امریکا ادلب سے اپنی فوج ہٹالے ، روس کا انتبا ہ

148
ادلب/ تہران: شامی شہری نمازِ جمعہ کے بعد ممکنہ اسدی کارروائی کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں‘ ترکی، ایران اور روس کے صدور مذاکرات میں شریک ہیں
ادلب/ تہران: شامی شہری نمازِ جمعہ کے بعد ممکنہ اسدی کارروائی کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں‘ ترکی، ایران اور روس کے صدور مذاکرات میں شریک ہیں

ماسکو/ تہران/ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے امریکا کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ادلب میں تعینات امریکی فوجی دستوں کو فوری طور پر ہٹالے۔ یہ بات امریکی نشریاتی ادارے سی این این اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ انتباہ مزاحمت کاروں کے زیرقبضہ صوبے میں ممکنہ بڑے حملے کے تناظر میں دیا گیا۔ اس سے قبل امریکا نے ادلب پر حملے سے باز رہنے کے لیے بشار الاسد، روس اور ایران کو تنبیہ کرچکا ہے۔ امریکی صدر نے ادلب پر حملے کو انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی ادلب پر ممکنہ حملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی مندوب نیکی ہیلی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ادلب میں خطرناک کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جاسکتے ہیں، جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات کے روز 4 افراد اور 5 اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن پر شام میں اسد حکومت اور داعش تنظیم کے درمیان توسط اور دمشق کو ایندھن اور اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات تھے۔ امریکی وزارت کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور اداروں کے تمام اثاثوں اور املاک کو منجمد کر دیا گیا ہے، اور ان کے ساتھ امریکی شہریوں کا تجارتی لین دین ممنوع ہو گا۔ شام کے معروف تاجر محمد القاطرجی اور اس کی القاطرجی کمپنی پر الزام ہے کہ انہوں نے اسد حکومت اور داعش تنظیم کے درمیان وساطت کار بن کر کام کیا، تاکہ تنظیم کے زیر قبضہ اراضی سے ایندھن فراہم کیا جا سکے۔ اسی طرح امریکی یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ اس نے غذائی اشیا کی درآمد و برآمد کی سرگرمیوں کی آڑ میں اسد حکومت کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود بھی منتقل کیا۔ امریکی پابندیوں میں شام میں یاسر عباس نامی ایک وساطت کار بھی شامل ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یہ الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے ایران سے ایندھن اور اسلحہ کی درآمد اور اسدی فضائیہ تک منتقلی میں سہولت کار کردار ادا کیا۔ا س کے علاوہ امریکی وزارت خزانہ نے شام اور لبنان میں کام کرنے والی بعض کمپنیوں اور افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، کیوں کہ انہوں نے اسد حکومت کو تیل، ایندھن اور مائع گیس فراہم کی تھی۔ یہ معاملہ لبنانی کمپنی آبار پٹرولیم سروس، سونکس انوسٹمنٹ کمپنی اور نیسکو پولیمرز کمپنی کے علاوہ عدنان العلی اور فادی ناصر سے متعلق ہے۔ دوسری جانب ترکی، روس اور ایران کے صدور نے ادلب کے بحران پر بات کی ہے۔ طیب اردوان، ولادیمیر پیوٹن اور حسن روحانی نے جمعہ کے روز تہران میں ملاقات کی۔ صدر رجب طیب اردوان نے خبر دار کیا کہ ادلب میں حملے نقل مکانی، قتل عام اور انسانی المیہ کا موجب بنیں گے۔ ترک صدر کہا کہ ان کا ملک شام سے فرار ہو کر آنے والے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کی سکت نہیں رکھتا۔ اردوان نے مزید کہا کہ ادلب میں برسر پیکار گروہوں سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ ایک واضح پیغام تھا، جس سے مہاجرین کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ادھر سلامتی کونسل میں یورپی ممالک نے روس اور ایران سے شام میں جنگ بندی معاہدے پر عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ، فرانس، سوئیڈن، پولینڈ اور ہالینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ادلب میں فوجی کارروائی شہری آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
روس کا انتباہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ