بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بھی بحال کریں

144

وزیر اعظم نے ڈیموں کی تعمیر کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں سے ڈالر بھیجنے کی اپیل کردی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیم کے پیسے کہیں اور خرچ نہیں ہوں گے۔ میں خود حفاظت کروں گا۔ وزیر اعظم نے خوفزدہ کرنے کے انداز میں قوم کو بتایا کہ 7برس بعد خشک سالی آنے والی ہے۔ ڈیمز نہ بنے تو اناج اگانے کے لیے بھی پانی نہیں ہوگا، قحط پڑ سکتا ہے آج سے کام شروع کررہے ہیں۔ سب کردار ادا کریں تو 5 برس میں ڈیم بن سکتا ہے۔ اب وزیر اعظم سے یہ سوال کون کرے گا کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے جو کام شروع کررکھا ہے اس کا کیا ہوگا۔انہوں نے بھی تو بڑی رقم جمع کی ہے تو پھر یہ نہ کہا جائے کہ آج سے کام شروع کررہے ہیں اور سابق حکومت نے جو اربوں روپیہ بھاشا ڈیم کی مد میں دیا تھا وہ کام کس نے شروع کیا تھا ۔درحقیقت ڈیم کے حوالے سے تازہ سرگرمی اور رقم جمع کرنے کا بنیادی کام تو عدالت عظمیٰ نے کیا ہے وزیر اعظم کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ عدالت عظمیٰ کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ یہ کام حکومتوں کے ہوتے ہیں اور عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس یہ کہہ بھی چکے ہیں کہ ڈیم بنانا عدالت کا کام نہیں۔ حکومت یہ ذمے داری لے لے۔ چنانچہ اب باضابطہ طورپر یہ کیا جائے کہ عدالت عظمیٰ کا فنڈ اور وزیر اعظم کا اعلان کردہ فنڈ یکجا کردیا جائے حکومتی سطح پر تمام سفارتخانوں کے ذریعے فنڈ جمع کیے جائیں تو اچھا ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم اس حوالے سے ماہرین سے بھی رجوع کرلیں ڈیم بنانے سے قبل ڈیم کے مقام اور اس سے متاثر ہونے والے علاقوں کے سروے بھی کیے جائیں کہ کس کا معاوضہ کیا دینا ہوگا ۔ کسی کو بے دخل تو نہیں کرناہو گا اور یہ بھی کہ اس کی آڑ میں بارسوخ لوگوں کو پانی دیا جائے اور غریبوں کو بے زمین کردیا جائے۔ اور یہ کہ ڈیم بننے میں حقیقتاً کتنا وقت لگے گا لیکن اعلانات اور پرجوش ردعمل سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ حکومت پر اعتبار کون پیدا کرے گا۔ یہ بات اہم نہیں اہم ترین ہے کہ پاکستان میں کسی حکومت پر قوم کا اعتماد کبھی قائم نہیں ہوا۔ میاں نواز شریف نے جس دور میں ایٹمی دھماکے کیے اور قرض اتارو ملک سنوارو مہم چلائی وہ کیوں ناکام ہوگئی ؟؟ حالاں کہ نواز شریف حکومت نے اسی دور میں ایٹمی دھماکا کیا تھا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا تھا لیکن امت مسلمہ اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنانے والے حکمرانوں کی اپیل پر بھی قوم نے قرض اتارو ملک سنوارو مہم میں اس کی اپیل پر کان تک نہیں دھرے۔اس کے علاوہ بھی جنرل پرویز ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے بھی بیرون ملک پاکستانیوں سے ملک میں سرمایہ کاری کی اپیلیں کی تھیں لیکن قوم نے جب سرمایہ کاری کی اپنے فیصلے کے تحت اور حالات کی مناسبت سے کی۔ 9/11 کے بعد جب عالمی سطح پر حالات خراب ہوئے اور امریکا و یورپ میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کو اپنے مال کے حوالے سے تشویش ہوئی تھی تو انہوں نے سرمایہ پاکستان منتقل کیا یہاں جائدادیں خریدنا شروع کردیں اور پاکستان میں جائداد کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ لیکن اس کی اپیل کسی حکومت نے نہیں کی تھی۔ لوگوں نے اپنے اعتماد پر جائدادیں خریدیں۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں جائداد کے حوالے سے بھی بڑے پیمانے پر دھوکے بازی ہوئی ہے اور اس میں سرکاری سرپرستی بھی جاری رہی۔ لہٰذا ڈیموں کی تعمیر کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں سے فنڈ لینے سے قبل ان کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ پندرہ بیس روز میں جوش جذبہ تو ضرور بہت پیدا ہوا ہے لیکن لاکھوں کروڑوں ڈالر دینے کے لیے جو اعتماد درکار ہے وہ ابھی نہیں ہے۔ حکومت کو ڈیموں کے لیے فنڈز سے زیادہ اعتماد کے حصول کا مسئلہ ہے۔ اب تک تو کوئی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دے سکی اس حوالے سے قانون سازی اور طریقۂ کار وضع نہیں کیا گیا ، تجربہ نہیں کیا گیا۔ اب الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یقیناًپاکستانیوں میں حکومت کے حوالے سے کچھ نہ کچھ اعتماد بحال ہوگا۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ چیف جسٹس نے اعلان کیا تھا کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر ڈیم بنائیں گے۔ لیکن وہ بھی جرمانے اور چندے پر آگئے۔ اب وزیراعظم بھی کرپشن کی رقم واپس لانے کے بجائے عوام پر ہی بوجھ ڈال رہے ہیں یومیہ 12ارب کی کرپشن روکیں، باہر سے لوٹا ہوا روپیہ لائیں، چندے کی چنداں ضرورت نہیں رہے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ