گیس نرخوں میں طے شدہ اضافہ

207

پاکستان میں تبدیلی کے حوالے سے اب کوئی دو رائے نہیں ہے کہ چہروں کی تبدیلی صرف وزیر اعظم ،صوبائی وزرائے اعلیٰ اور گورنروں کی حد تک ہے۔ صوبائی اور وفاقی وزارتوں میں اکثریت پرانے چہروں کی ہے۔ لیکن اس اعتبار سے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان میں عرصے کے بعد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی باریاں ٹوٹ گئی ہیں اور کوئی تیسری پارٹی اقتدار میں آئی ہے جو مسلم لیگ ق کی طرح وجود میں نہیں آئی بلکہ اپنا باقاعدہ وجود رکھتی تھی۔ یہ پارٹی کیسے انتخابات جیتی، دھاندلی کیا ہوئی اور کیا نہیں یہ بحث ابنی جگہ لیکن اب یہ حکومت میں ہے۔ پاکستانی قوم کو یہ بات اب شاید آسانی سے سمجھ آجائے کہ یہاں حکومتیں بدلنے سے کچھ نہیں بدلتا بلکہ ایجنڈا مستقل ایک ہی رہتا ہے چنانچہ یہ سمجھنے کے لیے سابقہ نگراں حکومت کے دور میں گیس کے نرخوں میں اضافے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے دباؤ پر بالآخر نئی حکومت نے عمل کر لیا۔ یہ عمل درآمد صرف ایک ہفتے کے لیے موخر کیا جاسکا یہ ایک طے شدہ اضافہ تھا۔ اس سے زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت تبدیلی والوں میں بھی نہیں ۔ گیس کے نرخوں میں 46فیصد اضافہ شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ قدرتی گیس پاکستانی زمین سے برآمد ہوتی ہے سو فیصد پاکستانی مصنوعات پر یہ اضافہ کس کے حکم پر کیا گیا ہے۔ ظاہر ی بات ہے ابھی تو آئی ایم ایف کے پاس قرضہ مانگنے گئے ہی نہیں لیکن اس سے قبل شرائط تسلیم کی جارہی ہیں ۔ بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا جاچکا ہے۔ یہ اضافے محض بلوں میں اضافے نہیں ہیں بلکہ ان کا براہ راست اثر صنعتی و تجارتی شعبے پر پڑے گا۔ سب سے پہلے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ مقامی مارکیٹ میں اشیاء مہنگی ملیں گی اور برآمد کنندگان کو غیر ملکی معیار برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اور اگر وہ اس کو برقرار کھیں گے تو ان کے پاس منافع نہیں بچے گا۔ اس کے نتیجے میں چور راستے کھولے جائیں گے اور حکومت کا ٹیکس مارا جائے گا۔ یا عالمی خریداروں کو دھوکا دینے کی کوشش کی جائے گی اس سے پاکستان کا نام بدنام ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ 15 روز میں حکمرانوں کو یہ کیسے سمجھ میں آگیا کہ گیس کے نرخ بڑھانا ضروری ہیں ۔ بات وہی ہے کہ جب پی ٹی آئی کامیاب ہوئی تو مجوزہ وزیر خزانہ اسد عمر نے بیان دیا کہ ملک کی معاشی حالت سابقہ حکمرانوں نے تباہ کر رکھی ہے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ پھر جب حکومت سنبھالی تو کہا کہ میں نے ایسا بیان نہیں دیا تھا۔ پھر کہا گیا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑا تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔ اور پارلیمنٹ کیا ہے، یہ سب جانتے ہیں ۔ اگر حکومت مدینہ جیسی ریاست بنا رہی ہے تو غیر ملکی اداروں سے پاکستان تیل، کوئلہ، گیس اور معدنیات برآمد کرنے کے ٹھیکے واپس لے کر تمام کام سرکار اپنے ہاتھ میں لے لے کیوں کہ معدنی وسائل مسلمانان پاکستان کی مشترکہ ملکیت ہیں ان پر غیر ملکیوں اور خصوصاً غیر مسلموں کا تصرف اور کنٹرول ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب ہے۔ جب او جی ڈی سی خود گیس اور پیٹرول نکالے گی تو پیداواری لاگت از خود کم ہو جائے گی۔ پھر عوام کو سستی گیس اور سستا پیٹرول بھی ملے گا۔ لیکن یہ کام کرے گا کون ؟ اس کے لیے بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے جو ابھی نہیں آئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ