاقوں میں اپنی اجرتوں سے بھی ناواقف، سرکاری چھٹی کے معاوضے سے بھی محروم ہیں بلوچستان میں پے درپے مائیننگ حادثات میں مزدوروں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے کے باوجود آزاد عدلیہ نے بھی اس کا نوٹس نہیں لیا جس کی وجہ سے مائن مالکان سیفٹی کے قانون پر عمل کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ بھٹوں میں کام کرنے والے غلامانہ دور کے یاد گار ہیں ۔یہ مزدور گروپ کی شکل میں ایڈوانس کے نام پر لائے جاتے ہیں اور دن کو مشینوں کی طرح کام کرکے رات کو مسلح افراد کی نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ سندھ میں بعض سیاسی گروپ ان مقروض بھٹہ مزدوروں کو انجمن سازی کا حق دلوانے کی بجائے عدالتوں میں مقدمات داخل کرکے نجی جیل کے نام سے رہائی دلوانے کو کارنامہ قرار دیتے ہیں اور رہائی پانیوالوں کی جگہ بھٹہ مالک نئے نیم غلام لاکر کام جاری رکھتا ہے اس پورے عمل میں لیبر ڈیپارٹمنٹ یا صوبائی حکومت کسی سطح پر بھی کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔
ہر سال وفاقی اور صوبائی حکومتیں کم از کم اُجرت میں ایک ہزار روپیہ اضافہ کا اعلان کرتی ہیں مگر اس اعلان پر عملدرآمد کو شاید اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ چھوٹے کاروباری ادارون بیکریوں ،پیزا ہاوس، ہوٹلوں، گھروں اور دکانوں میں لوگ 6ہزار سے 8ہزار ماہانہ پر کام کرتے ہیں ۔پرائیویٹ اداروں میں عملاً مزدوروں کو انجمن سازی کا حق حاصل نہیں ہے بلکہ کارخانے داروں نے ایک سے زائد یونین بنواکر محکمہ لیبر کی مدد سے کاغذات میں سی بی اے بھی بنارکھے ہیں۔ ان حالات میں ملک کے عوام اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ تبدیلی کا خواہشمند تھا جس نے امیدوار کو دیکھے بغیر تبدیلی کے حق میں ووٹ ڈالاہے۔ اب تبدیلی کے پر جوش نعرے لگانے والے خان صاحب کا امتحان ہے کہ اس کے نزدیک تبدیلی اقتدار کے حصول تک محدود رہے گی۔ سابقہ حکومت کے رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے پروپیگنڈہ اور انکوائریوں سے عوام کے دل بہلائے جائیں گے ۔نواز شریف اور زرداری کے خلاف الزامات کو میڈیا پر شہہ سرخیوں سے عوام کو خوش رکھا جائے گا۔ کیا EOBIکی پنشن 5250اورکم از اُجرت 16000روپے سے دوبچوں کا خاندان زندہ رہ سکتا ہے؟ کیا کوئلے اور بھٹہ خشت میں کام کرنے والوں کو انسانی بنیادی حقوق مل سکیں گے ۔ یااس کاروبار کے طاقتور علاقائی سرمایہ داروں کو حکمران پارٹی میں شامل کرکے روایتی طورپر ان کے ظلم کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ کیا ملک کی انڈسٹری میں لیبر قوانین کو غیر موثر بنانے کے لیے رائج الوقت ٹھیکیدار سسٹم کو ختم کرکے لیبر قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ یا میڈیا پر درخت لگانے کا افتتاح اور انتقامی کارروائیوں کو تبدیلی کہا جائے گا۔ سندھ میں بااثر لوگوں نے کھلے عام جنگلات کاٹ کر کچہ کے علاقے میں اربوں روپے کی زمینوں پر قبضے کیے۔ کسی نے آج دن تک اس کا نوٹس نہیں لیا کیا اب جو درخت لگائے جائیں گے کیاان کا تحفظ ہوسکے گا؟ یا ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ہمیشہ علاقائی طورپر بااثر اور طاقتور لوگ پہاڑوں سے درختوں کو کاٹ کاٹ کر دولت بناتے ہیں ۔
وزیراعظم کے گرد اس وقت جو لوگ جمع ہیں ان کے سابقہ سیاسی کردار اور تبدیلی متضاد باتیں لگتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا وزیر خارجہ موجودہ حکومت میں بھی وزیر خارجہ ہے اسی طرح جو آج خان صاحب کے گردجمع ہوئے ہیں ان کے سیاسی کردار سے عوام کسی حدتک واقف ہیں کہ وہ تبدیلی والے نہیں اسٹیٹس کو والے رہے ہیں ۔ اس وجہ سے لوگ عملاً تبدیلی آنے تک صرف نعروں پر یقین نہیں کریں گے خصوصاً مزدوروں کو ایک فیصد بھی تبدیلی کا یقین نہیں آتا۔ اس کے برعکس پاکستان کے صنعتی حب کراچی کے مزدوروں کے حالات میں تبدیلی کے بعد ہی ملک کے دوسرے صوبوں کے محنت کشوں کے حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد لیبر قوانین صوبائی معاملہ بن چکا ہے۔ سندھ میں تیسری بار پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی ہے مگر کراچی کے صنعتی حب سے انتخابات میں اس کوکامیابی نہیں ملی۔ کیونکہ محنت کشوں نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اب سندھ کی حکمران جماعت کو مزدور دوستی کے نعروں کا پاس رکھنا ہوگا۔ زرداری صاحب اور اس کے فرزند بلاول بھٹو زرداری صاحب جمہوری ذہن رکھنے والے زیر ک سیاستدان مزدور طبقے کی بہتری کے لیے ضرور سوچیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ