گلستان میں امن جرگہ

146

 

 

برادرم لالہ محمد یوسف خلجی سیاسی و سماجی حوالے سے متحرک شخص ہیں۔ ایک لمبے عرصے سے معاشرے کے اندر قبائلی و خاندانی دشمنیوں، جھگڑوں اور تنازعات ختم کرنے کی دوڑ دھوپ میں لگے ہیں۔ اس ذیل میں کئی سنگین اور خونیں دشمنیاں ختم کرانے میں سرخرو ہوچکے ہیں۔ اس مقصدکے لیے بلوچستان امن جرگہ کے پلیٹ فارم سے سرگرم ہیں۔ مجھے یہ سن کر دلی خوشی ہوئی کہ لالہ یوسف خلجی ضلع قلعہ عبداللہ کے اندر قبائل کے درمیان امن و آشتی اور صلح کے لیے بھی اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ قبائلی معتبرین، علماء اور سادات کا تعاون شاملِ کار ہے۔ یادش بخیر قلعہ عبداللہ میں غبیزئی، حمیدزئی، سیگئی و شمشوزئی اور قرب و جوار کے علاقوں میں موجود دوسرے قبائل و خاندانوں کے درمیان سال ہا سال سے جاری دشمنیوں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد موت کا لقمہ بن چکے ہیں۔ بڑے بڑے قبائلی معتبرین، تعلیم یافتہ و ذہین افراد اور حسین وگبرو نوجوان جاہلیت کی اس آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ خاندان تو چھوڑیے قبیلوں کے قبیلوں کا آپس میں قطع تعلق ہے۔ آمد ورفت مشکل، نہ کسی کی خوشی میں جاسکتے ہیں نہ غمی میں شامل ہونا ممکن ہے۔ جگہ جگہ نجی مورچے بنے ہوئے ہیں۔ ہر لمحہ مخالف کے حملے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ گویا جیتے جاگتے، سمجھ بوجھ، اسلامی و قبائلی روایات کے حامل انسان قبیلوی رنجشوں و تنازعات کے عذاب میں مبتلا ہیں۔
لالہ یوسف خلجی پانچ سال سے ان بڑی دشمنیوں کو صلح میں بدلنے کی مساعی میں لگے ہوئے ہیں۔ چناں چہ اب انہوں نے 10ستمبر سے قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں صوبے کے دوسرے خیر خواہ معتبرین کے ہمراہ قناتیں لگا کر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بقول ان کے وہ چالیس روز تک وہاں بیٹھیں گے نہ کسی کا کھائیں گے نہ پئیں گے۔ فقظ التجا امن، خونیں تنازعات رفع اور صلح و آشتی کی کریں گے۔ لالہ یوسف نے مجھے بتایا کہ ان منطقوں میں ستائیس چھوٹی بڑی دشمنیاں اب تک چھ سو سے زاید زندگیاں نگل چکی ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس قیام و پڑاؤ کا مقصد وہاں کے عوام کو شعور اور تحریک دینا بھی ہے کہ وہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جنگ و جدل اور کشت و خون رکوانے میں اپنا کردار نبھائیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ لازمی و اہم فریضہ ہے۔ علماء و مشائخ، قبائلی عمائدین اسی طرح سیاسی جماعتیں و شخصیات کو اس فریضے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنی ذمے داریاں کما حقہ ادا کریں۔ ایک عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور اس سے وابستہ سرکردہ افراد دشمنیوں کی ان چنگاریوں کو اپنی سیاسی گروہی و شخصی مفادات کے لیے بھڑکاتے رہتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی یہ چنگاریاں ان کے نشیمن میں بھی آگ بھڑکا سکتی ہے۔ اکثر ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ محض کاروباری و دیگر تنازعات کو برادری و گروہی دشمنی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس پورے منظرنامے میں حکومتوں کی سنجیدہ ومثبت توجہ سرے سے رہی نہیں ہے۔ مسلح جتھے بڑی بڑی گاڑیوں میں آزادانہ گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ گویا انہیں مسلح رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ نیز سیاسی، سماجی و عوامی حلقے اعتراضات اُٹھا رہے ہیں کہ ان جتھوں کو عملًا پال پوس کر سرپرستی کی جاتی ہے۔ ان رویوں و پالیسیوں سے لامحالہ خون ریزی، تصادم اور قبائلی تنازعات کو ہوا مل رہی ہے۔ لہٰذا ذمے داری کا احساس عوامی حکومتوں، مسند اختیار و اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو کرنا چاہیے کہ کس طرح معاشرے کو ان عفریتوں سے چھٹکارہ دلایا جائے۔
غالباً اپریل 1990 میں گورنمنٹ کالج پشین کے چند اساتذہ کو دن دیہاڑے کالج کے احاطے سے اغواء کرلیا گیا تھا۔ ایک دوسرے مقام سے مزید سرکاری ملازمین کو اُٹھا لیا تھا۔ اغوا کاروں کے خاندانوں کا ایک فرد سندھ کے شہر حیدرآباد میں قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں قید تھا۔ یہ واردات ان کی رہائی کی خاطر کی گئی تھی۔ چناں چہ اس وقت کی حکومت نے احساس اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ میرے والد مولانا نیاز محمد درانی مرحوم کی سرکردگی میں جرگہ قائم کیا۔ جرگہ افغانستان کے علاقے غزنی اغواء کاروں سے ملنے گیا۔ ما بعد حیدرآباد میں مقتول خاندان سے راضی نامہ کرایا۔ اغواء کاروں کی فائرنگ سے ایک استاد جاں بحق بھی ہوا تھا۔ چناں چہ ان کے لواحقین سے بھی بخشش کرائی گئی۔ اس طرح بائیس ماہ بعد قضیہ حل ہوگیا۔ مغوی اساتذہ اور دوسرے سرکاری ملازم رہا کردیے گئے۔ یہ جرگہ ایسے ایام میں افغانستان گیا کہ جب غزنی خون جما دینے والی سردی کی لپیٹ میں تھا۔ چوں کہ مسئلہ انسانی جانوں کا تھا اور انہوں نے موسم کی سختی کے بجائے نیک مقصد کو پیش نظر رکھا۔ کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ حکومتیں اور دوسرے صاحبان اقتدار بھی اپنی ذمے داری و موجودگی کا احساس دلائیں۔ اگر حکومت اس صورت حال میں معاون بنتی ہے تو میرا کامل یقین ہے کہ لالہ یوسف خلجی اور ان کے رفقاء اس عظیم مقصد میں کامیاب ہوکر رہیں گے۔ اور لازم ہے کہ فریقین بھی اسلامی تعلیمات کو مد نظر رکھیں۔ فریقین کے لیے فتح و شکست کی سوچ و انا کے بجائے اختلافات سے باہر آنا یعنی صلح ہی با عزت راستہ ہے۔ یقیناًایسا کرنے میں فریقین کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں بس اپنے بھائیوں کے درمیان میل ملاپ کرایا کرو۔ (القرآن) رسول مہربان ؐ نے باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح کرانے کو روزہ اور زکواۃ سے افضل چیز قرار دیا ہے۔ رسول مبارک ؐ کو مسلمانوں کے درمیان صلح اور ان کے باہمی اختلافات رفع کرنے کا پاس و لحاظ رہتا تھا۔ ایک بار قبیلہ عمرو بن عوف میں جھگڑا ہوا تو آپ مصالحت کرانے اپنے اصحاب کرام کو ساتھ لے کر فوراً پہنچ گئے۔ صلح و مصالحت کرانے میں زیادہ وقت لگا یہاں تک کہ نماز باجماعت میں تاخیر ہونے لگی۔ سیدنا بلالؓ نے سیدنا ابو بکرؓ کو نماز کی امامت کے لیے کہا۔ نماز شروع ہونے کے بعد رسول اکرم ؐپہنچ گئے۔ لوگوں کے درمیان صلح کرانا تعلقات قائم کرانے میں اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ سیاست دان ووٹ مانگنے در در پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ لیکن اپنے اردگرد کو دشمنیوں اور رقابتوں کی وباء سے پاک کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ میں سمجھتا ہوں ہر وہ با اثر و باحیثیت شخص جو خود کو ان تنازعات سے لا تعلق رکھتا ہے معاشرے کا خیرخواہ نہیں ہے۔ گلستان میں امن جرگے کا پڑاؤ دراصل پشتون ولی کے ساتھ ایک اہم انسانی و اسلامی فریضہ ہے۔ حکومت، قبائل، علماء و سادات اور سیاسی شخصیات کو اس کار خیر میں جرگے کی مدد و معاونت کرنی چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ