خطے میں امن کیلیے پاکستانی کوششوں کی حمایت جاری رہے گی،سعودی وزیروں کی آرمی چیف ،اسد قیصر سے ملاقات 

59
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سعودی وزیر عواد بن صالح کو یادگاری تحفہ پیش کررہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سعودی وزیر عواد بن صالح کو یادگاری تحفہ پیش کررہے ہیں

راولپنڈی /اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) سعودی عرب کے وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عوادبن صالحہ العواد نے آرمی چیف جنرل باجوہ ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اپنے پاکستانی ہم منصب چودھری فواد حسین سے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں امن کے لیے پاکستانی کوششوں کی سعودی عرب کی حمایت جاری رہے گی ، دونوں ممالک میں مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں، ریاض نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ ملکر کر کام کرنے کا خواہش مند ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہفتے کو سعودی عرب کے وزیر اطلاعات ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بات چیت کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی وزیر نے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط اور برادرانہ دو طرفہ تعلقات کو سراہا اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں میں سعودی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ سعودی وزیر نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بھی ملاقات کی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چودھری اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین تعلقات کو فروغ دینے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی اور پارلیمانی تعلقات کوفروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہر آزمائش پر پورا اترنے والے تعلقات موجودہ ہیں اور دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ اس موقع پر سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانی تارکین وطن اور سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے اپنے پاکستانی ہم منصب فواد چودھری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے حج کی بھر پور کوریج کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین میڈیا و فود کی سطح پر مزید تبادلوں کی ضرورت ہے تاکہ وژن 2030سے متعلق سعودی حکومت کا پیغام نوجوانوں تک پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ بتدریج تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور سعودی عرب پاکستانی ثقافت،فلموں اور سینما کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈرامے سعودی عرب میں دکھائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کی 70فیصد آبادی 30سال سے کم عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرے گا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ