بغداد کے انتہائی حساس علاقے پر گولہ باری کی چھان بین

69
بصرہ: مظاہرین کے ہاتھوں نذرآتش کی گئی سرکاری عمارت سے شعلے اور دھواں بلند ہورہا ہے
بصرہ: مظاہرین کے ہاتھوں نذرآتش کی گئی سرکاری عمارت سے شعلے اور دھواں بلند ہورہا ہے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی حکومت نے بغداد میں سیکورٹی کے انتہائی حساس علاقے میں مارٹر فائر کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کردیا۔ شہر کے گرین زون میں ہوئے حملے کی تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا۔ نصب شب کو کیے گئے حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جب کہ ذمے داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔دوسری جانب عراق کے شورش زدہ شہر بصرہ میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری دفاتر نذر آتش کر دیے۔ بصرہ میں مسلسل چوتھے روز بھی پر تشدد مظاہرے ہوئے اور مشتعل لوگوں نے سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی۔ سرکاری ٹی وی اسٹیشن عراقیہ کو بھی نذر آتش کر دیاگیا اور حکمران جماعت دعویٰ پارٹی کے ہیڈکوارٹرز کو بھی جلا ڈالا۔مظاہرین نے عراق کی طاقت ور شیعہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے دفتروں کو بھی آگ لگائی اور بصرہ سے تقریباً 60 میل شمال میں حکما موومنٹ کے مرکز پر بھی دھاوا بولا۔مظاہرین شہر کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت نہ ہونے پر اپنی برہمی کا اظہار کر رہے تھے۔پیر کے روز مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک سیکورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں 9 مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔فوج کے 10 اہل کاروں کے بھی زخمی ہو نے کی اطلاعات ہیں جنہیں اسپتال ذرائع کے مطابق دستی بموں سے زخم آئے۔مظاہرین نے صوبائی حکومت کی کئی عمارتوں اور مقامی حکومت کے ہیڈکوارٹرز کو آگ لگا دی اور شہر کی مرکزی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔مقامی پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی عمارتیں شعلوں کی لپیٹ میں ہیں۔ مقامی عہدے داروں نے تشدد پر قابو پانے کے لیے شہر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔حالات قابو میں لانے کے لیے عراقی پارلیمان نے آج ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔ عراقی پارلیمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہنگامی اجلاس میں بصرہ میں صحت اور سماجی بحران کے حل پر غور کیا جائے گا۔ عراقی پارلیمان کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجے شروع ہوگا، جس میں وزیراعظم اور کابینہ کے تمام وزرا بھی شرکت کریں گے۔ اس سے پہلے مذہبی سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر نے پارلیمان کو آیندہ جمعرات تک بصرہ کے بحران کے حل کے لیے آخری مہلت دی تھی۔ بصرہ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کرفیو نافذ ہے، لیکن اس کے باوجود پر تشدد مظاہرے جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق پولیس کے ساتھ تصادم میں 9مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ بصرہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر مہدی تمیمی نے بتایا کہ پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے کئی شہری زخمی بھی ہوئے۔
بغداد/گولہ باری

 

Print Friendly, PDF & Email
حصہ