بے ہنر بھیک تک نہ پائے گا

194

حبیب الرحمن

کوئی دن یہ ضرور آئے گا
بے ہنر بھیک تک نہ پائے گا
یہ بات تقریباً دو صدی یا اس سے کچھ قبل کہی گئی تھی سو آج ہم جگہ جگہ دیکھ رہے ہیں۔ کسی بھی سگنل پر گاڑی کو بریک لگانے پڑیں۔ سیکڑوں بچے بڑے آپ کی جانب دوڑ لگاتے نظرآتے ہیں۔ جھاڑو، پونچھا، کتابیں، کمربند، وائیپر اور نہ جانے کیا کیا ہاتھ میں پکڑے اور گاڑی کی صفائی، اسکرین کی ستھرائی، قرآنی آیات، بچوں کے کھلونے، دینی کتابیں، رنگین رسالے اور نہ جانے کیا کیا لیے نہایت مہذب زبان میں آپ سے اول اول ان کے خریدنے کی ضد کرتے ہیں ورنہ خریدنے سے معذرت پر امداد کی التماس کرتے ہیں اور جب وہ آپ سے التماس کرتے ہیں تو ایک لمحے کے لیے آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ خوش شکل و خوش لباس اچانک گداگر کا روپ کیسے دھار گئے۔ ان کی شکل و صورت اور خوش لباسی دیکھ کر پہلے پہل جو آپ کے دل میں ان سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہورہا ہوتا ہے کہ نہ جانے اچھے خاصے خاندان پر کیا بیتی ہوگی جس کی وجہ سے یہ نوبت آن پڑی کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر نکل کر ان کو اپنا رزق تلاش کرنا پڑرہا ہے لیکن جونہی وہ سب کچھ بھول بھال کر دستِ سوال دراز کرتے ہیں تو آپ کے دل و دماغ میں بنا ہوا وہ سارا کا سارا تصور ریزہ ریزہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب کبھی میں ایسے مراحل سے گزرتا ہوں تو مجھے مندرجہ بالا شعر یاد آجاتا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ دو صدی قبل کا یہ شعر کتنا سچا تھا جس کا مطلب اور مفہوم آج کے انسان کو خوب اچھی طرح سمجھ میں آرہا ہے۔ ممکن ہے کہ جس دور میں یہ شعر کہا گیا ہو اس دور کا انسان اس سوچ میں غرق ہو کہ کیا بھیک مانگنے کے لیے بھی ہنر مندی کی ضرورت پڑے گی؟۔
ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کہ ’’امریکا نے امداد نہیں بلکہ وہ پیسہ روکا ہوا ہے جو پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ پر خرچ کیا، یہ پیسہ امریکا ہمیں واپس کرنے کا پابند تھا، امریکا نے سابقہ حکومت کے دور سے ہی یہ فنڈ معطل کررکھا ہے، وضاحت ضروری سمجھتا تھا کہ ہم نے یہ سب اپنے ملکی مفادکے لیے کیا‘‘۔
اس بیان کو سامنے رکھا جائے تو سب سے پہلے تو عوام کو یہ سمجھایا جائے کہ دہشت گردی کی تعریف کیا ہے اور جو کارروائی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی اگر اس کا تعلق پاکستان سے تھا، پاکستان کے امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے سے تھا، ان کے خلاف کارروائیوں سے تھا جو پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے تو پھر اس بات کا جواب بھی عوام کو ملنا چاہیے کہ ان سب کارروائیوں کے لیے پاکستان کو امریکی امداد کی کیا ضرورت تھی؟۔ کسی بھی ملک میں دہشت گردی کو اسی ملک کی پولیس اور فوج ختم کیا کرتی ہے اور ایسے ادارے بنائے ہی اسی لیے جاتے ہیں وہ ہر قسم کی دہشت گردی، چوری چکاری کرنے والوں اور امن و امان کو خطرے میں ڈالنے والوں پر نہ صرف نظر رکھیں بلکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں کرکے معاشرے میں امن و امان کو بحال کرے۔ پاکستان میں آج تک عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش ہی نہیں گئی کہ جن د ہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ان کی شکل و صورت کیسی ہوتی ہے۔ ان کو کون پکڑ کر لے جاتا ہے، وہ زمین کے کون سے کونے میں پہنچا دیے جاتے ہیں، ان پر کس عدالت میں مقدمہ چلایا جاتا ہے، کون ان کی وکالت کرتا ہے، کس حال میں رکھا جاتا ہے اور وہ اچانک مردہ حالت میں کسی ویرانے، ندی، نالوں، اسپتالوں اور ایدھی کے سرد خانوں سے کیسے برآمد ہوتے ہیں اور ان کو مردہ حالت میں پہنچانے والے کون لوگ ہوتے ہیں؟۔ وہ علاقے جن پر بموں کی برسات ہوتی ہے ان میں بسنے والے مرد، عورتیں، بچے، بچیاں، بوڑھے اور بوڑھیاں کہاں سے آئی ہوئی ہوتی ہیں اور ان کے اسلحہ و گولہ بارود کے ذخیرے اچانک پہاڑوں سے بھی بلند کیسے ہوجاتے ہیں۔ جو طاقتیں ان کو تہہ و بالا کرنے میں مصروف عمل ہوتی ہیں کیا وہ ہماری سرحدوں کی نقل و حمل اور آمد و رفت سے اس درجہ غافل ہوتی ہیں کہ ان کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہوتی کہ تخریب کار اور ان کا سامان حرب و ضرب ملک کی سرحدیں پار کر کے پاکستان میں کیسے داخل ہو رہا ہے؟۔
بات سوچنے اور پوچھنے کی یہ ہے کہ اگر یہ ساری کارروائیاں صرف ان کے خلاف تھیں جو پاکستان کی ریاست کو خطرے میں ڈالے ہوئے تھیں اور ان کا تعلق خواہ ملک کے اندرونی دہشت گردوں سے تھا یا بیرونی حملہ آوروں سے تو اس کا امریکا سے کیا تعلق بنتا تھا جس کے لیے امریکا ان کے خلاف کارروائیوں کے لیے امداد دیا کرتا تھا اور جس امداد کو اب روک لیا گیا ہے۔ کیا ہمارے ملک کی صلاحیت اتنی نہیں تھی کہ اپنے ہی ملک میں اور اپنے ہی ملک کے خلاف دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ امریکا سے امداد لی جائے ورنہ بصورت دیگر ریاست کسی بھی بڑی تباہی کا شکار ہو سکتی تھی۔ تھوڑا سا اس تصویر کو الٹ کر دیکھا جائے تو ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکا آخر اس بات کے لیے کیوں مجبور تھا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کھربوں ڈالر ادا کرے؟۔ اگر اس نقطے پر غور کیا جائے تو جو نتیجہ نکلے گا وہ یہی ہوگا کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا نقصان پاکستان کو نہیں بلکہ امریکی مقاصد کو ہورہا ہوگا جس کی وجہ سے امریکا اس بات کے لیے مجبور ہوگا کہ وہ ’’مجاہدین‘‘ جو امریکا اور پاکستان کی نظر میں ’’دہشت گرد‘‘ کہلانے لگے ہیں، وہ ان تنصیبات کو اہداف بناتے ہوں گے یا ان مقاصد کو مجروح کرتے ہوں گے جن اہداف اور مقاصد کو امریکا افغانستان میں حاصل کرنے کا خوہش مند رہا ہوگا۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پھر یہی وہ سارے مجاہدین، خواہ کسی بھی نام سے متحرک ہوں، وہی ہوں گے جو روس کو افغانستان میں دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ جن مجاہدین (دہشت گردوں) کا روس کے خلاف جہاد کرنا کچھ اداروں کو بہت بھلا لگتا تھا ان کو امریکی سرکار کے آگے ڈٹ جانا کیوں برا لگا؟۔ کیا اس سوال کا جواب کوئی دینے کے لیے تیار ہے؟۔ اگر ایک پڑوسی اسلامی ملک میں روس کی مداخلت ناجائز اور قابل قتال و جہاد ہو سکتی ہے تو امریکی مداخلت کس طرح قابل برداشت سمجھی جا سکتی ہے؟۔
اگر میں غلط نہیں تو ہم نے امریکا کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی اجرت طلب کی جو امریکا نے اپنی مجبوری خیال کرکے پاکستان کو جاری رکھی تھی۔ اس زاویہ نظر کی روشنی میں گویا ہم نے ان تمام افراد کو گولہ و بارود کی نذر کیا جو کبھی ہمارے ایک اشارے پر دنیا کا ہر عیش و آرام ترک کرکے روس کے خلاف جنگ میں کود پڑے تھے۔ اس بات کی مزید بھی گہرائی میں جھانکا جائے تو معلوم ہوگا کہ روس کے خلاف ساری جد وجہد کے پیچھے بھی ہمیں (پاکستان کو) امریکی مفاد ہی عزیز تھا۔ جب امریکا کو اپنے مفادات حاصل ہوگئے تو ہمارے (پاکستان کے) مفادات بھی بدل گئے اور اب ہر وہ مقصد مقدم ہو گیا جو امریکا کی نگاہ میں عزیز تر تھا ورنہ جس طرح افغانستان میں روس کی مداخلت حرام اور ناجائز تھی بالکل اسی طرح افغانستان میں امریکی مداخلت بھی کسی صورت حلال نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس کو القاعدہ ہو یا طالبان، انہوں نے ماننے سے انکار کیا۔ انکار کی صورت میں امریکا نے ان کے خلاف کارروائیاں کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں پاکستان کی شرکت ضروری تھی اور یہی سبب بنا پاکستان کو امداد دینے کا۔
ہر پاکستانی خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پالیسی بھی بدلنا شروع ہوئی۔ پاکستان نے اپنے ہی ہزاروں مجاہدین (دہشت گردوں) کا خاتمہ کیا تو اسے احساس ہوا کہ اگر سارا پاکستان بھی قتل کردیا جائے تب بھی ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ ختم نہیں ہوگا۔ وہی بات جو ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی (ن) کہتی رہی اور جس کا مطالبہ تمام دینی جماعتیں کرتی رہیں کہ ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے اسی جانب لوٹ کر آنا پڑا اور جونہی القاعدہ اور طالبان کے بڑے بڑے رہنماؤں کو گلے لگانے (غلط اور درست کی بحث سے ہٹ کر) کا سلسلہ شروع ہوا ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوتی چلی گئی۔
پاکستان کے رویے کی تبدیلی امریکا کے لیے بری خبر بنی اور جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے جو امداد روک لیے جانے کی صورت میں آرہا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا فرمانا درست ہے کہ امریکا نے امداد نہیں ہمارا پیسہ روکا ہے لیکن کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ یہ پیسہ پاکستان کو کن افراد کو خون میں نہلانے کی صورت میں ملا کرتا تھا۔ کیا ایسا پیسہ ’’اپنا‘‘ پیسہ کہتے ہوئے کوئی غیرت اور شرم محسوس ہوئی ہے؟۔ اگر یہ پیسہ ’’ہمارا‘‘ ہے تو کوٹھے پر بیٹھی جسم فروشوں کی بھیڑ کی آمدنی سے بھی زیادہ ذلیل تر ہے۔ اس پر بجائے پچھتانے کہ جتنی جلد بھی لعنت بھیجی دی جائے بہتر ہے۔
پاکستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے نئی تبدیل شدہ حکومت کو اس کا ادارک ہو نہیں پا رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں امریکا پاکستان کے ساتھ جو کچھ کرتا چلا آرہا ہے وہ کبھی بھی اچھا نہیں رہا لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جو کمزور ہوتا ہے اسے قوت والوں کے ساتھ بہت محتاط ہو کر چلنا پڑتا ہے۔ پاکستان کسی بھی لحاظ سے اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ ہم سینہ تان کر سامنے آجائیں۔ شیر کی طرح بہادر ہونا بے شک بہت ضروری ہے لیکن اگر لومڑی کی طرح چالاکی کا مظاہرہ نہ کیا جائے تو صرف شیر جیسی بہادری سے کام نہیں چلا کرتا۔حکومت کو اس نزاکت کا احساس ہونا چاہیے اور اس نازک وقت میں اسے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ خاص طور سے بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں تو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکا سے جس قسم کی نئی صف بندی کرنی ہے کرے لیکن کیا ضروری ہے کہ اپنے تمام پتے کھول کر رکھ دے۔ امریکا سے عزت و احترام کے دائرے میں بات ضرور کریں لیکن کیا ضروری ہے کہ اس موضوع کو پبلک کیا جائے۔ سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کے لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ پہلے اس بات کا اداراک کیا جائے ہماری مجبوریاں کیا ہیں۔ ہماری خود کی کیا صلاحیت ہے۔ کس بات کی کتنی طاقت اور قدرت رکھتے ہیں۔ ہم جس سے دور ہونا چاہتے ہیں یا جس کی قربت ہمیں عزیز ہے خود اس کو ہماری ضرورت کس حد تک ہے۔ ہماری دوری یا قربت میں ہمارے مفادات کتنے پوشیدہ ہیں اور دور ہونے کی صورت میں ہم اْس کے مفادات کو کس حد تک زک پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب تک ان سارے اہداف پر ہماری مکمل دستر نہیں ہوگی اس وقت تک ہم کسی بھی پختہ معاہدے کی جانب قدم نہیں اٹھا سکتے۔ رہی یہ بات کہ ہر معاملہ برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اس میں کتنی ہی سچائی یا حقیقت ہو، ایسا عملاً کہیں بھی نہیں ہوتا۔ حد یہ ہے کہ خود ہم میں غریبی امیری میں اتنا بعد اور دوری ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی برابری تسلیم کرنے کو تیار نہیں جبکہ الحمد للہ ہم سب اپنے آپ کو پکا اور سچا مسلمان خیال کرتے ہیں۔ اس لیے ہونا تو ایسا ہی چاہیے جیسا کہا جارہا ہے لیکن ہمیں بھی اپنی جانب سے اس بات کی بھر پور کوشش کرنے چاہیے کہ ہم دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شمار ہونے لگیں۔ یہ بات بھی زیر نظر رہنی چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر طنزیہ باتوں سے کام نہیں چلاکرتا بلکہ نقطہ بہ نقطہ مذاکرات سے مقصد براری حاصل کی جاتی ہے۔ غالب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
نکالا چاہتا ہے کام طعنوں سے تو کیا غالبؔ
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
لہٰذا طعنے اور شکوے گلے نہیں بلکہ سنجیدگی اور بردباری کی اشد ضرورت ہے۔ اب وقت بتائے گا کہ آنے والے دنوں میں ہماری خاجہ پالیسی کس جانب گامز نظر آتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ