غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی شہید‘ 200 زخمی

75
غزہ: سرحد پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر آنسوگیس شیلوں کی بارش ہورہی ہے‘ فلسطینی ٹرمپ کا پتلا نذرآتش اور تصویر پیروں تلے روند رہے ہیں
غزہ: سرحد پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر آنسوگیس شیلوں کی بارش ہورہی ہے‘ فلسطینی ٹرمپ کا پتلا نذرآتش اور تصویر پیروں تلے روند رہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) غزہ میں اسرائیل سرحد پرفلسطینیوں کے ہفتہ وار احتجاج میں صہیونی فوجیوں نے اندھادھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور 200زخمی ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔رفح میں اسرائیل فوج کی فائرنگ کی زد میں آکر17 سالہ بلال مصطفی خفاجہ سینے میں گولی لگنے سے شہید ہوگیا۔دوسری جانب اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی مقبوضہ وادی جولان کو شام کے حوالے کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اسرائیلی اخبار کودیے گئے ایک انٹرویو میں ڈیوڈ فریڈ مین کا کہنا تھا کہ امریکا کی آنے والی انتظامیہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کو منسوخ نہیں کرے گی۔ اگر کوئی حکومت ٹرمپ کے اعلان کو تبدیل کرے گی تو اس کے نتیجے میں بڑا تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔شام کی وادی جولان کے حوالے سے امریکی سفیر کا کہنا تھا جولان کی شام کو واپسی کا تصور بھی محال ہے۔ وادی جولان اب اسرائیل کا اٹوٹ انگ بن چکی ہے، جسے کبھی اسرائیل سے الگ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان کے خیال میں وادی جولان کی شام کو واپسی اسرائیل کی سلامتی کی ایک بڑی مصیبت میں ڈال سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں شام کی وادی جولان کو اسرائیل کا حصہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یادرہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس کو قابض اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیاتھا۔
فلسطینی شہید

Print Friendly, PDF & Email
حصہ