امریکا: انتخابی مہم میں ٹرمپ کے معاون کو دھوکادہی پر قید

106
اربانا: سابق امریکی صدر بارک اوباما یونیورسٹی آف الینوائے میں تقریر کررہے ہیں
اربانا: سابق امریکی صدر بارک اوباما یونیورسٹی آف الینوائے میں تقریر کررہے ہیں

اربانا(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشیر جارج پپاڈوپولس کو روس کے ساتھ تعاون کے معاملے میں جھوٹ بولنے اور حقیقت چھپانے کے جرم میں14 روز قیدکی سزا سنادی۔ انتخابات میں روسی مداخلت کے خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کے وکلائے استغاثہ نے عدالت میں واضح کیا کہ تفتیشی عمل کے دوران پپاڈوپولس نے روسی ایجنٹوں کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے غلط بیانی کی۔ دوسری جانب سابق امریکی صد رباراک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محکمہ انصاف پر دباؤ ڈالنے اور ان کی متنازع پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ اوباما نے کہا کہ جس اقتصادی ترقی کی ٹرمپ بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں اور خود کو اس کا ذمے دار قرار دیتے ہیں، وہ در اصل اوباما کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ خوف کی سیاست اور ایک گروہ کو کسی دوسرے کے خلاف کرنا پرانی حکمت عملی ہے۔ ایک صحت مند جمہوریت میں ایسے ہتھکنڈے کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔ اوباما نے یہ تنقید ایک ایسے موقع پر کی ہے، جب 2 ماہ بعد امریکا میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات بطور ملکی صدر ٹرمپ کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اوباما کی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریر کے دوران سو گئے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اوباما ملک میں ہونے والی ترقی کا ذمے دار خود کو قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق صدر اوباما نے موجودہ صدر ٹرمپ کی ورجیننا میں گزشتہ برس ہونے والے پر تشدد واقعات پر رد عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم نازیوں کے ساتھ ہمدری رکھنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں۔ وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں باراک اوباما آیندہ چند ہفتوں کے دوران سیاسی طور پر کافی سرگرم رہیں گے۔ وہ ملک کے مختلف حصوں میں ڈیموکریٹ سیاستدانوں کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں میں شرکت کریں گے۔ ٹرمپ پر ان کی یہ تازہ تنقید اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ان تقاریب اور ریلیوں میں وہ کون سے نکات اٹھائیں گے۔
دھوکادہی پر قید

Print Friendly, PDF & Email
حصہ