ہزاروں لوگوں کو ٹینکوں تلے کچلنے والا جرنیل السیسی فوجی اآمریت کے قبضے میں پارلیمنٹ نے مظاہرین کے قتل کے اقدام کو جائز قرار دے دیا تھا،وہی جرنیل اب موت کی سزائیں بانٹ رہا ہے

124

رپورٹ: الیاس متین

عالمی ادارے خاموش ہیں انہیں چار ہزار نہتے لوگوں کو ٹینکوں سے کچلنے والا مصری اآمر جنرل عبدالفتاح السیسی نظر نہیں اآتا اس کے زیر انتظام اور اس کی حکومت کی ماتحت عدالتوں سے اس قتل عام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو سزائے موت سنا دی گئی اس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے محض تشویش ظاہر کرکے رسم پوری کردی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصر میں ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا ہزاروں افراد کو ٹینکوں تلے روندا گیا، لاشوں کو جلا دیا گیا، لیکن ظلم یہ ہوا کہ اس پر احتجاج کرنے والوں کو قومی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات میں سزا ہورہی ہے اور ہزاروں افراد کو قتل کرنے کے مجرم جنرل سیسی کو کچھ نہیں کہا جارہا۔ واضح رہے کہ ہفتے کے روز مصر ی عدالت نے اخوان المسلمون کی جانب سے 2013ء میں احتجاجی مظاہروں کی پاداش میںاخوان کے 75افراد کو سزائے موت اور 47کو عمر قید کی سز اسنادی تھی۔ سزائے موت پانے والوں میں جماعت کے سرکردہ رہنما عصام عریان، عبدالرحمن بر، محمد بلتاجی، صفوت حجازی، عاصم عبدالماجد، طارق زمر اور وجدی غنیم شامل ہیں۔ عمر قید پانے والے اخوانی رہنما ؤں میں محمد بدیع اور عصام سلطان کا نام سر فہرست ہے۔ اسی طرح الجزیرہ کے ایک صحافی عبداللہ شامی کو 15سال قید کی سزا سنائی گئی۔ایک اور صحافی ابوزید المعروف شوقان کو 5برس قید کی سزا دی گئی حالاں کہ وہ پہلے ہی زندان میں 5برس گزار چکے ہیں۔ اخون المسلمون رہنماؤں پر الزام عائد کی گیا کہ وہ 5برس قبل احتجاجی دھرنوں میں سیکورٹی فورسزکی کارروائیوں میں 600افراد کی ہلاکت کے ذمے دار تھے۔تمام سزا یافتگان فوجداری عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔عدالت میں 739 افراد کے خلاف سکیورٹی سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے ، ہلاکتوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ میدان رابعہ عدویہ میں اخوانی کارکنان پر امن مظاہرے کررہے تھے کہ مصری فوج نے ان پر دھاوا بول کر خون کی ہولی کھیلی۔ شہید ہونے والوں میں بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ہیومن رائٹس کے مطابق مصری تاریخ میں اس سے زیادہ ہولناک واقعہ نہیں گزرا۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قومی املاک تباہ کرنے الزام میں جماعت کے 739کارکنان پر جرمانے عائد کیے۔ واضح رہے کہ 2013ء میں سابق صدر محمد مرسی کی غیر قانونی حراست کے خلاف قاہرہ میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیاتھا۔ 2012ء میں مصری فوج نے باقاعدہ الیکشن کے ذریعے منتخب ہونے والے آئینی صدر مرسی کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کے بعد استعماری طاقتوں نے کٹھ پتلی حکمراں عبدالفتاح سیسی کو صدارت سونپ دی تھی۔صدر مرسی کے بیٹے اسامہ بھی اخوان کے ان 22افراد میں شامل ہیں، جو10سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ 5قیدی دوران حراست تشدد کے سبب شہید ہوگئے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مجرموں کو سزا کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار ہے، تاہم پوری دنیا جانتی ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس سال کے اوائل میں مصری پارلیمان کے ذریعے رابعہ عدویہ پر دھرنے کے شر کاء کو ٹینکوں کے نیچے روندنے کے عمل کو جائز قرار دلوایا جاچکا ہے۔ یہ ایک پارلیمنٹ کی جانب سے جمہوریت کے نام پر انسانیت کی تذلیل کی بدترین مثال ہے۔ مصری رہنما فوجی اآمریت کی سختیاں جھیل رہے ہیں۔
سابق مصری صدر محمد مرسی کو صدر دسمبر 2012ء میں قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین پر فائرنگ کے معاملے کے ملوث ہونے کے الزام میں پہلے ہی 20 سال قید کی سزاسنائی جاچکی ہے۔مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر محمد مرسی اور دیگر 100 سے زائد افراد کو 2011ء میں ایک جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ہفتہ کو قاہرہ میں سنائے گئے عدالتی فیصلے کو توثیق کے لیے مفتی اعظم کے پاس بھیجتے ہوئے آئندہ پیشی کے لیے دو جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔قانون کے مطابق مجرم مفتی اعظم کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل کر سکتے ہیں۔مرسی مصر کے پہلے منتخب جمہوری صدر تھے لیکن جولائی 2013ء میں ان کے خلاف شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد فوج نے انھیں برطرف کر دیا تھا۔سابق صدر دسمبر 2012ء میں قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین پر فائرنگ کے معاملے کے ملوث ہونے کے الزام میں پہلے ہی 20 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ہفتہ کو ہی ملکی راز غیر ملکیوں کو فراہم کرنے کے ایک مقدمے میں مرسی تو سزائے موت سے بچ گئے لیکن ان کی جماعت اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت ہوئی۔ان پر الزام تھا کہ انھوں نے مرسی کے ایک سالہ دور اقتدار میں انھوں نے یہ خفیہ معلومات فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس اور لیبیا کی حزب اللہ کو فراہم کیں۔ واضح رہے کہ صدر مرسی کے دور میں مصر معاشی استحکام کی جانب سفر کررہا تھا۔ روزگار، صنعتوں کی پیداوار اور زرمبادلہ میں اضافہ ہورہا تھا لیکن حسنی مبارک کے سرپرستوں کو یہ گوارا نہیں تھا اس لیے مرسی کا تختہ الٹا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ