پاکستان قائد اعظم کے وژن سے ہٹ چکا ہے، چیف جسٹس

162

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان قائداعظم کے تصورات سے ہٹ چکا ہے۔

سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان قائداعظم کے وژن سے ہٹ چکا ہے، بری حکمرانی اور ناانصافی معاشرے میں سرایت کرگئی ہے، بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے عدالت نے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، ڈیمز کی تعمیر کیلئے حکومت کو ہدایات دینا اہم ترین فیصلہ تھا۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ  گزشتہ عدالتی سال میں 19 ہزار مقدمات نمٹائے گئے، یہ شرح گزشتہ پانچ سال میں سب سے زیادہ ہے، غیر سنجیدہ مقدمہ بازی عدالت کے بوجھ میں بے حد اضافہ کرتی ہے، زیر التوا مقدمات نمٹانے میں التواء اور تاخیری حربے بھی رکاوٹ ہیں اور فراہمی انصاف کیلئے زہر قاتل ہیں۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ سال 36 ہزار 501 مقدمات دائر ہوئے جن میں سے 28 ہزار 970 نمٹائے گئے، فراہمی انصاف میں پاکستان 113 میں سے 106 ویں نمبر پر ہے، عدلیہ کو اپنی آزادی ہر قیمت پر برقرار رکھنی چاہیے ، انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔

صدر سپریم کورٹ بار کلیم خورشید نے کہا کہ ریاست مافیا سے عوام کو بچانے میں یکسر ناکام ہوچکی ہے، پاکستانیوں کے پانچ ارب ڈالر 1992 سے نجی بنکوں میں پڑے ہیں، اسٹیٹ بینک اور نجی بنکوں کے گٹھ جوڑ کے ذریعے عوام کو فائدہ نہیں ہونے دیا جا رہا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ