ادلب پر شدید بمباری ، 5شہری ، درجنوں زخمی

91
ادلب: روسی اور اسدی فوجی کارروائی کے تناظر میں نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے لیے ترک سرحد پر باب الہویٰ گزرگاہ کے ساتھ خیمے لگائے جارہے ہیں‘ بے گھر خاندان پریشان بیٹھا ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے صوبے ادلب میں روس اور بشارالاسد کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر شدید بم باری کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق جنگی طیاروں نے صوبے کے مختلف دیہات پر بیرل اور دیگر بم گرائے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 5 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ حملوں کے نتیجے میں کئی مکانات اور دیگر املاک کے ساتھ ایک اسپتال بھی تباہ ہوگیا۔ یہ پُرتشدد کارروائیاں روس، ایران اور ترکی کے صدور کے درمیان ادلب میں جنگ بندی سے متعلق تہران میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیے گئے۔ مذاکرات میں ناکامی کے باوجود تینوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ ادلب کے تنازع کا صرف سیاسی حل ہی ممکن ہے۔ ایران، ترکی اور روس کے صدور کے درمیان ادلب کے مستقبل پر بات کرنے کے لیے جمعہ کے روز تہران میں اہم مذاکرات ہوئے۔ تاہم جنگ بندی پر تینوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ایران اور روس نے ادلب کو مزاحمت کاروں سے چھڑانے کے لیے فوجی آپریشن کی حمایت کی، جب کہ ترکی نے جنگ بندی کی اپیل کی۔ مذاکرات کے بعد تینوں صدور کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ ادلب صوبے کے تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں۔ اس مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالا جانا چاہیے۔ بیان کے مطابق ایران، ترکی اور روس کے صدور نے ادلب کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اس مسئلے سے آستانہ حکمت عملی کی طرز پر نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تینوں رہنماؤں کے مابین ملاقات کے بعد روسی صدر پیوٹن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے ادلب میں غیر جنگ زدہ علاقے میں تسلسل کے ساتھ مرحلہ وار استحکام کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات پر بات چیت کی ہے۔ ادلب میں ان مزاحمتی گروپوں کے ساتھ امن قائم کرنے کا بھی امکان ہے جو مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس علاقے میں بر سر پیکار گروپوں کے نمایندے عقل سے کام لیتے ہوئے مزاحمت ترک کر دیں گے اور ہتھیار ڈال دیں گے۔ اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے انہی مذاکرات کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک ادلب سے فرار ہو کر آنے والے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کی سکت نہیں رکھتا۔ اردوان نے مزید کہا کہ ادلب میں برسر پیکار عسکریت پسند گروپوں سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ ایک واضح پیغام تھا جس سے مہاجرین کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ ترک صدر نے اسد حکومت سے اپیل کی کہ وہ ادلب میں جنگ بندی کا اعلان کرے۔ اردوان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ادلب میں اسد حکومت کی جانب سے کارروائی نہ روکی گئی، تو یہ اس کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتا ہے، جو ایک انسانی المیے کو جنم دے گا۔ دوسری جانب شام کے شمال مشرقی شہر قامشلی میں کرد اور اسد نواز ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں میں 18 جنگجو ہلاک ہوگئے۔کرد ملیشیا نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر میں جھڑپوں میں اسدی فوج کے 11جنگجو اور 7 کرد مارے گئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسدی ملیشیا اور کردوں کے درمیان قامشلی کے نزدیک واقع ایک چیک پوائنٹ پر جھڑپ ہوئی ۔ کرد ملیشیا کا کہنا ہے کہ اسدی ملیشیا کی گشتی پارٹی نے ہمارے جنگجوؤں پر ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں سے پہلے حملہ کیا تھا۔اس کے جواب میں ہمارے جنگجوؤں نے بھی فائرنگ شروع کردی ہے۔ شامی مبصر کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوؤں نے چیک پوائنٹ پر ایک گاڑی پر سوار اسد نواز جنگجوؤں کو رکنے کا کہا تھا، لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا تھا۔ اس پر کردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ اس کے بعد دونوں نے اپنی اپنی کمک بلا بھیجی اور پھر ان کے درمیان خونریز جھڑپ ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ قامشلی شہر کے زیادہ تر علاقوں پر کرد ملیشیاؤں کا کنٹرول ہے، لیکن اسدی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا کا شہر کے ایک حصے اور ہوائی اڈے پر قبضہ ہے۔ اس سے قبل اپریل 2016ء میں ان کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔ان میں 17 شہری ، 10 کرد جنگجو اور 31 اسدی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم چند ایک روز کی لڑائی کے بعد ان میں جنگ بندی ہو گئی تھی۔
ادلب/ بمباری

Print Friendly, PDF & Email
حصہ