امریکی وزیرخارجہ کا دورہ پاک و ہند کا تجزیہ

124

 

 

پاکستان جس اہم دور سے گزر رہا ہے کیا امریکی وزیر خارجہ کا اس اہم وقت میں چند گھنٹے کا دورہ پاکستان کے مسئلوں کو سننے، سمجھنے اور اس کا حل ڈھونڈ لینے کے لیے کافی تھا؟۔ ان چند گھنٹوں میں پاکستانی وزیر خارجہ سے بھی مذاکرات ہوئے جس میں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ان کی 17 رکنی ٹیم بھی شریک ہوئی۔ جس میں کے امورِ خارجہ کے ارکان، دونوں جانب کے آرمی چیف اور پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم بھی شریک تھے۔ پھر ایک دور وزیراعظم پاکستان سے اور ایک دور آرمی چیف سے ون ٹو ون ملاقات کا چلا۔ امریکی وزیر خارجہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ بھارت کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ نہ تو کوئی برتھ ڈے پارٹی تھی اور ناہی رسم حنا۔ یہ دو اہم ملکوں کے درمیان بہت اہم نوعیت کی ملاقات تھی جس میں افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو سامنے رکھ کر پاکستان کے مسائل پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا تھا اور ساتھ ہی ساتھ افغان امن کوششوں پر جو مشکلات پاکستان کو درپیش تھیں اور جو ’’خواہشات‘‘ امریکا کی تھیں ان سب پر سنجیدگی سے بات چیت کے لیے بہت ہی کم وقت تھا۔ اتنے مختصر وقت میں تو امتحانی پرچے میں درج 5 سوالات کے مفصل جوابات دینا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اس قسم کی دورے اور بیٹھکیں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ مذاکرات صرف زبانی نہیں ہوتے بلکہ ایک ایک لفظ ضبط تحریر کیا جاتا ہے۔ ذمے داران کے دستخط ہوتے ہیں تب کہیں جاکر کسی بھی بات کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ حالیہ امریکی بیانات کی روشنی میں جو بات بہت زیادہ واضح اور صاف صاف سامنے آتی رہی ہے اس میں دو پہلو بہت ہی نمایاں رہے ہیں۔ ایک یہ کہ ’’پاکستان کو ہمارا کہا ماننا پڑے گا‘‘ اور دوسرا پہلو یہ رہا ہے کہ ’’ہم نئی حکومت کچھ وقت دینا چاہتے ہیں‘‘۔ اگر ان دو نمایاں پہلوؤں کو درست مان لیا جائے تو پھر یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ پاکستان کے سامنے امریکا نے افغان امن کے سلسلے میں ایک پلان رکھ دیا ہوگا اور اس پلان کے سلسلے میں اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہوگی کہ ایسا کرنا ہے اور ایسا کیوں کرنا ہے۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ امریکا کے دل میں کچھ زیادہ ہی درد پاکستان کے لیے اٹھا ہوگا اور وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے لیے بہت زیادہ جذبات لیکر آیا ہوگا تو ان سے گزارش ہے کہ خواب دیکھنے کا پاکستانیوں نے ایک ہی شخص کو اختیار دیا تھا اور وہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال تھے۔ ان کے سوا سب پر خواب دیکھنے کی پابندی لگادی گئی تھی اس لیے وہ خواب غفلت سے باز ہی رہیں تو اچھا ہے۔ یہ بات میں یونہی نہیں کہہ رہا بلکہ میرے سامنے وہ ساری گفتگو ہے جو بیٹھکوں سے نمٹنے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی کی ہے۔ وہ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’اب ہم مزید بات چیت کے لیے خود واشنگٹن جائیں گے‘‘۔ اس جملے میں جو بات بین السطور ہے وہ ہے ’’دی گئی مہلت‘‘۔ جیسا کہ امریکا نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ ہم نئی حکومت کو کچھ وقت دینا چاہتے ہیں تو آخر کیوں؟۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کے سامنے ایک پورا پلان رکھ دیا ہے اور بس اتنا کیا ہے کہ اس پر غور و خوض کرنے کے لیے ایک وقت دیدیا ہے جس کے جواب کو لے کر وزارت خارجہ کا ایک وفد واشنگٹن جائے گا اور جو پرچہ سامنے رکھا گیا ان میں درج سوالوں کے جوابات ان کے سامنے رکھے جائیں گے۔ ایک جانب وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ ’’یہ تاثر غلط ہے کہ ’’ٹف ٹالکنگ‘‘ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈو مور کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ہوا
ہے‘‘۔ لیکن اس کے فوراً بعد کا جملہ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کا رویہ مثبت تھا‘‘۔ یہاں کوئی یہ سوال کرے کہ پاکستان کا رویہ مثبت تھا سے ان کی کیا مراد ہے۔ کیا اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ جس قسم کے منفی بیانات وہ اور ان کی حکومت دے دے کر عوام کی دل بستگی کا سامان کرتی رہی ہے وہ سب ’’ہوائیاں‘‘ ہی تھیں۔ اس بات کو تقویت ان کے فوراً بعد کے جملوں سے ملتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے پاکستان کا موقف پیش کیا، حقیقت پسندانہ موقف پیش کیا۔ میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے قوم کی توقعات بلند ہوں‘‘۔ اس میں نہایت غور طلب الفاظ جو ہوہ ساری کہانی کا نچوڑ ہیں غور کریں ’’میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے قوم کی توقعات بلند ہوں‘‘۔ اب خود ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پرویز مشرف کے بعد امریکا کے مطالبات کے آگے سرتسلیم خم کرنے کی یہ دوسری واردات ہے جس کے متعلق عوام کو یہ خوش فہمی ہے کہ یہ حکومت امریکا کے آگے ڈٹ گئی ہے۔
وزیر خارجہ کے بیانات میں بڑا تضاد ہے۔ ایک ہی سانس میں وہ جو بات کہتے رہے اسی بات کی تردید ان کے دوسرے سانس میں ادا ہونے والے جملوں میں بہت واضح انداز میں نظر آئی۔ مثلاً وہ ایک جانب فرما رہے ہیں کہ ’’ہم نے ان کی خواہشات کو بھی سمجھا اور اپنی توقعات اور خدشات ان کے سامنے رکھے‘‘۔ اس کے فوراً بعد وہ فرماتے ہیں کہ ’’ہمارا مقصد امن، استحکام، علاقائی وابستگی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کو اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے معاون بننا ہوگا‘‘۔ چند دن قبل یہی وزیر خارجہ تھے جن کا یہ دعویٰ تھا کہ امریکا نے ان کی امدادی رقم نہیں بلکہ وہ رقم روکی ہے جس پر معاہدے کے مطابق پاکستان کا حق تھا اور جب بھی بات ہوئی میں اس مسئلے کو ضرور اٹھاؤں گا لیکن ایک صحافی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا فرمانا تھا کہ ’’چوں کہ پاکستان کو ہمیشہ امداد طلب نہیں کرنی اس لیے اس حوالے سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ نیز ان کا کہنا تھا کہ 300 ملین ڈالر کی امداد روکنے کی خبر نئی نہیں تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس معاملہ پر بات نہ کی جائے کیوں کہ ہمارا تعلق صرف لینے دینے کا نہیں ہے‘‘۔ پاکستان کی نومنتخب قیادت سے ملاقات کے بعد امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو دلی میں ’’ٹو پلس ٹو‘‘ مذاکرات کے لیے روانہ ہوگئے۔ ان مذاکرات میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع شریک ہوں گے۔ امریکا کی طرف سے مائیک پومپیو اور جیمز میٹس اور انڈیا کی طرف سے سشما سوراج اور نرملا سیتھارمن، اس لیے انہیں ’’ٹو پلس ٹو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان حالات کشیدہ رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا نے ایران سے تیل خریدنے پر پابندیاں عائد کی ہیں لیکن ایران انڈیا کو تیل فراہم کرنے والے سرکردہ ممالک میں سے ایک ہے اور اس سے تیل کی خریداری اچانک بند کردینا انڈیا کے لیے آسان نہیں ہے۔ اس تمام تر کشیدگی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے اور دفاع کے شعبے میں امریکا سے انڈیا کی خریداری آئندہ برس اٹھارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ والمارٹ اور امیزون جیسی بڑی امریکی کمپنیاں انڈیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ یہ اٹھارہ ارب ڈالر کوئی قرض یا امداد کا حصہ نہیں۔ یہ سودا کاری ہے۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد میں پورے پاکستان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ امداد یا قرض پر لعنت بھیج کر قوم کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی تیاری کریں۔ یاد رکھیں کہ اس کے لیے پہل قوم کے لیڈروں کو کرنا ہوگی۔ آپ ایک قدم آگے بڑھائیں گے قوم دوڑ کر آپ کی جانب آئے گی۔ بات اب لولی پاپوں سے نہیں عملی اقدامات سے چلے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ