چیئرمین بورڈ کا دعوی باطل؛ اے ون گریڈ والے 128 بچے انعامی چیک سے محروم

118

بورڈ آف سیکینڈری: سائنس گروپ کے اے ون گریڈ سے کامیاب ہونے والے 128 بچے بھی انعامی چیک سے محروم ۔

چیئرمین بورڈ کا دعوی جھوٹا ثابت ہوا ۔
انہوں نے کہا تھا کہ سائنس گروپ کے اے ون حاصل کرنے والوں کو چیک بھیج دے دیے گئے  

 حکومت کی جانب سے دیے گئے  فنڈز کے 32 لاکھ روپے کہاں چلے گئے ۔

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن کراچی نے میٹرک کے امتحانات برائے 2017 میں اے ون گریڈ حاصل کرنے والے سائنس گروپ کے تمام طلباء و طالبات کو 25 ہزار روپے کے چیکس دینے کا دعوئ بھی جھوٹا نکلا ۔
سچ یہ ہے کہ بورڈ کی جانب سے تاحال سائنس گروپ کے  اے ون گریڈ میں کامیاب ہونے والے 128 طالبعلوں کو بھی  انعامی رقوم کے چیکس نہیں بھجوائے جاسکے۔
یہ رقم 28 لاکھ روپے بنتی ہے جس کا حساب واضح نہیں ہورہا ۔
جسارت کی تحقیقات کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے سال 2017 میں میٹرک کے تمام گروپس میں کامیاب ہونے والے طالبعلموں کو 25 ہزار روپے فی کس کے حساب سے  دینے کے لیے مجموعی طور پر 49 کروڑ 29 لاکھ 25 ہزار روہے حکومت سندھ سے حاصل کرلیے تھے ۔ لیکن بورڈ نے جنرل اور ڈیف گروپس کے کسی اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طالبعلم کو یہ انعامی رقم نہیں دی ۔
اس ضمن میں بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ” جو  فنڈز حکومت سے ملے تھے وہ ہم نے سائیس گروپ کے ایے ون گریڈ سے کامیاب ہونے والے تمام طالبعلموں کو چیک کی صورت میں تقسیم کرچکے ہیں ”  ۔
انہوں نے بتایا تھا کہ جلد ہی جنرل گروپ کے اے ون گریڈ حاصل کرنے والوں میں چیکس تقسیم کریں گے اس مقصد کے لیے حکومت سے مزید فندز جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
چیئرمین کا مؤقف اپنی جگہ لیکن سچ بات تو یہ سامنے آئی ہے کہ میٹرک بورڈ نے تاحال سائنس گروپ کے بھی 128 طالبعلموں کو تاحال 25 ہزار روپے کا انعام فراہم نہیں کرسکا ۔ ان 128 قابل طالبعلموں کے والدین ، سرپرست اور ان کے اسکولوں کی انتظامیہ نے براہ راست بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی سے رابطہ کرکے انعامی رقم کے چیکس نہیں ملنے کی بھی شکایات کردی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے طالبعلموں کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامی رقم دینے کا اعلان کرچکی ہے اور 19 ہزار 645 طالبعلوں کو انعامی رقم کے چیکس بھی دیے جاچکے ہیں تو آخر ان کے بچوں کو اس سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے ؟ ۔
نصرہ اسکول ہنس آباد رفاعی اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طالبعلم سید احسن علی ولد سید سرور علی کے والدین نے تصدیق کی ہے کہ ان کے بچے کو بھی تاحال انعامی رقم کا چیک نہیں مل سکا ۔
اسی طرح سائیٹ ماڈل گورنمنٹ گرلز سیکینڈری اسکول کی پرنسپل نے بتایا کہ ان کی طالبہ حمنہ اختر دختر شہزاد اختر کو بھی تاحال 25 ہزار روپے کا انعامی چیک نہیں مل سکا ۔
انعام کی رقم سے محروم رہ جانے والے سائنس گروپ کے طالبعلوں  کا تعلق ملت گورنمنٹ  گرلز اسکول کی تین طالبات فوزیہ ، مصباح اور عروبہ شاہین پبلک اسکول کے طالبعلم محمد ارشاد اور محمد محتشم، ڈی ایجوکیٹر کی طالبات طہورہ عاصم اور رجاب، الجوہر گرامراسکول کے عریب احمد شکیل اور محمد عدیل محفوظ بھی شامل ہیں ۔
یادرہے کہ بورڈ نے اپنی تیار کردہ رپورٹ میں سائنس گروپ کے  اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طالبعلموں کی تعداد 1880 بتائی تھی بعدازاں دیگر رزلٹ شیٹ میں  تمام گروپس میں اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طالبعلموں کی  تعداد بڑھاکر 19 ہزار 645 ظاہر کی گئی ۔
ان ہی اعداد و شمار سے حکومت نے ان طالبعلوں کی مد میں 49 کروڑ 11 لاکھ 25 ہزار روہے بورڈ کے سپرد کیے تھے ۔اس کے باوجود نہ تو سائنس گروپ کے تمام اے ون گرید سے کامیاب ہونے والے طالبعلموں کو بھی انعامی رقم کے چیکس جاری کیے گئے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر حکومت کے جاری کردہ فنڈز کہاں گئے۔
Print Friendly, PDF & Email
حصہ