سنکیانگ چین کا افغانستان بن سکتا ہے

346

12 اگست 2018ء کے اخبارات میں اقوام متحدہ کی ’’انسانی حقوق کمیٹی‘‘ کی رپورٹ شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ چین میں ایغور اقلیت (مسلمان) کے تقریباً 10 لاکھ افراد کو ایک بہت بڑے حراستی کیمپ میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے سیاسی نظریات کو تبدیل کرانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے، نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی کی خاتون رکن مکڈوجل کا مزید کہنا تھا کہ موصول ہونے والی باوثوق رپورٹوں نے گہری تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ چین کے ایغور مسلمانوں کے اس خود مختیار علاقے کو حقوق سے ممنوع علاقہ شمار کرتے ہوئے مکمل طور پر مخفی رکھا گیا ہے۔ سنکیانگ کے علاقے میں مسلمانوں کی علیحدگی پسندی کا رجحان ہے، چین میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2017ء میں چین میں ہونے والی مجموعی گرفتاریوں میں 21 فی صد سنکیانگ کے علاقے میں ہوئیں اور مزید یہ کہ چین میں ایغور اقلیت اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ نسلی اور مذہبی شناخت کی وجہ سے ریاست دشمنوں جیسا سلوک کررہی ہے۔ مصر اور ترکی سے حال ہی میں واپس آنے والے 100 سے زاید ایغور مسلم طلبہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر دوران حراست تشدد سے انتقال کرگئے جب کہ یہاں یہ بات بھی معلوم رہے کہ 10 جون 2018ء کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوچکی ہے کہ نامور ایغور عالم دین شیخ صالح ہاجم دوران حراست انتقال کرگئے۔ ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناطولیہ کے مطابق ’’ورلڈ ایغور کانگریس‘‘ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شیخ صالح ہاجم جن کی عمر 82 برس تھی اور 2017ء سے چینی حکومت کے حراستی کیمپ میں قید تھے جہاں ان کا تشدد اور ناروا سلوک کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ممتاز عالم دین کو ایسے وقت پر شہید کیا گیا جب چینی حکومت ایغور مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے مشرقی ترکستان میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کررہی تھی جب کہ لاکھوں مسلمانوں کو ایسے حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے جہاں زبردستی ان کے اسلامی نظریات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
چین میں 2 کروڑ 30 لاکھ مسلمان آباد ہیں جن میں بڑی تعداد ایغور مسلمانوں کی ہے۔ جولائی 2009ء میں ایغور مسلمانوں اور ہان نسل کے چینی باشندوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں تقریباً 200 لوگ مارے گئے تھے۔ سنکیانگ صوبے میں ایغور مسلمانوں کی آبادی 45 فی صد ہے، سرکاری طور پر سنکیانگ کا شمار تبت کی طرح خود مختیار علاقے کے طور پر ہوتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو نہ صرف حراست میں رکھا جارہا ہے بلکہ انہیں انسانی اور شہری حقوق سے محروم رکھتے ہوئے تشدد کا بھی سامنا ہے، ان کے عقیدے اور مذہبی شناخت کو بھی نشانہ بنالیا گیا ہے۔ دفتری اوقات میں نماز اور تلاوت قرآن پاک کی اجازت نہیں، ڈاڑھی رکھنے اور حجاب پہننے کی بھی اجازت نہیں، مساجد پر چین کا جھنڈا لہرانے اور صدر کی تصویر آویزاں کرنے کا حکم ہے۔ تازہ ترین خبر یہ بھی ہے کہ وائی ژو شہر میں واقع ایک 600 سالہ قدیم جامع مسجد کو گرانے کے لیے چینی حکومت نے نوٹس جاری کردیا ہے۔ 9 سفید گنبدوں اور چار میناروں والی اس تاریخی مسجد کو شہید کرنے کے نوٹس پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
عوامی جمہوریہ چین اسلامی جمہوریہ پاکستان دیرینہ اور آزمودہ کار دوست ہیں۔ جیسا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ بیجنگ کے دورے کے دوران چینی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ’’پاکستان کا کوئی متبادل نہیں‘‘۔ اِسی طرح ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ ’’پاک چین دوستی لازوال ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں‘‘ تاہم ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوست سے محبت اور دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ دوستی کو کسی حادثے اور کسی مشکل میں مبتلا ہونے سے پہلے مخلصانہ مشورہ دینے کا حق اور فرض ادا کردینا چاہیے۔ چین کے داخلی قوانین کیا کہتے ہیں اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں کیوں کہ ہر ملک کا داخلی نظام اور نظریات اس کا اندرونی معاملہ ہے جس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی، تاہم بعض امور ایسے ہیں جن میں عالمی برادری رنگ و نسل کے فرق سے بالا تر ہو کر سوچتی ہے، جس کے لیے بے لاگ انصاف اور انسانی حقوق کا تحفظ ضروری ہے جب کہ عالمی برادری میں تمام مذاہب کے بارے میں بھی ادب اور احترام کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے کیوں کہ مذہب انسانی فطرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دعوت و تبلیغ کے ذریعے کسی شخص کو اپنے پسندیدہ مذہب کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے تاہم دین اسلام میں اس کی بھی اجازت نہیں کہ کسی مسلمان کو مرتد بنانے کی کوشش کی جائے، کیوں کہ مسلمانوں کے نزدیک ’’اسلام‘‘ ہی آفاقی دین ہے اور حضور اکرمؐ خاتم النبیینؐ ہیں جن کے وصال کے بعد قیادت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔ لہٰذا عقل اور فطرت کے تقاضوں کے مطابق دنیا کے تمام انسانوں کو ’’اسلام‘‘ کی دعوت قبول کرلینی چاہیے لیکن اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو ’’اسلام‘‘ کسی پر زبردستی مسلط نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی غیر مسلم کو کسی حراستی مرکز میں لے جا کر زبردستی اُس کا سیاسی یا مذہبی نظریہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
چین کی حکومت نہ صرف ’’پاکستان‘‘ کی دوست ہے بلکہ عالم اسلام کے ساتھ بھی اس کے تعلقات انتہائی دوستانہ اور خوشگوار ہیں۔ 60 ارب ڈالر کا ’’سی پیک منصوبہ‘‘ پاکستانی معیشت کی شہہ رگ ہے جب کہ جولائی 2018ء میں ’’چین عرب تعاون فورم‘‘ سے بیجنگ میں صدر شی جن پنگ نے خطاب کرتے ہوئے فلسطین سمیت جن عرب ممالک کو اربوں ڈالر کی امداد اور قرضہ دینے کا جو اعلان کیا وہ یقیناًیاد رکھنے جیسا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی ضرور افسوس ہوا کہ میانمر میں جس طرح سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، ان کے گھر اور دیہات جلائے گئے، ہزاروں مسلمان عورتوں کی آبروریزی کی گئی، معصوم بچوں تک کو انتہائی بے ددردی سے قتل کردیا گیا، لاکھوں مسلمان اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے، دنیا اس ظلم پر چیخ اُٹھی، اقوام متحدہ نے کئی بار مذمت کی، یو این او اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے روہنگیا مہاجرین سے براہ راست ملاقات کرکے مظالم کی تصدیق کی تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں سے واحد ملک چین تھا جس نے میانمر کی بے شرم حکومت، بے رحم فوج اور بے غیرت بدھ بھکشوؤں کی مذکورہ دہشت گردی کی نہ صرف بھرپور حمایت کی بلکہ روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ میانمر کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے میانمر حکومت کو مکمل تعاون اور امداد دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
چین کے حکمران، تھینک ٹینک، دانشور اور کمیونسٹ پارٹی یقینااس بات سے آگاہ ہوں گے کہ سیاسی اور مذہبی نظریات کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ سیاسی نظریات کی ترجیحات کو مفاد عامہ اور قومی مفاد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے تاہم مذہبی احکامات اور طے شدہ اصولوں کو بدلا نہیں جاسکتا۔ چین کے سیاسی نظریے کے مطابق بیجنگ حکومت ’’واحد چین‘‘ کے اصول کا دفاع کرتی ہے۔ لہٰذا اس اصول کے تحت ’’تائیوان‘‘ کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور تائیوان کو بھی چین کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ 1949ء میں ماوزے تنگ کے اقتدار سے بغاوت کرتے ہوئے بعض حکومتی ارکان ’’تائیوان‘‘ فرار ہوگئے اور جزیرے پر اعلان آزادی کرکے ’’تائیوان‘‘ کی الگ حکومت قائم کردی گئی جسے ’’نیشنلسٹ چین‘‘ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، تاہم چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اس پر اس کا دعویٰ برقرار ہے مگر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سیاسی نظریات میں تو بیجنگ حکومت انتہائی سخت گیر واقع ہوئی ہے لیکن مذہبی نظریات جن پر جان بھی قربان کی جاسکتی ہے اُن کو حراستی مراکز میں لے جا کر زبردستی تبدیل کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امریکا کہتا ہے کہ چین عالمی طاقت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے جب کہ مسلمان اس خواب کی تعبیر چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امریکا اور روس کے مقابلے میں اگر عالمی طاقت کے چبوترے پر چین بیٹھ جائے تو زیادہ خوشی ہوگی اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چین ’’عالمی امن‘‘ کے لیے امریکا، روس اور برطانیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنجیدہ اور قابل بھروسا ہے کیوں کہ چین کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسی نہیں وہ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے ذریعے دنیا کی ترقی میں مدد ضرور دینا چاہتا ہے مگر کسی ملک یا خطے پر وارسا پیکٹ اور ناٹو کی طرح کا کوئی ’’فوجی قبضہ‘‘ نہیں کرنا چاہتا تاہم چین کو ’’مذہب‘‘ کے معاملے میں بڑی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ ’’اسلام‘‘ کے خلاف چینی قیادت کو اپنے سخت گیر موقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا اگر ’’چین‘ ایسا نہیں کرے گا تو اُسے بڑی مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ کی حالیہ اشاعت میں سنکیانگ کے مسلمانوں پر سخت پابندیوں کے دفاع میں یہ جو لکھا گیا ہے کہ ’’چین میں کوئی مذہب قانون سے بالاتر نہیں اور ہر مذہب پر اس کا احترام لازمی ہے‘‘ الٹی کلہاڑی چلانے کی کوشش کی گئی ہے جس کا زیادہ زخم وار کرنے والے ہی کو آئے گا کیوں کہ قدیم اور جدید دنیا کا یہ تسلیم شدہ اصول ہے کہ مذہب قانون کا احترام کرے، اس سے پہلے خود قانون کو مذہب کا احترام کرنا ہوگا، جہاں تک اخبار کا یہ کہنا ہے کہ ’’سنکیانگ کو چین کا لیبیا یا شام نہیں بننے دیا جائے گا‘‘ تو اس پر اخبار اور اس کے سرپرستوں سے ہماری گزارش ہے کہ ممکن ہے آپ سنکیانگ کو چین کا لیبیا یا شام بننے سے روک رہے ہوں لیکن دوسری طرف آپ سنکیانگ کو چین کا ’’افغانستان‘‘ بنانے کی نادانستہ کوشش ضرور کررہے ہیں۔ چین اور اس کا صوبہ سنکیانگ افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ افغانستان کے اندر موجود ’’جہادی کلچر‘‘ یہ کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ اُس کے پڑوس میں لاکھوں مسلمان دوران نماز گھسیٹے جائیں، ان کی ڈاڑھیوں کو نوچا جائے، ان کے ہاتھوں سے قرآن پاک چھین لیے جائیں، ان کی خواتین کے حجاب زبردستی اُتار دیے جائیں، مسجدوں پر کمیونسٹوں کی تصویریں آویزاں کی جائیں، گنبد گرائے جائیں اور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں تشدد سے قتل کیا جائے۔
اس طرح کی صورت حال سے جہاں تمام عالم اسلام کو صدمہ پہنچے گا وہیں پر پاکستان اور افغانستان کے اندر بھی اس پر شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ پاکستان میں ممکن ہے کہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے محض احتجاجی مظاہرے ہوں جو آگے چل کر پاک چین دوستی اور سی پیک منصوبے کے لیے بھی نقصان دہ ہوں، تاہم افغانستان کے عوام، مجاہدین اور طالبان کا ردعمل دیگر مسلم ممالک سے مختلف ہوگا جو اپنی تاریخ کو دہرائے گا یعنی جن افغان مسلمانوں نے تاج برطانیہ اور کمیونسٹ سوویت یونین کی طاقتور اور بے رحم فوجوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا جب کہ گزشتہ 17 برس سے امریکی کمان میں ناٹو کی جدید ترین فوج بھی افغانستان میں اپنے زخم چاٹ رہی ہے تو ایسے میں اگر افغان مسلمانوں نے ’’جہاد‘‘ کا رُخ سنکیانگ صوبے کے مسلمانوں کی مدد کے لیے پھیر دیا تو پھر کیا ہوگا؟؟۔ اس ایک سوال اور پیش آمدہ ممکنہ صورت حال پر چینی قیادت اور کمیونسٹ پارٹی کو اچھی طرح سے غور کرلینا چاہیے جب کہ ہمارے چینی دوستوں، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو ہمارے اس جملے پر بھی ضرور توجہ دینی اور تجزیہ کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ ’’ایک مسلمان عقیدے پر دوستی تو قربان کرسکتا ہے مگر عقیدہ دوستی پر ہرگز قربان نہیں کرسکتا‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email